’محکمۂ موسمیات کی پیشگوئیاں درست نہیں‘

Image caption پاکستان کے صوبہ سندھ میں گزشتہ سال معمول سے زیادہ بارشیں ہونے سے لاکھوں افراد متاثر ہوئے

پاکستان میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے قومی ادارے کے سربراہ ڈ اکٹر ظفر قادر نے کہا ہے مون سون کے حوالے سے محکمۂ موسمیات کی پیشگوئیاں زیادہ تر درست ثابت نہیں ہوتی ہیں۔

نیشنل ڈیزاسٹر مینیجمنٹ اتھارٹی یا این ڈی ایم اے کے سربراہ کے مطابق درست پیشگوئی نہ ہونے کی وجہ محکمۂ موسمیات کے ڈیٹا حاصل کرنے کے نظام میں شاید کوئی خامی ہے۔

اسلام آ باد میں ماحولیاتی تبدیلیوں کی وزارت کے دفتر میں منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر ظفر قادر نے کہا کہ محکمۂ موسمیات کی تین روزہ پیشگوئیاں تو ہمیشہ درست ثابت ہوتی ہیں مگر اس سے زیادہ دورانیے کی نہیں۔

انہوں نے کہا کہ ماحولیاتی تبدیلیوں اور شدید مون سون نظام سے دنیا کے دوسرے ملک بھی متاثر ہو رہے ہیں۔

بی بی سی کی نامہ نگار سبین آغا کے مطابق ڈاکٹر ظفر قادر نے مزید کہا کہ جولائی کے مہینے میں محکمۂ موسمیات کی پیشگوئی کے مطابق بارشیں پچاس فیصد سے کم ہوئی ہیں۔ جبکہ پچھلے سال جولائی میں ستر فیصد سے بھی کم بارشیں ہوئیں۔ انہوں نے کہا ہماری دعا ہے کہ پورے ملک میں بارشیں تسلسل سے ہوں کیونکہ جتنے دن بارش کم ہوگی، صورتحال اتنی تشویشناک ہوگی۔

چیئرمین این ڈی ایم اے نے مون سون کے حوالے سے حفاظتی منصوبہ ترتیب دینے کا بھی اعلان کیا۔ اس منصوبے کے تحت خیموں، خوراک، مچھر دانیوں، ادویات وغیرہ کا انتظام کر دیا گیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ مرکز اور ضلعی سطح پر ایمرجنسی مراکز بنا دیئے گئے ہیں جو چوبیس گھنٹے کام کریں گے جبکہ شدید ہنگامی صورتحال میں فوج سے بھی مدد لی جائُے گی۔

تاہم انہوں نے خیموں اور خوراک کے سٹاک کی کمی کا اعتراف کیا۔

ڈاکٹر ظفر قادر کے مطابق ایمرجنسی کی صورت میں ملک میں چار لاکھ چھیاسی ہزار خیموں کی ضرورت ہو گی مگر مرکز اور صوبوں کے پاس صرف ایک لاکھ چالیس ہزار خیموں کا سٹاک میں موجود ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ اب تک صرف بلوچستان اور خیبر پختونخوا نے ممکنہ سیلاب سی بچنے کے لیے فنڈز مختص کیے ہیں جن میں خیبر پختونخوا نے سات ارب روپے جبکہ بلوچستان نے تین ارب روپے مختص کیے ہیں۔

پریس کانفرنس میں سندھ ، بلوچستان ، خیبر پختونخوا، فاٹا اور گلگت بلتستان کے صوبائی ڈیزاسٹر مینیجمنٹ اتھارٹی کے نمائندوں نے بھی شرکت کی۔

اسی بارے میں