توہینِ عدالت:’نیا قانون دوسرے وزیرِ اعظم کو بچانے کیلیے‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

پاکستان حکومت کی طرف سے بنائے گئے توہین عدالت کے نئے قانون سے متعلق دائر درخواستوں کی سماعت کے دوران وفاق کے وکیل عبداالشکور پراچہ کا کہنا ہے کہ نیا قانون دوسرے وزیر اعظم کو بچانے کے لیے لایا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایک جمہوری وزیرِ اعظم کو گھر بھیجنے سے جمہوری ادارے مستحکم نہیں ہوں گے۔

سماعت کے دوران سپریم کورٹ کے جج میاں شاکراللہ جان نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بادی النظر میں یہ قانون اس حثیت سے امتیازی ہے کہ اس میں ایک مخصوص طبقے کو مراعات دی جارہی ہیں۔

اُنہوں نے کہا کہ ’یہ قانون آئین کے اُس اصول کی خلاف ورزی کرتا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ قانون کی نظر میں تمام انسان برابر ہیں۔‘

ان درخواستوں میں وفاق کے وکیل عبدالشکور پراچہ نے کہا کہ پارلیمنٹ کو قانون سازی کرنے کا اختیار ہے جس کو کہیں بھی چیلنج نہیں کیا جاسکتا۔ اُنہوں نے کہا کہ ’عدالت اس معاملے کو بھی دیکھے کہ اس نئے قانون کے خلاف دائر درخواستیں قابل سماعت بھی ہیں کہ نہیں‘۔ اُنہوں نے کہا کہ پہلے بھی ایک وزیر اعظم کو توہین عدالت کے مقدمے میں مجرم قرار دیکر گھر بھیجا جاچکا ہے جس پر چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ’بالآخر دل کی بات زبان پر آہی گئی‘۔ وفاق کے وکیل کا کہنا تھا کہ یہ بات سب کے علم میں ہے۔

عبداالشکور پراچہ نے کہا کہ ’وفاق نے مجھے وکیل کیا ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ میں حقائق کو چھپاتا رہوں۔‘

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جس طرح اُنہوں نے تسلیم کیا کہ اس نئے قانون کی شق نمبر بارہ غلط ہے اس کے بعد وفاقی حکومت کیسے کہہ سکتی ہے کہ یہ عوامی اہمیت کا معاملہ نہیں ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ ’عدل کا مقصد یہ نہیں کہ امیر کو استثنیٰ دو اور غریب کو سزا دو۔‘

وفاق کے وکیل کا کہنا تھا کہ عدالت پھر آئین کو بھی کالعدم قرار دے دے جس کے آرٹیکل دو سو اڑتالیس میں استثنیٰ کا ذکر کیا گیا ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ توہین عدالت کے اس نئے قانون کو صرف عام آدمی نے نہیں بلکہ پاکستان بار کونسل نے بھی چیلنج کیا ہے کہ جو پاکستان میں وکلاء برادری کا سب سے بڑا اور اہم فورم ہے۔ پاکستان بار کونسل نے اپنی درخواست میں موقف اختیار کیا ہے کہ اس نئے قانون کو کالعدم قرار دیا جائے کیونکہ یہ بنیادی انسانی حقوق سے متصادم ہے۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ اگر یہ معاملہ عوامی اہمیت کا حامل نہیں تو پھر سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی توہین عدالت کےقانون کے تحت ہی نااہل ہوئے تھے۔

اُنہوں نے کہا کہ یہ کہنا درست نہیں ہے کہ توہین عدالت کے نئے قانون میں کوئی خرابی نہیں ہے تاہم عدالت نے قانون کی عمل داری کو یقینی بنانے کے لیے بہت سی مثالیں قائم کی ہیں۔

وفاق کے وکیل عبدالشکور پراچہ نے کہا کہ عدالتی ریمارکس پر قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف چوہدری نثار علی خان نے شور مچانا شروع کردیا جس پر بینچ میں موجود جسٹس جواد ایس خواجہ کا کہنا تھا کہ اُنہوں نے اپنی رائے کا اظہار کیا تھا شور مچانے والی بات مناسب نہیں ہے۔

یاد رہے کہ ان درخواستوں کی سماعت کے دوران جب پارلیمنٹ میں اس نئے قانون پر ہونے والی بحث کے دوران پاکستان مسلم لیگ نون کے رکن قومی اسمبلی کیپٹن ریٹائرڈ محمد صفدر نے کہا تھاکہ حکومت سوئس حکام کو صدر اصف علی زرداری کے خلاف مقدمہ دوبارہ کھولنے کے لیے خط لکھ دے اور اس خط میں لکھی گئی عبارت سے متعلق سپریم کورٹ سے رائے لے لے جس پر چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ’عدلیہ پارلیمنٹ کی منشی نہیں ہے‘۔

نئے توہین عدالت کے قانون کے خلاف دائر درخواستوں میں وفاق کے علاوہ وزیر اعظم، وزیر قانون، قومی اسمبلی کی سپیکر اور سینیٹ کے چیئرمین اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کو بھی نوٹس جاری کیے گئے ہیں۔

اسی بارے میں