پولیو مہم، خاصہ دار فورس کی خدمات حاصل

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption خیبر ایجنسی کی تحصیل باڑہ اور وزیرستان ایجنسی میں شدت پسند تنظیموں نے پولیو مہم پر پابندی عائد کر رکھی ہے

پاکستان کے قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں پولیو کے مرض پر قابو پانے کے لیے مقامی انتظامیہ نے مختلف چیک پوسٹوں پر تعینات خاصہ دار فورس کے اہلکاروں کی خدمات حاصل کی ہیں۔

خیبر ایجنسی کے پولیٹکل ایجنٹ مظہر زیب نے ایک بیان میں کہا ہے کہ پولیٹکل انتظامیہ نے ایجنسی بھر میں خاصہ دار اور لیویز فورس کے پینتالیس اہلکاروں کو پولیو مہم کی خصوصی تربیت دے کر ان کی خدمات محکمۂ صحت کے حوالے کی ہیں۔

شدت پسند تنظیموں کی مخالفت، پولیو مہم ملتوی

اس کے علاوہ تیس سے زیادہ مقامی افراد کو بھرتی کر کے پولیو مہم پر معمور کیا گیا ہے۔

پولیٹکل ایجنٹ کے بیان کے مطابق تحصیل لنڈی کوتل اور تحصیل جمرود میں پولیو مہم میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے تاہم تحصیل باڑہ میں جہاں شدت پسندوں کی مختلف تنظیمیں موجود ہیں وہاں پر پولیو مُہم میں مُشکلات کا سامنا ہے۔

خیبر ایجنسی میں ایجنسی سرجن ڈاکٹر اعظم خان نے بی بی سی کے نامہ نگار دلاورخان وزیر کو بتایا کہ خاصہ دار فورس کو تربیت فراہم کرنے کی وجہ سے پولیو مہم چلانے میں بہت مدد ملی ہے۔

انہوں نے کہا کہ تحصیل باڑہ میں جن علاقوں تک پولیو مہم چلانے والے ٹیمیں نہیں پہنچ سکتیں ان علاقوں میں موجود تمام چیک پوسٹوں پر تربیت یافتہ خاصہ دار فورس کے اہلکاروں کو تعینات کیاگیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption خاصہ دار فورس کی تربیت سے پولیو مُہم چلانے میں بُہت مدد ملی ہے: ایجنسی سرجن

ایجنسی سرجن کے مطابق چیک پوسٹوں پر تربیت یافتہ اہلکاروں کی موجودگی سے تقریباً ایک مہینے میں چار ہزار بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے میں کامیابی حاصل ہوئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ جن علاقوں تک شدت پسندی کی وجہ سے رسائی نہیں ہے ان علاقوں سے آنے اور جانے والے لوگوں کے ساتھ موجود بچوں کو پولیو کے قطرے پلاتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ جن خاصہ دار فورس کے اہلکاروں کو تربیت دی گئی ہے۔ ان کے بقول وہ پورا سال ان چیک پوسٹوں پر موجود رہیں گے اور ان کو وقفے وقفے سے تازہ پولیو ویکسین فراہم کی جائےگی۔

یاد رہے کہ خیبر ایجنسی کی تحصیل باڑہ اور جنوبی و شمالی وزیرستان میں شدت پسندوں کے جانب سے پولیو مہم پر پابندی کے بعد سے مقامی انتظامیہ نے یہ اقدم اُٹھایا ہے۔

اسی بارے میں