توہین آمیز مواد کیا ہے، طے کون کرے گا؟

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption جنرل مشرف کے دور میں بھی متعدد بلوچ ویب سائٹس تک رسائی بند کی گئی

پاکستان میں حکومت مخالف یا اقلیتی گروہوں کے حالات کا پرچار کرنے والی ویب سائٹس کی بندش کا معاملہ حالیہ دنوں میں خاصا گرم رہا ہے اور ویب سائٹس تک رسائی روکنے کے عمل کو شفاف بنانے کا مطالبہ زور پکڑتا جا رہا ہے۔

انٹرنیٹ کی آمد کے بعد کافی عرصہ تک اس پر رسائی کے معاملے میں پاکستان میں حکومتی عمل دخل نمایاں نہیں تھا اور کم ہی حکومت کسی ویب سائٹ تک رسائی بند کیا کرتی تھی۔

دو ہزار چھ میں فوجی صدر جنرل پرویز مشرف کے دور میں پہلی بار حکومت نے اس طریقہ کار کو اپنایا جس پر مختلف حلقوں کی طرف سے شدید ردعمل بھی سامنے آیا۔

مشرف دورِ حکومت میں متعدد بار مختلف ویب سائٹس بند کی گئیں جن میں بلوچ ویب سائٹس نمایاں تھیں۔

دو ہزار دس کے بعد پاکستان میں حکومت کی جانب سے انٹرنیٹ پر مختلف ویب سائٹس تک رسائی کی بندش کے عمل میں تیزی دیکھنے میں آئی۔

اس عرصے کے دوران جہاں پیغمبرِ اسلام کے توہین آمیز خاکوں کی وجہ سے فیس بک تک رسائی بند کی گئی وہیں اقلیتی گروہوں کی ویب سائٹس بھی حکومتی پابندیوں کا نشانہ بنی۔

ایسی پابندی کی تازہ مثال شیعہ اقلیت سے تعلق رکھنے والے افراد کی ہلاکتوں کے اعداد و شمار دینے والی ایک ویب سائٹ ہے جسے حال ہی میں بلاک کر دیا گیا اور سوشل میڈیا اور سماجی تنظیموں کے احتجاج کے بعد وزیرِ داخلہ رحمان ملک نے اسے بحال کروایا۔

بلوچ ویب سائٹ ’راستھ‘ کے منتظم اور بلوچ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن کی مرکزی کمیٹی کے ممبر صہیب بلوچ کے خیال میں پاکستان میں ویب سائٹس پر پابندی کا کوئی قاعدہ ہی نہیں۔ بی بی سی اردو کے طاہر عمران سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’حالت یہ ہے کہ ’صرف اگر کسی ویب سائٹ کے نام میں لفظ بلوچ ہو تو اسے بند کر دیا جاتا ہے‘۔

انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ ’بلوچ حال ایک غیر جانبدار اور نسبتاً پاکستان کی طرف جھکاؤ رکھنے والی ویب سائٹ ہے لیکن اسے بھی بند کر دیا گیا ہے‘۔

انسانی حقوق کے لیے سرگرم بلاگر ثناء سلیم کا کہنا ہے کہ ’جب حکومت کوئی ویب سائٹ بند کرتی ہے تو کچھ نہیں بتاتی اور اس معاملے میں حکومت نے بہت غیر واضح سا ایک پیرایہ رکھا ہوا ہے۔ عمومی طور پر قومی سلامتی اور فحاشی وجوہات بتائی جاتی ہیں۔ لیکن ان کی تعریف کہیں نہیں کی گئی ہے جو کہ بالکل غیر قانونی ہے‘۔

انہوں نے مزید کہا کہ جو کمیٹی یا ادارے اس مقصد کے لیے بنے ہیں کسی کو نہیں پتا کہ ان کے ممبر کون ہیں اور کبھی بھی اس بارے میں عوام کو معلومات نہیں دی گئیں‘۔

پاکستان میں مختلف ویب سائٹس تک رسائی روکنے کا اختیار وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی اینڈ ٹیلی کام (آئی ٹی اینڈ ٹی) اور پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کے پاس ہے جسے قومی سلامتی کے خلاف، فحش یا توہین آمیز مواد رکھنے والی ویب سائٹس بند کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔

وزارت آئی ٹی اینڈ ٹی کے وفاقی سیکرٹری اور پی ٹی اے کے مجوزہ چیئرمین فاروق اعوان نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’آزادئ اظہار ایک آئینی ضمانت کے تحت دی جاتی ہے اور اس پر حکومت کی پالیسی آئینی ممکنات کے ساتھ ہم آہنگ ہے۔ لیکن ہمیں اس کے ساتھ یہ بھی دیکھنا پڑتا ہے کہ آزادئ اظہار میں ذمہ داری ہے یا نہیں‘۔

ان کے مطابق ’انٹرنیٹ ایک ایسی چیز ہے جس کو ہر عمر اور ہر طبع کے لوگ استعمال کرتے ہیں اور چونکہ ہر طبقے کو اس تک رسائی ہوتی ہے اس لیے یہ بہت ضروری ہے کہ لوگ ذمہ داری کے ساتھ معلومات کا استعمال کریں اور اپنے خیالات کا پرچار کریں‘۔

پاکستان کے انسانی حقوق کمیشن کے نمائندے حسین نقی کے خیال میں پاکستان میں ویب سائٹنس کی بندش میں تعصب اور حکومتی ترجیحات دو اہم پہلو ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ہمارے یہاں بعض دہشت گرد تنظیموں کی ویب سائٹس بند نہیں کی جاتیں جبکہ بعض ایسی ویب سائٹس جو صرف معلومات فراہم کرتی ہیں ان تک رسائی بند کر دی گئی ہے۔ جس سے تعصب کی بنا پر تفریق کا عنصر ملتا ہے‘۔ انہوں نے کہا کہ ایسی کوششوں سے ویب سائٹس بند کرنے والوں کی ترجیحات کا بھی پتہ چلتا ہے۔

انفارمیشن ٹیکنالوجی ویب سائٹ سی آئی او پاکستان کی ایڈیٹر رابعہ غریب ویب سائٹس کی بندش کی فیصلہ سازی کے عمل میں حکومت کے ساتھ دیگر فریقوں کی نمائندگی بھی چاہتی ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ’اس بات کی کون تعریف کرے گا کہ کیا توہین آمیز ہے؟ اور وہ کون لوگ ہیں جو بیٹھ کر اس چیز کی تعریف کریں گے کہ متعلقہ مواد واقعی توہین آمیز ہے کہ نہیں؟‘

رابعہ غریب کا مزید کہنا تھا کہ ’جب اس طرح کے فورم میں مساوی بنیادوں پر نمائندگی نہیں ہوگی تو ہمیشہ مختلف قسم کے لوگ اپنے مفادات کی خاطر ناجائز فائدے اٹھاتے رہیں گے‘۔

ان کے مطابق ضرورت اس امر کی ہے کہ متعلقہ فریق اس مسئلے کا ایک مشترکہ حل تجویز کریں کیونکہ ضروری نہیں جو لوگ اس عمل کی مخالفت کر رہے ہوں وہ غلط ویب سائٹس کے رسائی میں آزادی کے حق میں ہوں۔

اسی بارے میں