تحریری یقین دہانی پیش کی جائے، سپریم کورٹ

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption عدالت نے اس مقدمے کی سماعت اکتیس جولائی تک ملتوی کردی

پاکستان کی سپریم کورٹ نے سیکرٹری دفاع، سیکرٹری داخلہ اور فرنٹیئر کور کے سربراہان سے کہا ہے کہ وہ تحریری یقین دہانی کروائیں کہ بلوچستان میں امن وامان بہتر بنانے، لاپتہ افراد کی بازیابی اور مختلف واقعات میں ملوث ایف سی کے اہلکاروں کو قانون کے حوالے کیا جائے گا۔

عدالت نے بلوچستان میں امن و امان اور لاپتہ افراد کی بازیابی سے متعلق حکومت کی جانب سے پیش کی گئی رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس میں اس بات کا کہیں بھی ذکر نہیں کہ ان معاملات کو درست کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے جائیں گے۔

عدالت کا کہنا تھا کہ حکومت کی سنجیدگی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اس رپورٹ پر محض ایک جوائنٹ سیکرٹری کے دستخط ہیں اور اس پر بلوچستان میں ایف سی کے سربراہ میجر جنرل عبیداللہ خٹک کے بھی دستخط نہیں ہیں۔

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے جمعرات کو بلوچستان میں امن وامان سے متعلق مقدمے کی سماعت کی۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق عدالت کا کہنا تھا کہ اس رپورٹ پر سیکرٹری دفاع کے دستخط نہ ہونا بہت سے سوالات کو جنم دیتا ہے اور ایسا نہ کرکے عدالت کو گمراہ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

اس موقع پر بلوچستان کے ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت کو بتایا کہ اس معاملے کی نزاکت کو مدنظر رکھتے ہوئے وزیر دفاع کی سربراہی میں ایک کمیٹی بھی تشکیل دی گئی ہے۔

واضح رہے کہ بلوچستان کے ایڈووکیٹ جنرل کی جانب سے پیش کردہ اس رپورٹ میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ حکومت صوبے میں بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کر رہی ہے تاہم اس رپورٹ میں اس بات کا ذکر نہیں تھا حکومت لاپتہ افراد سے متعلق کیا اقدامات کر رہی ہے۔

یاد رہے کہ گزشتہ سماعت کے دوران عدالت نے حکم دیا تھا کہ وفاقی اور صوبائی حکومت خفیہ اور قانون نافذ کرنے والے ادارے لکھ کر دیں کہ وہ صوبے میں امن وامان قائم کرنے میں اپنی آئینی ذمہ داریاں پوری کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

بلوچستان میں مختلف افراد کے اغواء اور مسخ شدہ لاشوں کے ملنے کے واقعات کی وجہ سے علاقے میں موجود ایف سی اور دیگر خفیہ اداروں کے ملوث ہونے کا الزام عائد کیا جاتا ہے۔

ایف سی اور خفیہ اداروں کے وکیل راجہ ارشاد کا کہنا تھا کہ ان اداروں پر مختلف افراد کو اغواء کرنے کا الزام محض الزامات کی حد تک ہے جس پر چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ آٹھ ایسے واقعات ہیں جس میں ایف سی کے اہلکار ملوث ہیں لیکن انہیں قانون نافذ کرنے والوں کے حوالے نہیں کیا گیا۔

عدالت کا کہنا تھا کہ اس مقدمے کی سماعت اس مرحلے پر آ گئی ہے جس سے صاف نظر آ رہا ہے کہ کس (ادارے) کا کیا کردار ہے۔

بینچ میں موجود جسٹس جواد ایس خواجہ کا کہنا تھا کہ علاقے سے لاپتہ افراد کے لواحقین کی تعداد اس لیے کم نہیں ہوگئی کہ ان کے پیارے بازیاب ہوگئے ہیں بلکہ اس لیے کم ہوئی ہے کہ ان کا اعتماد ملکی اداروں سے اٹھتا چلا جا رہا ہے۔

صوبائی سیکرٹری داخلہ نے عدالت کو بتایا کہ گزشتہ دو سال کے دوران ایسے خاندانوں میں ستاون کروڑ سے زائد کی رقم تقسیم کی جاچکی ہے جن کے رشتہ دار ٹارگٹ کلنگ میں مارے گئے یا جن کی مسخ شدہ لاشیں ملیں۔

عدالت نے اس مقدمے کی سماعت اکتیس جولائی تک ملتوی کر دی۔

دوسری جانب حکومت نے اس ضمن میں تیس جولائی کو ایک اعلٰی سطحی اجلاس طلب کیا ہے جس میں سیکرٹری دفاع، داخلہ اور خفیہ ایجنسیوں کے اہلکار شرکت کریں گے۔

اسی بارے میں