’توہینِ عدالت پر مبنی رائے زنی کی اجازت نہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ’سادہ اکثریت سے بنایا گیا قانون آئین کی منشا کو تبدیل نہیں کر سکتا‘

توہین عدالت کے نئے قانون کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے ریمارکس دیے ہیں کہ اگر کوئی رکن پارلیمنٹ توہین عدالت کا مرتکب ہو تو سپیکر قومی اسمبلی اور چیئرمین سینیٹ اُس کے خلاف کیس عدالت میں بھیجنے کے پابند ہیں ۔

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کا کہنا ہے کہ آئین میں کہیں نہیں لکھا کہ کسی بھی شخص کو توہینِ عدالت میں استثنیٰ حاصل ہے۔

اُنہوں نے کہا کہ اس نئے قانون سے تاثر یہ ملتا ہے کہ وزیراعظم توہین عدالت کرے تو استثنیٰ جبکہ کوئی عام آدمی اس کا مرتکب ہو تو اُسے سزا دی جائے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ توہین عدالت کے نئے قانون میں لکھا ہے کہ مخصوص افراد عدالت میں آ کر جو چاہیں کہیں اُن پر توہین عدالت نہیں لگے گی۔ اُنہوں نے کہا کہ ملکی سالمیت یا توہینِ عدالت پر مبنی رائے زنی کی اجازت نہیں ہے۔

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے توہین عدالت کے نئے قانون کے خلاف درخواستوں کی سماعت بدھ کو بھی جاری رکھی۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق وفاق کے وکیل عبدالشکور پراچہ نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ قانون سازی کرنا پارلیمنٹ کا کام ہے اور اُسے کہیں بھی چیلنج نہیں کیا جا سکتا۔ اس پر چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ عدالت بھی رہنمائی پارلیمنٹ سے لیتی ہے لیکن پارلیمنٹ کی طرف سے بنائے گئے قوانین کی تشریح سپریم کورٹ کا کام ہے۔

وفاق کے وکیل کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ کے بنائے گئے قوانین پر اُنگلیاں اُٹھانا اور بدنیتی کا الزام لگانا دراصل عوامی مینڈیٹ کی توہین ہے۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ اس نئے قانون کے تحت پارلیمنٹ میں ہونے والی بحث کو بھی تفصیل سے پڑھا گیا۔

اُنہوں نے کہا کہ سینیٹر اعتزاز احسن اور سینیٹر رضا ربانی نے اس نئے قانون پر اپنے تحفظات کا بھی اظہار کیا ہے اس کے علاوہ کچھ ارکان پارلیمنٹ نے اس نئے قانون کے حق میں بھی تقاریر کی ہیں۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ آئین کا آرٹیکل اُنیس میں دیگر افراد کی طرح ارکان پارلیمنٹ کو اظہار رائے کی آزادی مشروط بنیادوں پر ہے اور اگر وہ توہین عدالت کے مرتکب ہوتے ہیں تو سپیکر قومی اسمبلی یا چیئرمین سینیٹ اُن کے خلاف کیس عدالت میں بھیجنے کے پابند ہیں۔

بینچ موجود جسٹس جواد ایس خواجہ کا کہنا تھا کہ اس نئے قانون میں اور سابق توہین عدالت کے قانون میں بہت سی چیزوں میں مماثلت پائی جاتی ہے۔

عبدالشکور پراچہ کا کہنا تھا کہ اس نئے قانون کے تحت عدلیہ کے اختیارات کو کم نہیں کیا گیا بلکہ اُن میں اضافہ کیا گیا ہے۔

بینچ میں موجود جسٹس تصدق حسین جیلانی کا کہنا تھا کہ سادہ اکثریت سے بنایا گیا قانون آئین کی منشا کو تبدیل نہیں کرسکتا اور آئین کے آرٹیکل دو سو چار کے تحت توہین عدالت کے مرتکب کسی بھی شخص کو استثنی حاصل نہیں ہے۔

وفاق کے وکیل نے اس مقدمے میں اپنے دلائل مکمل کر لیے ہیں جبکہ اٹارنی جنرل عرفان قادر جمعرات کو اپنے دلائل دیں گے۔

اسی بارے میں