’افغانستان میں کوئی گروہ پسندیدہ نہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ان کی کوشش ہے کہ افغانستان میں استحکام آئے: وزیر خارجہ

وزیرِ خارجہ حنا ربانی کھر نے کہا ہے کہ پاکستان کا افغانستان میں کوئی گروہ فیورٹ یا پسندیدہ نہیں ہے بلکہ تمام گروپوں سے برابری کی بنیاد پر تعلقات چاہتے ہیں۔

یہ بات انہوں نے منگل کو قومی سلامتی کے بارے میں پارلیمانی کمیٹی کو افغانستان سے تعلقات اور وزیراعظم کے حالیہ دورے کے بارے میں بریفنگ کے بعد صحافیوں سے مختصر بات چیت کے دوران کہی۔

وزیر خارجہ حنا ربانی کھر نے بتایا کہ برہان الدین ربانی کے صاحبزادے صلاح الدین ربانی جلد پاکستان کا دورہ کریں گے اور حکومت کی کوشش ہے کہ ان کے دورے کو مفید بنایا جائے۔

انہوں نے کہا کہ پرامن اور خوشحال افغانستان پاکستان کے مفاد میں ہے اور ان کی کوشش ہے کہ افغانستان میں استحکام آئے۔

وزیر خارجہ نے پارلیمان کے دونوں ایوانوں کے حکومتی اور حزب مخالف کی تمام جماعتوں کے نمائندوں پر مشتمل قومی سلامتی کے بارے میں پارلیمانی کمیٹی کو نیٹو سپلائی کھولنے اور امریکہ سے از سر نو تعلقات کی بحالی کے بارے میں پارلیمان کی سفارشات پر عملدرآمد کے بارے میں بھی آگاہ کیا۔

حنا ربانی کھر نے کہا کہ امریکہ سے از سر نو تعلقات کی بحالی کے لیے پارلیمان کی سفارشات حکومت کے لیے ’بائبل‘ کے برابر ہیں اور ان پر من و عن عمل کیا جائے گا۔

وزیر خارجہ کے بقول انہوں نے پارلیمانی سفارشات پر عملدرآمد اور پیش رفت کے بارے میں شق وار کمیٹی کو آگاہ کیا۔

پارلیمانی کمیٹی کے سربراہ میاں رضا ربانی نے اجلاس کے بعد صحافیوں کو بتایا کہ کمیٹی نے نیٹو سپلائی کی بحالی اور امریکہ سے تعلقات کے بارے میں سفارشات پر غور کیا اور کچھ نکات پر پیش رفت کے متعلق تحفظات ظاہر کیے ہیں جبکہ کچھ نکات پر اطمینان ظاہر کیا ہے۔

اسلام آباد میں بی بی سی کے نامہ نگار اعجاز مہر نے بتایا ہے کہ تقریباً چار گھنٹے تک جاری رہنے والے اجلاس میں بظاہر لگتا ہے کہ کوئی خاص پیش رفت نہیں ہو سکی۔ کیونکہ دو نکاتی ایجنڈے کے مطابق کمیٹی کو امریکہ سے تعلقات کے بارے میں سفارشات پر پیش رفت کا جائزہ لینے کے بعد حکومت کو گائیڈ لائن دینا تھی اور لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے مختلف قوانین میں ترامیم کی سفارش کرنا تھی۔ لیکن زیادہ تر وقت افغانستان اور امریکہ کے متعلق بریفنگ میں صرف ہوگیا۔

میاں رضا ربانی نے بتایا کہ انہوں نے وزارت خزانہ کو امریکہ سے معاملات پارلیمانی سفارشات کی روشنی میں طے کرنے کے لیے ہدایات بھی دی ہیں۔ لیکن انہوں نے اس کی تفصیل بتانے سے انکار کیا۔

انہوں نے بتایا کہ پارلیمانی کمیٹی کا آئندہ اجلاس چھ اگست کو ہوگا جس میں صرف لاپتہ افراد پر بات ہوگی۔

اسی بارے میں