ایم کیو ایم جماعت اسلامی ملاقات

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption جماعت اسلامی اور ایم کیو کے تعلقات ماضی میں انتہائی کشیدہ رہے ہیں خاص طور پر کراچی میں دونوں جماعتیں ایک دوسرے پر اپنے اراکین کو قتل کرنے کے الزامات عائد کرتی ہیں۔

لاہور میں متحدہ قومی موومنٹ کے ایک وفد نے جماعت اسلامی کے مرکزی دفتر منصورہ میں جماعت اسلامی کے امیر اور دیگر رہنماؤں سے ملاقات کی ہے۔ اس ملاقات کو بعض مبصرین نے ماضی کی شدید مخالف سیاسی جماعتوں کی ملاقات قرار دیا ہے۔

لاہور سے بی بی سی کے نامہ نگار علی سلمان کے مطابق اس ملاقات میں اس بات پر تو اتفاق کیاگیا کہ دونوں جماعتوں کے درمیان ملاقاتوں کا یہ سلسلہ جاری رہنا چاہیے لیکن کہیں کہیں فریقین کے لب و لہجہ میں تلخی کا عنصر بھی نظر آیا۔

ایم کیو ایم کے وفد کی قیادت فاروق ستار نے کی جبکہ میزبان جماعت اسلامی کے وفد کے قائد جماعت کے امیر سید منور حسن خود تھے۔

یہ ملاقات ایک گھنٹہ تک جاری رہی جس کے بعد دونوں رہنماؤں نے مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔

پہلے فاروق ستار نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ انتخابات کے نتیجے میں منقسم مینڈیٹ سامنے آسکتا ہے اور اس وقت سر پکڑ کر بیٹھ جانے سے بہتر ہے کہ ابھی سے تمام سیاسی قوتیں ایک دوسرے سے میل جول بڑھائیں۔

ایم کیو ایم کے رہنما فاروق ستار نے کہا ہے کہ آئندہ انتخابات وقت پر ہوں یا قبل از وقت ہوں تمام سیاسی جماعتوں کو کم از کم ایجنڈے پر ایک ہوجانا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ عوام کو مہنگائی بے روزگاری بدامنی اور لوڈ شیڈنگ جیسے مسائل کا سامنا ہے اور تمام سیاسی جماعتوں کو ملکر ان مسائل کو حل کرنا ہوگا۔ فاروق ستار نے کہا کہ اس وقت وہ سب سے بڑی اپوزیشن ہیں اور ان کے اراکین نے اتحاد میں رہتے ہوئے بہت سے اہم فیصلے کروائے ہیں۔

جماعت اسلامی کے امیر منور حسن نے ان کی اس بات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ وہ پہلی بار سن رہے ہیں کہ ایک سیاسی جماعت جو اتحادی ہے اور پھر بھی خود کو بے بس سمجھتی ہے اور خود کو اپوزیشن قرار دیتی ہے۔

فاروق ستار نے جواب دیا کہ ایسا ماضی میں کئی بار ہوا کہ سیاسی جماعتوں نے اقتدار سے جانے کے بعد یہ کہا کہ ان کے اختیار میں کچھ نہیں تھا اور ایسا ہونا کوئی انوکھی بات نہیں ہے۔

جماعت اسلامی اور ایم کیو کے تعلقات ماضی میں انتہائی کشیدہ رہے ہیں خاص طور پر کراچی میں دونوں جماعتیں ایک دوسرے پر اپنے اراکین کو قتل کرنے کے الزامات عائد کرتی ہیں۔ جماعت اسلامی کے امیر سید منور حسن ایم کیو ایم کو ایک فاشسٹ تنظیم قرار دیتے ہیں۔

منگل کی پریس کانفرنس میں بھی انہوں نے انتہائی شستہ لہجے میں فاروق ستار کی کئی باتوں کی نفی کی۔

سید منور حسن نے کہا کہ آئندہ انتخابات قبل از وقت ہونے کا وقت گذر چکا ہے اور انتخابی نتائج پر بحث کرنے کا ابھی کوئی فائدہ نہیں ہے۔

کراچی میں سیاسی مخالفت اور قتل و غارت گری سے بھری ماضی کی تلخیوں کے باوجود دونوں جماعتوں کے رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق ضرور کیا ہے کہ ایک دوسرے سے ملاقات جاری رہنی چاہیے۔

اسی بارے میں