توہین عدالت:’آئین کی شقوں کو مدنظر نہیں رکھا گیا‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption جموری نظام چلنا چاہیے بُرائیاں خود بخود ختم ہوتی رہیں گی:چیف جسٹس افتخار چودھری

توہین عدالت کے نئے قانون کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ پارلیمنٹ میں اس قانون پر بحث کے دوران آئین کی شقوں کو مدنظر نہیں رکھا گیااور نہ ہی یہ بتایا گیا کہ اس قانون کو لانے کی کیا وجوہات بتائی گئیں۔

عدالت کا کہنا ہے کہ آئین کے آرٹیکل دو سو چار کے تحت کسی کو بھی استثنیٰ نہیں ہے اور جو کوئی بھی توہین عدالت کرے گا اُس کے خلاف کارروائی ہوگی۔

جمعہ کے روز چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے ان درخواستوں کی سماعت کے دوران کہا کہ ایوان بالا یعنی سینیٹ میں اس نئے قانون پر ہونے والی بحث سے متعلق پیش کیے گئے ریکارڈ میں یہ کہیں نہیں کہا گیا کہ توہین عدالت کے قانون کو تبدیل کرنے کی کیوں ضرورت پیش آئی اور موجودہ قانون آئین کی کن شقوں سے متصادم ہے۔

درخواست گُزار کے وکیل راجہ افراسیاب نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ کی سادہ اکثریت توہین عدالت سے متلعق آئین میں درج کی گئی عبارت کو تبدیل نہیں کرسکتی۔ بینچ میں موجود جسٹس جواد ایس خواجہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ارکان پارلیمنٹ عوام کے ملازم ہیں اور اُنہی کے ٹیکسیوں سے اُنہیں تنخواہ اور دیگر مراعات ملتی ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے ایسے لوگ خود کو ملک کا مالک سمجھنے لگتے ہیں۔

درخواست گُزار کا کہنا تھا کہ اس نئے قانون کے تحت تھانیداروں اور پٹواریوں کو بھی تحفظ دیا گیا ہے۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ اگر ہم صرف اپنی روایات کو ہی زندہ رکھیں تو توہین عدالت کے قانون کی ضرورت ہی نہیں ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ اب اس ملک میں یہ رواج بن گیا ہے کہ ہر کام ڈنڈے سے ہی ہوگا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ سینیٹ میں اس قانون سے متعلق ہونے والی بحث اچھی تھی لیکن اس قانون سازی کے لیے آئین کے حوالے نہیں دیے گئے اور نہ ہی اس قانون کو لانے کی وجوہات بتائی گئیں۔ اُنہوں نے کہا کہ جموری نظام چلنا چاہیے بُرائیاں خود بخود ختم ہوتی رہیں گی۔

بینچ میں موجود جسٹس جواد ایس خواجہ کا کہنا تھا کہ برطانیہ میں گُزشتہ پانچ سو سال سے کسی بھی عدالتی فیصلے کی حکم عدولی نہیں کی گئی۔ ان درخواستوں کی سماعت تیس جولائی تک کے لیے ملتوی کر دی۔