سری لنکن ٹیم پر حملے کا اہم ملزم ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption مارچ سال دو ہزار نو میں لاہور کے لبرٹی چوک پر سری لنکن ٹیم پر حملہ کیا گیا تھا

پاکستان کے صوبہ پنجاب میں پولیس کے مطابق سری لنکن کرکٹ ٹیم پر ہونے والے دہشت گرد حملے کے مبینہ ماسٹر مائنڈ عبدالغفار عرف غفاری ہلاک ہو گئے ہیں۔

سی آئی اے پولیس ملتان کے سب انسپکٹر رانا فاروق نے بی بی سی کی نامہ نگار ارم عباسی کو بتایا کہ ہلاک ہونے والے شدت پسند عبدالغفار تونسہ کے رہائشی تھے اور پنجابی طالبان نامی تنظیم کے ایک اہم کمانڈر تھے۔

انہوں نے بتایا کہ عبدالغفار سری لنکن ٹیم پر حملے میں مطلوب تھے۔

انہوں نے کہا کہ بدھ کو عبدالغفار کو ڈی جی خان کے راستے غازی گھاٹ پر پولیس کے ایک ناکے پر مزاحمت کے بعد فرار ہونے کی کوشش میں پولیس اہلکاروں کی فائرنگ سے ہلاک ہو گئے۔

سب انسپکٹر رانا فاروق کے مطابق عبدالغفار کے زیر استعمال موبائل فون پر ہونے والی بات چیت کی گزشتہ کچھ عرصے سے خفیہ نگرانی کی جا رہی تھی اور فون پر ہونے والی بات چیت سے معلوم ہوا کہ وہ بدھ کی دوپہر کو تونسہ سے ڈی جی خان کا سفر کرنے والے ہیں۔

’پولیس نے ڈی جی خان کے راستے غازی گھاٹ پر ناکہ لگا کر گاڑیوں کی تلاشی شروع کر دی، دوپہر دو بجے کے قریب ناکے پر پہنچنے والی ایک مسافر بس میں عبدالغفار عام مسافروں کی طرح سوار تھے۔پولیس نے جب ان سے نام پوچھا تو انہوں نے غلط بیانی کی جس کے بعد ان کی تلاشی لی گئی۔اس دوران ان کے پاس سے اصل شناختی کارڈ ملا جس کے ذریعے ان کی شناخت ممکن ہوئی۔‘

پولیس نے جب انہیں گرفتار کرنے کی کوشش کی تو انہوں نے ایک دستی بم پولیس کی جانب پھینکا اور بس سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے تاہم کچھ ہی دیر پیچھا کرنے پر عبدالغفار پولیس اہلکاروں کی فائرنگ سے ہلاک ہو گئے۔ان سے دو دستی بم اور ایک پستول بھی برآمد ہوا ہے۔

سب انسپکٹر رانا فاروق کے مطابق دستی بم کے حملے سے بس کے مسافر اور پولیس اہلکار محفوظ رہے ہیں۔

پولیس اہلکار رانا فاروق کے مطابق عبدالغفار نہ صرف سری لنکا کی کرکٹ ٹیم پر ہونے والے حملے میں مطلوب تھے۔ اس کے علاوہ وہ تونسہ کے کئی بینک میں ڈکیتیوں اور پولیس اہلکاروں کو ہلاک کرنے کے واقعات میں بھی ملوث تھے۔ وہ پنجابی طالبان نامی تنظیم کے لیے فنڈز بھی اکٹھے کرتے تھے۔

واضح رہے کہ تین مارچ سال دو ہزار نو کو لاہور میں قذافی سٹیڈیم سے کچھ ہی فاصلے پر لبرٹی چوک میں اس بس پر دہشت گردوں نے حملہ کر دیا تھا جو سری لنکن ٹیم کے ارکان کو سٹیڈیم لے کر جا رہی تھی۔ اس واقعہ میں سری لنکن ٹیم کے سات کھلاڑی زخمی اور چھ پولیس اہلکار ہلاک ہوگئے تھے۔

اس سے پہلے لاہور پولیس کے مطابق سری لنکن ٹیم پر حملے کا ماسٹر مائنڈ عقیل عرف ڈاکٹر عثمان عرف رانا حنیف تھا اور اس حملے کا مقصد کرکٹ ٹیم کو اغوا کرنا تھا۔

اسی بارے میں