توہین عدالت کے قوانین کا تقابلی جائزہ

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption وفاق پاکستان یعنی حکومت کے وکیل جسٹس (ر) عبدالشکور پراچہ نے سپریم کورٹ میں دوران سماعت یہ تسلیم کیا کہ نیا قانون ایک وزیراعظم کھونے کے بعد دوسرے کو بچانے کے لیے لایا گیا۔

پاکستان میں توہین عدالت کے نئے قانون میں ویسے تو پرانے قانون کی نسبت بہت زیادہ تبدیلیاں کی گئی ہیں لیکن سب سے زیادہ قابل اعتراض نکتہ صدر، وزیراعظم، گورنر، وزیراعلیٰ، وفاقی اور صوبائی وزراء کو توہین عدالت سے مستثنیٰ قرار دینا بنا ہے۔

حکومت تو کہتی ہے کہ آئین کی شق دو سو اڑتالیس کے تحت عوامی عہدے رکھنے والوں کو جو استثنیٰ حاصل ہے اس کی وجہ سے انہوں نے یہ شق شامل کی ہے۔

لیکن بیشتر وکلاء کہتے ہیں کہ آئین کی شق دو سو چار جو توہین عدالت کے بارے میں ہے اس میں ’کسی شخص‘ کو استثنیٰ حاصل نہیں ہے۔

توہین عدالت کے نئے قانون کے حامیوں اور مخالفین کی رائے اپنی جگہ لیکن اس سارے معاملے کو ایک نیا رخ اس وقت ملا جب وفاق پاکستان یعنی حکومت کے وکیل جسٹس (ر) عبدالشکور پراچہ نے سپریم کورٹ میں دوران سماعت یہ تسلیم کیا کہ نیا قانون ایک وزیراعظم کھونے کے بعد دوسرے کو بچانے کے لیے لایا گیا۔

توہین عدالت کے سنہ دو ہزار تین میں جنرل مشرف کے جاری کردہ آرڈیننس کے تحت نافذ قانون اور حال ہی میں پارلیمان سے منظور کردہ توہین عدالت کے قانون کا تقابلی جائزہ لیں تو معلوم ہوگا کہ نئے قانون میں بہت سی نئی چیزیں سامنے آتی ہیں۔

پہلے والے قانون میں توہین عدالت کی تین اقسام بیان کی گئی ہیں، جس میں دیوانی، عدالتی اور فوجداری نوعیت کی توہین شامل ہے۔ جبکہ نئے قانون میں سب کو یکجا کیا گیا ہے۔

جسٹس (ر) طارق محمود کہتے ہیں کہ توہین عدالت کے نئے قانون میں ایک اختلافی نکتہ یہ بھی ہے کہ اپیل داخل ہونے کے بعد توہین عدالت کی سزا حتمی تصور نہیں ہوگی بلکہ جب تک اپیل اور نظر ثانی کی درخواستوں پر فیصلہ نہ آجائے تب تک سزا کی اہمیت نہیں ہوگی۔

نئے قانون میں ماضی کی نسبت یہ بات بھی نئی ہے کہ اگر کوئی جج کسی کے خلاف توہین کی کارروائی شروع کرے تو وہ اس مقدمے کی خود سماعت نہیں کر سکتا۔ نیز یہ کہ اگر چیف جسٹس کا معاملہ ہو تو اس صورت میں بنچ بنانے کا اختیار چیف جسٹس کے بجائے دو سینئر ججوں کو حاصل ہوگا۔

جسٹس (ر) طارق محمود کہتے ہیں کہ پہلے والے قانون میں لفظ ‘عدلیہ کی تضحیک کرنا’ شامل تھا اور اس بنا پر ہی سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کو سزا ہوئی لیکن نئے قانون میں یہ لفظ غائب ہے۔

ان کے بقول نئے قانون میں یہ بھی ہے کہ اگر کسی نے جج کے خلاف سچائی پر مبنی کوئی بیان دیا ہے تو وہ توہین عدالت نہیں ہوگی اور اگر اس نکتے پر عدلیہ چاہے تو بند کمرے میں سماعت کرسکتی ہے۔

اسی بارے میں