خط لکھیں، عدالت: نہیں لکھ سکتے، اٹارنی جنرل

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

اٹارنی جنرل عرفان قادر نے واضح الفاظ میں سپریم کورٹ کو بتایا ہے کہ سوئس حکام کو خط لکھنے سے متعلق عدالتی احکامات پر عملدآمد نہیں کیا جا سکتا۔ عدالت نے حکومت کو سوئس حکام کو خط لکھنے کے لیے آخری مہلت دیتے ہوئے مقدمے کی سماعت آٹھ اگست تک ملتوی کر دی۔

بدھ کو اس مقدمے کی سماعت جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں پانچ رکنی بینچ نے کی۔

یاد رہے کہ پچھلی سماعت پر سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے این آر او پر عمل درآمد کے مقدمے میں وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف کو پچیس جولائی تک صدر زرداری کے خلاف مقدمات کھولنے کے لیے سوئس حکام کو خط لکھنے کی مہلت دی تھی۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے این آر او یعنی قومی مفاہمتی آرڈیننس پر عمل درآمد سے متعلق مقدمے کی سماعت کی۔

سماعت میں اٹارنی جنرل عرفان قادر نے جسٹس آصف سعید کھوسہ کے بینچ میں ہونے پر اعتراض اٹھایا۔ اُنہوں نے کہا کہ اُن پر اس مقدمے میں جانبدار ہونے کا الزام ہے۔ جس پر جسٹس آصف سعید کھوسہ نے اس اعتراض مسترد کرتے ہوئے کہا کہ عدالت کو یہ حق ہے کہ وہ تحقیقات کرے اور جاننے کی کوشش کرے۔

اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ بارہ جولائی کو سپریم کورٹ کا حکم این آر او سے متعلق عدالتی فیصلے سے مطابقت نہیں رکھتا۔ اُنہوں نے کہا کہ پہلے بھی سپریم کورٹ کا سات رکنی بینچ ایک منتخب وزیر اعظم کو گھر بھجوا چکی ہے۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت کوئی ایسا فیصلہ نہیں دے گی جس سے قومی مفاد کو نقصان پہنچے۔ اُنہوں نے کہا کہ جب بھی رات کو ٹی وی دیکھتے ہیں تو ٹاک شوز میں ایسا تاثر دیا جا رہا ہوتا ہے کہ عدالت کوئی ایسا فیصلہ دیناچاہتی ہے جس سے پوری قوم خوفزدہ ہے۔

انہوں نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ صدرِ پاکستان آصف علی زرداری ان کے بھی صدر ہیں لیکن قانون سے کوئی بالاتر نہیں ہے۔ عدالت نے اٹارنی جنرل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ سوئس حکام کو خط لکھنے سے متعلق کوئی درمیانی راستہ نکالیں۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ کا کہنا تھا کہ عدالت صرف یہ کہہ رہی ہے کہ وفاقی حکومت سوئس حکام کو صرف یہ خط لکھ دے کہ ان مقدمات کو ختم کرنے کے سلسلے میں اُس وقت کے اٹارنی جنرل ملک قیوم نے خط لکھا تھا اُس کو کالعدم قرار دیا جائے۔

نیب کے حکام نے عدالت کو بتایا کہ عدالتی احکامات کی روشنی میں ملک قیوم کے خلاف کارروائی کی جا رہی ہے۔

آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ اس تاثر کو ختم ہوجانا چاہیے کہ عدلیہ اور انتظامیہ میں کوئی تناؤ موجود ہے۔

اس کے علاوہ عدالت نے اپنے آرڈر میں یہ بھی لکھا ہے کہ اٹارنی جنرل ملک کے دو اہم اداروں جن میں انتظامیہ اور عدلیہ شامل ہے، کے درمیان نام نہاد تنازع کو ختم کرنے کے لیے سنجیدہ کوششیں کریں۔

عدالت کا کہنا تھا کہ اُنہیں یقین ہے کہ دونوں اداروں کے درمیان پائے جانے والے فاصلوں کو ختم کرنا ناممکن نہیں ہے۔

واضح رہے کہ عدالت نے این آر او کیس کے فیصلے میں پیرا گراف نمبر ایک سو اٹھہتر کے تحت بیرون ممالک مقدمات دوبارہ کھولنے کے لیے حکومت کو احکامات دیے گئے تھے۔

تاہم حکومت کا موقف تھا کہ صدر کو آئین کے آرٹیکل دو سو اڑتالیس کے تحت استثنیٰ حاصل ہے اس لیے ان کے خلاف اندون و بیرون ملک مقدمات دوبارہ اس وقت تک کھولے نہیں جا سکتے جب تک آصف علی زرداری عہدہ صدارت پر فائز ہیں۔

اسی بارے میں