پاکستان: ڈپٹی اٹارنی جنرل برطرف

خورشید خان تصویر کے کاپی رائٹ pti
Image caption خورشید خان نے ہندوستان کا دورہ کیا جہاں ایک سِکھ گوردوارے میں عام لوگوں کے جوتے پالش کرتے ہوئے ان کی تصوریں غیر ملکی اخبارات میں چھپ گئی تھیں

پاکستان میں وفاقی حکومت نے ملک میں مذہبی رواداری پھیلانے کے لیے مشہور ڈپٹی اٹارنی جنرل خورشید خان ایڈوکیٹ کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا ہے۔

خورشید خان نے الزام لگایا ہے کہ انہیں پشاور کے ایک بااثر سیاسی خاندان کے خلاف مقدمہ کرنے پر ان کے عہدے سے برطرف کیا گیا ہے۔

پشاور ہائی کورٹ کے ایک اعلی سرکاری اہلکار نے بی بی سی کو تصدیق کی کہ بدھ کو وفاقی حکومت کی طرف سے ایک اعلامیہ جاری کیا گیا جس میں ڈپٹی اٹارنی جنرل خورشید خان کو ان کے عہدے سے ہٹانے کے احکامات جاری کیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ خورشید خان کی جگہ اعجاز خان ایڈوکیٹ کو نیا ڈپٹی اٹارنی جنرل مقرر کیا گیا ہے۔

خورشید خان آج کل نیپال، تبت اور بھوٹان کے ایک ماہ کے نجی دورے پر ہیں تاہم وہ اپنا دورہ مختصر کر کے دو دنوں میں پاکستان پہنچ رہے ہیں۔

کاٹھمنڈو سے بی بی سی سے ٹیلی فون پر بات کرتے ہوئے خورشید خان ایڈوکیٹ نے الزام لگایا کہ انہیں پشاور کے ایک بااثر سیاسی خان کے ایما پر ان کے عہدے سے ہٹایا گیا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکمران جماعت عوامی نیشنل پارٹی کے سنئیر صوبائی وزیر بشیر احمد بلور اور ان کے خاص کارندوں نے یونیورسٹی ٹاؤن کے علاقے میں واقع لیڈیز کلب کے اربوں روپے کی پبلک پراپرٹی کو لیز پر دے کر وہاں ریسٹورنٹس اور کافی شاپس بنا دی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سرکاری زمین پر ریسٹورنٹس بنانے کے خلاف انہوں نے چند خواتین کے ساتھ مل کر پشاو ہائی کورٹ میں ایک رٹ درخواست دائر کی ہے جس پر عدالت کی طرف سے حکم امتناعی بھی جاری ہوا ہے لیکن عدالتی احکامات پر ابھی تک عمل درآمد نہیں کیا گیا۔

خورشید خان کا کہنا تھا کہ ڈپٹی اٹارنی جنرل کے عہدے سے ہٹائے جانے پر وہ بہت زیادہ خوش ہیں کیونکہ ان کے ہاتھ اب کھلے ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ان کی پارٹی ( پیپلز پارٹی) کی طرف سے ان پر بڑا سخت دباؤ ڈالا جا رہا تھا کہ وہ ہائی کورٹ سے اپنا کیس واپس لے لیں۔

خیال رہے کہ خورشید خان ایڈوکیٹ گزشتہ کچھ عرصے سے ملک اور ملک سے باہر مذہبی راوداری پھیلانے میں سرگرم رہے ہیں۔ کچھ عرصہ قبل انہوں نے ہندوستان کا دورہ کیا جہاں ایک سِکھ گوردوارے میں عام لوگوں کے جوتے پالش کرتے ہوئے ان کی تصوریں غیر ملکی اخبارات میں چھپ گئی تھیں۔ پشاور اور حسن ابدال میں بھی وہ سِکھ گردواروں میں جاتے رہے ہیں جہاں وہ جوتے صاف اور پالش کرتے رہے ہیں۔

خورشید خان کا کہنا ہے کہ وہ مسلمان ہونے کے ناطے مندر، مسجد، گوردوارہ اور گرجا گھر جاتے ہیں اور وہاں لوگوں کی ’سیوا‘ کرتے ہیں۔ ان کے مطابق وہ دنیا بھر میں مسلمانوں کا امیج بہتر بنانا چاہتے ہیں اور انہیں بتانا چاہتے ہیں کہ مسلمان دہشت گرد نہیں بلکہ امن پسند لوگ ہیں۔