نیب کے سامنے چیف جسٹس کے بیٹے کی پیشی

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption دوسرے نوٹس میں نیب نے غیرحاضری کی غلط توجیح پیش کی: ڈاکٹر ارسلان

پاکستان کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے صاحبزادے ڈاکٹر ارسلان نے کروڑوں روپے کی مبینہ رشوت وصول کرنے کے معاملے کی تحقیقات کرنے والی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے دائرۂ کار پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

انہوں نے یہ بات جمعرات کو قومی احتساب بیورو میں مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے سامنے پیش کیے گیے بیان میں کہی ہے۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق بیان میں ارسلان افتخار کا کہنا تھا انہیں اس معاملے کی تحقیقات کرنے والی دونوں ٹیموں کے دائرۂ کار پر قانونی تحفظات ہیں۔

ڈاکٹر ارسلان نے بیان میں کہا ہے کہ وہ اپنے وکیل کے توسط سے پچیس جون کو بھیجے گئے قانونی نوٹس میں پہلے ہی یہ واضح کر چکے ہیں کہ ان پر لگائے گئے الزامات کی تحقیقات نیب کے دائرۂ اختیار میں نہیں آتیں۔

ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ انہوں نے دس جولائی کو جو دوسرا نوٹس بھیجا تھا اس میں نیب سے کہا گیا تھا کہ اسے ایسی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم بنانے کا کوئی اختیار نہیں ہے جس میں نیب کے علاوہ دیگر اداروں کے افسران بھی شامل ہوں۔

نیب کے ترجمان ظفر اقبال نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ ڈاکٹر ارسلان افتخار نے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے سامنے پیش ہوکر اس ٹیم پر اپنے تحفظات کو تحریری شکل میں جمع کروایا ہے۔

اُنہوں نے کہا کہ ڈاکٹر ارسلان نے موقف اختیار کیا کہ چونکہ اُنہوں نے اس مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر کر رکھی ہے جس کی سماعت ہو رہی ہے اس لیے اُنہیں سپریم کورٹ جانا ہے اور جب بھی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم اُنہیں دوبارہ بُلائے گی وہ حاضر ہو جائیں گے۔

نیب کے ترجمان کے مطابق اس معاملے کی تحقیقات کرنے والی ٹیم نے سپریم کورٹ کے رجسٹرار ڈاکٹر فقیر حسین کو ستائیس جولائی کے لیے طلب کیا ہے۔ ڈاکٹر فقیر حیسن کی طرف سے یہ بیان بھی سامنے آیا ہے وہ کمیٹی کے سامنے پیش نہیں ہوں گے۔

پیشی کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ڈاکٹر ارسلان کا کہنا تھا کہ چونکہ یہ معاملہ عدالت میں ہے اس لیے وہ اس پر مزید تبصرہ نہیں کرنا چاہتے اور نیب کے سامنے حاضری کی وجہ یہ واضح کرنا تھا کہ انہیں ادارے کی جانب سے کوئی نوٹس نہیں ملا تھا اور اپنے دوسرے نوٹس میں نیب نے ان کی غیرحاضری کی غلط توجیح پیش کی۔

خیال رہے کہ نیب کے ترجمان ظفر اقبال نے بی بی سی اردو کو تیئیس جولائی کو بتایا تھا کہ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے صاحبزادے کو تحقیقاتی ٹیم کے سامنے پیش ہونے سے متعلق نوٹس اُن کے گھر کے پتے پر بھیجا گیا تھا تاہم اُنہوں نے یہ نہیں بتایا کہ ڈاکٹر ارسلان ان دنوں کہاں رہائش پذیر ہیں۔

ارسلان نے یہ بھی کہا کہ انہوں نے اپنے وکیل کے توسط سے قومی احتساب بیورو کو پہلے پچیس جون اور پھر دس جولائی کو دو خط لکھے جن کا کوئی جواب نہیں دیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ آج انہوں نے خود نیب کے سربراہ کو ایک اور خط تحریر کیا ہے۔

نیب نے ڈاکٹر ارسلان کو پہلے تیئیس جولائی کو طلب کیا تھا لیکن وہ پیش نہیں ہوئے جس کے بعد انہیں چھبیس جولائی کو مشترکہ تحقیقاتی کمیٹی کے سامنے پیش ہونے کو کہا گیا تھا۔

یاد رہے کہ اس معاملے کے دوسرے فریق ملک ریاض نے الزام عائد کیا تھا کہ اُنہوں نے سپریم کورٹ میں بحریہ ٹاؤن اور اُن کی ذات سے متعلق زیر سماعت مقدمات میں سہولت حاصل کرنے کے لیے نقدی اور ارسلان افتخار کے بیرون ممالک دوروں پر اُٹھنے والے اخراجات کی مد میں چونیتس کروڑ روپے دیے ہیں تاہم اتنی رقم خرچ کرنے کے باوجود اُنہیں کوئی سہولت نہیں ملی۔

اسی بارے میں