پشاور: بجلی بحران پر اے پی سی کا بائیکاٹ

آخری وقت اشاعت:  بدھ 1 اگست 2012 ,‭ 15:05 GMT 20:05 PST

اے این پی نے بجلی کی لوڈشیڈنگ کے حل کے لیے نواگست کو اے پی سی منعقد کرنے کا اعلان کیا تھا

پاکستان کے صوبہ خیبر پختون خوا میں حزب مخالف کی جماعتوں نے عوامی نیشنل پارٹی کی جانب سے بجلی کے بحران کے حل کے لیے بلائی گئی آل پارٹیز کانفرنس میں شرکت نہ کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

یہ اعلان بدھ کو خیبر پختون خوا اسمبلی میں حزب مخالف کے رہنما اکرم خان درانی نے ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

اس موقع پر خیبر پختون خوا اسمبلی میں پیپلز پارٹی شیرپاؤ کے پارلیمانی رہنما سکندر خان شیرپاؤ، مسلم لیگ نواز کے صوبائی جنرل سیکرٹری رحمت سلام خٹک اور جے یو آئی کے رہنما مولانا عطاء الرحمان بھی موجود تھے۔

اکرم خان درانی نے کہا کہ حکمران جماعت عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کو یہ خیال اب کیوں آ رہا ہے کہ صوبے میں بجلی کا بحران حل ہونا چاہیے۔ یہ مسئلہ تو کئی سالوں سے چلا آ رہا ہے۔

"اپوزیشن جماعتوں نے توانائی بحران کے سلسلے میں اپنا لائحہ عمل تیار کرلیا ہے جس کے تحت صوبہ کے مختلف شہروں میں احتجاج اور پریس کانفرنسز منعقد کی جائیں گی تاکہ لوڈشیڈنگ کے خاتمے کے حوالے سے حکومت پر دباؤ ڈالا جاسکے"

اکرم خان درانی

انہوں نے کہا کہ اب جبکہ عام انتخابات کےلیے وقت کم رہ گیا ہے تو اے این پی کے رہنما سیاسی فائدہ اٹھانے کےلیے لوڈشیڈنگ کے خلاف احتجاج اور کانفرسوں کا انعقاد کر رہی ہے۔

اکرم درانی کا کہنا تھا کہ اپوزیشن جماعتوں نے توانائی بحران کے سلسلے میں اپنا لائحہ عمل تیار کرلیا ہے جس کے تحت صوبہ کے مختلف شہروں میں احتجاج اور پریس کانفرنسز منعقد کی جائیں گی تاکہ لوڈشیڈنگ کے خاتمے کے حوالے سے حکومت پر دباؤ ڈالا جاسکے۔

انہوں نے کہا کہ اے این پی کے رہنما اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کےلیے آل پارٹی کانفرنس کا انعقاد کر رہی ہے لیکن اب وہ مزید عوام کو بے وقوف نہیں بنا سکتی۔

خیال رہے کہ عوامی نشینل پارٹی نے بجلی کی لوڈشیڈنگ کے حل کےلیے نو اگست کو کا جماعتی کانفرنس منعقد کرنے کا اعلان کیا تھا۔

اے این پی کے رہنماؤں کی کوشش ہے کہ اس مجوزہ کانفرنس میں زیادہ سے زیادہ سیاسی جماعتوں کو مدعو کیا جاسکے تاہم اب تک چار سیاسی جماعتیں مسلم لیگ نون ، جے یو آئی، پی پی پی شیرپاؤ اور تحریک انصاف اس کانفرنس میں شرکت کرنے سے انکار کر چکی ہیں۔

دوسری طرف بجلی کی بدترین لوڈشیڈنگ کے خلاف صوبہ بھر میں عوام کی جانب سے مظاہروں اور احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔

گزشتہ ایک ہفتے سے جاری ان پرتشدد مظاہروں میں زیادہ تر واقعات میں واپڈا کے دفاتر پر حملے کیے گئے ہیں جبکہ کچھ مقامات پر اے این پی کے دفاتر بھی نشانہ بنے ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔