نئی کمپیوٹرائیزڈ ووٹر فہرستیں جاری

تصویر کے کاپی رائٹ

پاکستان کے حال ہی میں مقرر کردہ متفقّہ چیف الیکشن کمشنر جسٹس ریٹائرڈ فخرالدین جی ابراہیم نے نئی کمپیوٹرائیزڈ ووٹر فہرستیں جاری کردی ہیں اور کہا ہے کہ پاکستان میں انتخابی کام شروع ہوگیا ہے۔

منگل کو پریس کانفرنس میں انہوں نے بتایا کہ نئی ووٹر فہرست میں آٹھ کروڑ تیتالیس لاکھ پینسٹھ ہزار اکاون ووٹرز کے نام درج ہیں۔ جس میں مرد ووٹرز کی تعداد چار کروڑ ستتّر لاکھ تہتر ہزار چھ سو بانوے جبکہ خواتین ووٹرز کی تعداد تین کروڑ پینسٹھ لاکھ اکانوے ہزار تین سو انسٹھ ہے۔

نئی ووٹر فہرست کے مطابق بلوچستان سے بتیس لاکھ اٹہھتر ہزار ایک سو چونسٹھ ووٹ درج ہوئے ہیں۔ جس میں اٹھارہ لاکھ چھیاسی ہزار مرد اور تیرہ لاکھ اکانوے ہزار نو سو انتیس خواتین شامل ہیں۔ فاٹا میں سولہ لاکھ پچہتر ہزار نو سو سڑسٹھ ووٹ درج ہوئے ہیں۔ جس میں گیارہ لاکھ بیس ہزار سات سو چھتیس مرد اور پانچ لاکھ پچپن ہزار دو سو اکتیس خواتین شامل ہیں۔

خیبر پختونخوا سے کل ووٹرز کی تعداد ایک کروڑ بیس لاکھ چونسٹھ ہزار پانچ سو ستانوے ہے۔ جس میں انہتر لاکھ انتیس ہزار ایک سو پانچ مرد اور اکیاون لاکھ پینتیس ہزار چار سو بانوے خواتین شامل ہیں۔ پنجاب میں چار کروڑ تراسی لاکھ آٹھ ہزار چھ سو چوالیس ووٹر درج ہیں۔ جس میں مردوں کی تعداد دو کروڑ باہتر لاکھ ستانوے ہزار تین سو اکسٹھ اور خواتین ووٹرز کی تعداد دو کروڑ دس لاکھ گیارہ ہزار دو سو تراسی شامل ہے۔

وفاقی علاقے (اسلام آباد) سے چھ لاکھ چار ہزار آٹھ سو دو ووٹ درج ہوئے ہیں۔ جس میں تین کروڑ پچیس لاکھ سات سو پچانوے مرد اور دو لاکھ اناسی ہزار سات خواتین ووٹرز ہیں۔ صوبہ سندھ سے رجسٹرڈ ووٹرز کی کل تعداد ایک کروڑ چوراسی لاکھ بتیس ہزار آٹھ سو ستتّر ہے۔ جس میں مردوں کے ایک کروڑ دو لاکھ چودہ ہزار چار سو ساٹھ جبکہ خواتین کے بیاسی لاکھ اٹھارہ ہزار چار سو سترہ ووٹ درج ہیں۔

اسلام آباد میں بی بی سی کے نامہ نگار اعجاز مہر کے مطابق نئی ووٹر فہرست میں پنجاب کے ووٹرز کی تعداد ستاون فیصد بنتی ہے۔ جبکہ سندھ کے بائیس فیصد، خیبر پختونخوا چودہ فیصد، بلوچستان چار فیصد، فاٹا دو فیصد، وفاقی علاقے کے ووٹرز کی تعداد ایک فیصد بنتی ہے۔

چیف الیکشن کمشنر نے کہا ہے کہ باوجود اس کے کہ الیکشن کمیشن نے ووٹرز کی حتمی فہرست جاری کر دی ہے لیکن اس میں کسی کے موت کی صورت میں یا نیا شناختی کارڈ بنوانے کی صورت میں اس میں اخراج یا اضافہ ہوتا رہے گا۔

انہوں نے کہا کہ کوئی بھی شخص اپنے موبائل نمبر سے 8300 پراپنا شناختی کارڈ نمبر ایس ایم ایس کے ذریعے بھیج کر اپنے ووٹ کے بارے میں معلومات حاصل کرسکتا ہے۔

اس موقع پر الیکشن کمیشن کے سیکریٹری اشتیاق احمد خان نے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سمندر پار پاکستانیوں کے چالیس لاکھ ووٹ رجسٹر ہوئے ہیں اور انہیں ڈاک کے ذریعے ووٹ کا حق دینے کے بارے میں قانون سازی کی ضرورت ہے۔

ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ کمپیوٹرائیزڈ شناختی کارڈ کے بنا کوئی ووٹ نہیں دے سکے گا۔

سیکریٹری الیکشن کمیشن نے کہا کہ ووٹر لسٹوں کا ڈیٹا بیس ’فول پروف‘ ہے اس میں گڑ بڑ کرنے والے کو پانچ برس قید کی سزا ہوگی۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ لوکل باڈیز کے الیکشن کے لیے الیکشن کمیشن تیار ہے لیکن اس بارے میں ابھی بعض صوبوں کو قانون سازی کرنی ہے۔

اسی بارے میں