ویزہ سکینڈل:’مقصد پاکستان کو بدنام کرنا تھا‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption وزیر داخلہ نے کہا البتہ اسد علی نے پاسپورٹ کا حاصل کرتے ہوئے یہ بات چھپائی کہ ان کے پاس پہلے پاکستانی پاسپورٹ تھا اور یہ بات بھی نہیں ظاہر کی ہے کہ وہ دوہری شہریت کے حامل ہیں۔

پاکستان کے وزیر داخلہ رحمان ملک نے برطانوی اخبار دی سن کی اس رپورٹ کو مسترد کردیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ اس نے پاکستان میں ایسے ویزہ سکینڈل کو ناکام بنا دیا جس کا مقصد یہ تھا کہ ممکنہ دہشتگرد پاکستان کی اولمپک ٹیم کے ساتھ برطانیہ پہنچے۔

پاکستان کے وزیر داخلہ سنیٹر رحمان ملک نے اسلام آباد میں نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ برطانوی اخبار دی سن کی رپورٹ میں حقیقت کے بالکل برعکس ہے اور گمراہ کن ہے۔

نامہ نگار ذوالفقار علی کے مطابق وزیر داخلہ نے کہا کہ ایف آئی اے کی تحقیقات کے مطابق نادرا نے اسد علی نامی جس نوجوان کے نام پر شناختی کارڈ اور پاسپورٹ جاری کیا وہ پاکستانی نژاد برطانوی شہری ہیں۔

رحمان ملک نے کہا کہ اسد علی کو قانون کے عین مطابق شناختی کارڈ اور پاسپورٹ جاری ہوا ہے۔

’نادرا میں اسد علی نے سنہ دو ہزار میں شناختی کارڈ بنوایا تھا اور اس کی معیاد سنہ دو ہزار آٹھ میں ختم ہوگئی تھی۔ اسد علی نے پرانے شناختی کارڈ پر نیا شناختی کارڈ لیا اور نئے شناختی کارڈ پر انھوں نے پاسپورٹ بنوایا جو قانون کے مطابق ہے‘۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ دی سن اخبار کی ٹیم یہ اچھی طرح جانتی تھی کہ وہ پاکستانی نژاد برطانوی شہری ہیں اور ان کے پاس پاکستان کا شناختی کارڈ اور پاسپورٹ رہا ہے اور یہ پاکستانی پاسپورٹ اور شناختی کارڈ لے سکتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ سن اخبار نے غلط طریقے سے پیش کیا کہ اس شخص نے پیسے دے کر جعلی شناختی کاروڈ اور پاسپورٹ بنوایا۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ اسد علی نے پاکستان آنے کا مقصد اپنے خاندان والوں سے ملاقات بتائی تھی لیکن حقیقت میں انھوں نے سن اخبار کے رپورٹر سٹیفن گراہم کے ساتھ برطانوی پاسپورٹ پر پاکستان آئے تھے۔

واضح رہے کہ اسد علی کے پرانے شناختی کارڈ پر نام محمد علی اسد ہے جبکہ برطانوی پاسپورٹ پر ان کا نام اسد علی ہے۔

وزیر داخلہ نے کہا البتہ اسد علی نے پاسپورٹ کا حاصل کرتے ہوئے یہ بات چھپائی کہ ان کے پاس پہلے پاکستانی پاسپورٹ تھا اور یہ بات بھی نہیں ظاہر کی ہے کہ وہ دوہری شہریت کے حامل ہیں۔

مشیر داخلہ رحمان ملک نے کہا کہ سن اخبار کو پاکستانی ہائی کمشنر کے ذریعے اپنی تحقیقات بھیج دی ہیں اور برطانوی اخبار دی سن کی کہانی کا مقصد پاکستان کو بدنام کرنا تھا۔

وزیر داخلہ رحمان ملک نے کہا کہ وہ پہلے قدم کے طور ہر سن اخبار کے خلاف برطانوی پریس کمپلینٹس کمیشن میں شکایت کریں گے۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا ک پاکستانی نژاد برطانوی شہری اسد علی نے اپنے پاسپورٹ اور شناختی کارڈ کے بارے میں غلط بیانی سے کام لیا اور پاکستان کو بد نام کرنے کی کوشش کی لہٰذا انھوں نے اسد علی کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی ہدایات جاری کردی ہیں۔

وزیر داخلہ رحمان ملک نے کہا کہ وہ برطانوی حکومت سے درخواست کریں گے وہ اسد علی کو پاکستان کے حوالے کریں تاکہ اس کو پاکستان کے قانون کے تحت مقدمہ چلایا جائے۔

اسی بارے میں