پنجاب پولیس کےافسران کے خلاف کارروائی کا حکم

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

صوبہ پنجاب کے شہر خانیوال میں خاتون کو اینٹیں مار کر سنگسار کرنے سے متعلق از خود نوٹس کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے پنجاب پولیس کے سربراہ سمیت کئی اعلیٰ پولیس افسران کے خلاف تین روز میں کارروائی کا حکم دیا ہے۔

عدالت نے وفاقی اور صوبائی حکومت سے کہا ہے کہ ان پولیس افسران کے خلاف تین روز کے اندر اندر کارروائی کرکے عدالت کو آگاہ کیا جائے۔

ان افسران میں آئی جی پنجاب حاجی حبیب الرحمن، ریجنل پولیس افسر ملتان ڈی آئی جی مبارک علی اطہر اور ڈی پی او وقار عباسی شامل ہیں۔عدالت نے مقتولہ کے خِاندان کو مکمل تحفظ فراہم کرنے کا حکم دیا ہے۔

سپریم کورٹ کا کہنا تھا کہ اس مقدمے میں پولیس نے علاقے کے بااثر افراد کو بچانے کی کوشش کی اور اس قتل کی ذمہ داری مقتولہ مریم بی بی کے شوہر سرفراز پر عائد کردی جسے اٹھارہ جولائی کو ہونے والے وقوعہ کے بعد اغوا کر لیا گیا تھا۔

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے پنچایتی فیصلے کے بعد قتل کی جانے والی خاتون کے واقعہ سے متعلق از خود نوٹس کی سماعت کی۔

انسپکٹر جنرل آف پولیس پنجاب حاجی حبیب الرحمن نے عدالت کو بتایا کہ شواہد سے یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ مریم بی بی کو اُس کے شوہر سرفراز نے اینیٹں مار کر ہلاک کیا ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ مذکورہ خاتون نے مقامی عدالت میں علاقے کے بااثر شخصیت راجہ حبیب اور اُن کے بھائیوں کے خلاف مقدمہ درج کرنے کے لیے عدالت میں درخواست بھی دائر کر رکھی تھی۔ اُنہوں نے کہا کہ یہ معاملہ مخالف کے کھیت سے گھاس کاٹنے سے شروع ہوا تھا۔

انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب نے عدالت کو بتایا کہ ملزم کی نشاندہی پر وہ رسی بھی برآمد کر لی گئی ہے جس سے اُس نے مریم بی بی کے گلے میں پھندا ڈال کر اُسے قتل کیا تھا اس کے علاوہ وہ اینٹ بھی برآمد کی ہے جسے ملزم نے مقتولہ کے سر پر مارا تھا۔

پنجاب پولیس کے سربراہ کا کہنا تھا کہ ملزم نے مجسٹریٹ کے سامنے اقبالی بیان بھی دیا ہے جس میں اُنہوں نے اپنی بیوی کو قتل کرنے کا اعتراف کیا ہے۔

عدالت میں پیش کیےگئے ریکارڈ کے مطابق ملزم سرفراز کے اقبالی بیان میں یہ کہیں نہیں تھا کہ اُس نے اپنی بیوی کو قتل کیا ہے اور اس کے علاوہ میڈیکل رپورٹ میں بھی اس بات کا کہیں ذکر نہیں ہے کہ مقتولہ کی موت گلہ دبانے کی وجہ سے ہوئی۔

بینچ میں موجود جسٹس جواد ایس خواجہ کا کہنا تھا کہ جب سرفراز نے اپنے بیان میں جُرم قبول ہی نہیں تو پھر اُسے گرفتار کیوں کیا گیا اور اگر وہ قصور وار ہے تو پھر مخالف فریق کے تین افراد کو گرفتار کرکے اُن کا جسمانی ریمانڈ کیوں لیا گیا۔

چیف جسٹس نے وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر حکومتی امور چلانا ایگزیکٹیو کی ذمہ داری ہے تو کیا حکومتی امور ایسے چلائے جاتے ہیں اور ایسے واقعات سے دنیا میں ملک کا نام بدنام ہو رہا ہے۔

سرفراز کے والد محمد صدیق نے عدالت میں بیان دیا کہ وقوعہ کے چار روز کے بعد اُن کی ملاقات اُن کے بیٹے سے کروائی گئی۔ اُنہوں نے کہا کہ ملاقات کے دوران پولیس اور علاقے کے بااثر افراد سرفراز پر دباؤ ڈال رہے تھے کہ وہ یہ قتل قبول کرلے ورنہ اُسے بھی قتل کردیا جائے گا۔

اُنہوں نے کہا کہ جب اُن کی بہو مریم متعلقہ تھانے میں رپورٹ درج کروانے کےلیےگئیں تو پولیس نے کہا کہ یہ چھوٹا معاملہ ہے اس کے لیے پنچایت بُلاکر معاملے کو حل کیا جائے۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ پولیس کسی بھی معاملے کو پنچایت میں بھیجنے کا کوئی اختیار نہیں ہے۔

محمد صدیق نے کہا کہ وزیر اعلی پنجاب نے بھی جائے حادثہ کا دورہ کیا تھا اور کہیں سے بھی اُنہیں اس بات کی تصدیق نہیں ہوئی کہ سرفراز اور اُس کی بیوی کے درمیان جھگڑا ہوا تھا۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ عدالت میں پیش کیےگئے ریکارڈ اور پولیس افسران کا عدالت میں دیا گیا بیان ایک دوسرے سے مطابقت نہیں رکھتا۔ عدالت کا کہنا تھا کہ بادی النظر میں اس مقدمے میں دوسرے فریق کو مقدمے کی تفتیش میں فائدہ پہنچانے کی کوشش کی گئی۔