پولیو مہم بند نہیں کی گئی: ڈبلیو ایچ او

پاکستان پولیو تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption شہر کے بعض علاقوں میں پولیو کے قطرے پلانے کا کام عارضی طور پر معطل کردیا گیا ہے۔

عالمی ادارۂ صحت ( ڈبلیو ایچ او) کے پاکستان میں تعینات حکام نے تردید کی ہے کہ کراچی میں ادارے کے عملے پر ہونے والے حملوں کے بعد شہر اور مضافاتی علاقوں میں پولیو کے خلاف جاری مہم بند کردی گئی ہے لیکن ان حکام نے یہ تصدیق ضرور کی کہ شہر کے بعض علاقوں میں پولیو کے قطرے پلانے کا کام عارضی طور پر معطل کردیا گیا ہے۔

بعض پاکستانی ذرائع ابلاغ کے دعووں کے مطابق شہر کی رفیق شہید روڈ پر واقع ڈبلیو۔ ایچ۔ او کے دفتر میں عملے کے ارکان حفاظتی معاملات پر اس حد تک تشویش کا شکار ہیں کہ کام پر نہیں آرہے ہیں۔

گزشتہ ماہ یعنی جولائی کی بیس تاریخ کو شہر کے علاقے سہراب گوٹھ کی ایک مضافاتی بستی جونیجو کالونی میں واقع ثناء کلینک میں اسحٰق نور نامی شخص کو کلینک میں داخل ہونے والے دو نامعلوم مسلح افراد نے گولی مار کر قتل کردیا تھا جو مختصر مدت کے معاہدے پر ڈبلیو۔ ایچ۔ او کے لیے کام کرتے تھے۔

اس واقعے سے تین روز قبل یعنی سترہ جولائی کو بھی اسی علاقے سہراب گوٹھ کی کچی آبادی مچھر کالونی میں بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے جانے کی مہم میں شامل اقوام متحدہ کی گاڑی پر فائرنگ سے ایک غیر ملکی ڈاکٹر ڈیڈو فاسٹن اور ان کے پاکستانی ڈرائیور زخمی ہوئے تھے۔

ان خبروں میں یہ دعوٰی بھی کیا گیا کہ ایسے حملوں کے بعد عملے میں زبردست خوف و ہراس کی وجہ سے عالمی ادارہ شہر میں پولیو مہم کی آزادانہ نگرانی میں بھی ناکام ہوگیا ہے۔

لیکن بی بی سی گفتگو کرتے ہوئے ڈبلیو ایچ او کی ترجمان مریم یونس کا کہنا تھا کہ پورے شہر میں نہیں بلکہ محض کچھ علاقوں میں کام متاثر ہوا ہے۔ سرگرمیاں بند نہیں کی گئی ہیں بلکہ کچھ عرصے کے معطل کی گئی ہیں۔

ادارے کی پولیو مہم کے نگران ڈاکٹر الیاس دوّرے نے بی بی سی کو بتایا کہ عالمی ادارۂ صحت پولیوں کے مرض کے خلاف حکومت پاکستان، صوبۂ سندھ کے حکام اور ملک بھر کے عوام کی بھرپور مدد جاری رکھے گا تاکہ پولیو کےمرض کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا جائے۔

لیکن ڈاکٹر الیاس نے تسلیم کیا کہ شہر کے جن علاقوں میں حملے ہوئے وہاں تو ادارے کے عملے کی سرگرمیاں عارضی طور پر معطل کردی گئیں، لیکن ملک بھر کے تمام علاقوں میں یہ سرگرمیاں طے شدہ معمول کے مطابق جاری ہیں۔

انہوں نے کہا کہ عملے کی سرگرمیاں بھی انہی علاقوں میں معطل کی گئی ہیں جہاں ایسے حملے ہوئے اس کے علاوہ شہر کے دیگر علاقوں میں معمول کا کام جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم جو کچھ بھی کر رہے ہیں حکومت پاکستان کی مدد کے لیے کر رہے ہیں۔

ڈاکٹر الیاس نے کہا کہ حکام ادارے کے عملے کی حفاظت کے لیے ہر ممکن تعاون کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’عملے اب محتاط انداز سے کام کر رہا ہے کیونکہ ہم نہیں جانتے کہ سہراب گوٹھ کے علاقے میں جو کچھ ہوا وہ دوبارہ بھی ہوسکتا ہے یا نہیں‘۔

اسی بارے میں