کراچی: رحمان ملک سینیٹ کے رکن منتخب

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

پاکستان میں وزیراعظم کے مشیرِ داخلہ رحمان ملک پارلیمان کے ایوان بالا یا سینیٹ کے بلا مقابلہ رکن منتخب ہو گئے ہیں۔

سینیٹر منتخب ہونے کے بعد کراچی میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے مشیر داخلہ رحمان ملک نے کہا کہ انہوں نے رکنیت سے مستعفیٰ ہونے کا فیصلہ اس لیے کیا تھا کیونکہ انہیں متنازع بنایا جا رہا تھا اور انہیں ہر جگہ نشانہ بنایا جا رہا تھا اور اس میں مسلم لیگ نون کے سربراہ میاں نواز شریف کا کرادر سب پر واضح ہے۔

انہوں نے دوہری شہریت کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ بیرون ملک مقیم پندرہ لاکھ سے زائد پاکستانیوں کو ووٹ اور دوہری شہریت کا بھی حق ہونا چاہیے۔

رحمان ملک کے بقول جس طرح دوہری شہریت کے معاملے کو منفی انداز میں پیش کیا گیا اب وہ سینیٹ، قومی اسمبلی اور اس سے باہر اس کو مثبت انداز میں پیش کریں گے۔

واضح رہے کہ رحمان ملک نے کراچی میں الیکشن کمیشن کے دفتر میں سینیٹ کی رکنیت کا انتخاب دوبارہ لڑنے کے لیے کاغذات نامزدگی جمع کروائے تھے تاہم ان کے مقابلے میں کسی اور امیدوار نے اپنے کاغذات جمع نہیں کرائے۔

مشیر داخلہ رحمان ملک نے دوہری شہریت کے معاملے میں سپریم کورٹ کی جانب سے رکنیت معطل کیے جانے کے بعد استعفیٰ دے دیا تھا۔

سپریم کورٹ نے دوہری شہریت کے حامل افراد کو پارلیمان کی رکنیت کے لیے ناہل قرار دیے جانے کی سماعت کے دوران جن کئی اراکین پارلیمان کی رکنیت معطل کردی تھی، اس وقت کے وزیر داخلہ سینیٹر رحمان ملک بھی ان میں شامل تھے۔

بعد ازاں رحمان ملک نے سپریم کورٹ میں ایک سند جمع کروائی کہ وہ برطانوی شہریت سے دستبردار ہوتے ہیں اور اب صرف پاکستان کے شہری ہیں۔

سندھ کے الیکشن کمشنر سونا خان بلوچ کا کہنا تھا کہ رحمان ملک نے ادارے کو ایسے ثبوت و شواہد پر مبنی کاغذات جمع کروائے ہیں جن کے بارے میں ان کا دعویٰ ہے کہ یہ ثابت کرتے ہیں کہ وہ اب برطانوی شہری نہیں رہے۔

اسی بارے میں