سندھ:’پولیس برہنہ حالت میں تھانے لائی‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption عام شہری واقعے کی مذمت تو کرتے ہیں مگر ان کی طرف سے کوئی باضابطہ احتجاج ریکارڈ نہیں کرایا گیا

پاکستان کے صوبہ سندھ کے شہر گمبٹ میں پولیس نے دو خواتین اور ایک مرد کو گرفتار کرنے کے بعد ان کے خلاف ’زناکاری کے ارادے‘ کا مقدمہ درج کیا ہے جس میں مدعی اور گواہ پولیس ہی ہے۔

ستائیس جولائی کی رات کو پیش آنے والے واقعے کے حوالے سے ایک ویڈیو کلپ بھی مقامی لوگوں میں زیر بحث ہے جس میں ایک مرد اور ایک عورت برہنہ حالت میں ہیں اور وہ کپڑے پہننے کی کوشش کرتے ہیں مگر پولیس اہلکار انہیں ایسا کرنے نہیں دیتے۔

اس ویڈیو کلپ اور واقعے کے بارے میں ایس ایچ او گمبٹ سے کئی مرتبہ رابطہ کیا گیا وہ موقف دینے کی حامی بھرتے رہے لیکن بعد میں ٹیلی فون بند کر دیا، جب ان کی تلاش میں تھانے پہنچے تو بتایا گیا کہ وہ گشت پر ہیں تاہم ڈی یس پی صغیر مغیری نے واقعے سے لاعلمی کا اظہار کیا اور کہا کہ اس بارے میں تھانے سے معلومات حاصل کی جائیں۔

پولیس کی جانب سے درج کیے گئے مقدمے میں کہا گیا ہے کہ’پولیس کو ایک جاسوس کی مدد سے معلوم ہوا کہ ممتاز نامی شخص نے دو خواتین کو جنسی تعلقات کے لیے بلایا ہے، پولیس وہاں پہنچی تو بیٹھک کا دروازہ کھلا تھا، بجلی کی روشنی میں دیکھا کہ ایک شخص دو خواتین کو بازوں میں لیکر بیٹھا ہوا ہے، اس وقت کوئی گواہ دستیاب نہیں تھا اس لیے پولیس نے دو وہاں موجود دو اہلکاروں کو گواہ مقرر کیا۔‘

پولیس کے اس بیان کے برعکس گرفتاری کے بعد پیش آنے والے واقعے کے کئی چشم دید گواہ ہیں۔

جنہوں نے یہ دیکھا کہ ایک برہنہ عورت اور مرد کو پولیس گلیوں سے لیکر آ رہی تھی، اس دوران پولیس کا شیخ چوک سے بھی گذر ہوا، یہ چوک میر بحر محلہ سے نصف کلومیٹر دور ہے، جہاں سے پولیس نے یہ گرفتاریاں ظاہر کی ہیں۔

جہاں اس واقعہ کہ عینی شاہدین نے بی بی سی کو بتایا کہ’انہوں نے ایس ایچ او کو کہا کہ وہ غلط کر رہے ہیں جس کے بعد انہوں نے عورت کو موبائل گاڑی میں اسی حالت میں سوار کر دیا مگر ممتاز کو پولیس موبائل کے آگے چلاتے ہوئے تھانے تک لے گئے۔‘

عینی شاہدین کے مطابق دوسری خاتون نے پورا لباس پہن رکھا تھا۔

پولیس کی جانب سے ملزم قرار دیے گئے ممتاز حسین میر بحر مقامی تاجر ہیں، انہوں نے مقامی عدالت سے ضمانت حاصل کر لی ہے جبکہ خواتین لاڑکانہ جیل میں ہیں۔

ممتاز حسین میر بحر نے بی بی سی کو بتایا کہ پولیس نے ان کے خلاف سازش اور ناانصافی کی ہے۔

ممتاز حسین میر بحر کے مطابق وہ اس واقعے کو داغ قرار دیتے ہیں اور اس کو مٹانے کے لیے انہوں نے سندھ ہائی کورٹ میں پٹیشن بھی دائر کر دی ہے۔ جس کی سماعت آٹھ اگست کو ہوگی۔

گمبٹ میں تعلیم یافتہ اور کاروبار سے وابستہ لوگوں کی ایک بڑی تعداد رہتی ہے، عام شہری واقعے کی مذمت تو کرتے ہیں مگر ان کی طرف سے کوئی باضابطہ احتجاج ریکارڈ نہیں کرایا گیا۔

گمبٹ خیرپور ضلعی کی تحصیل ہے، سندھ کے وزیراعلیٰ سید قائم علی شاہ کا تعلق بھی خیرپور ہے۔ وہ علاقے میں موجود ہیں اور گمبٹ کے قریب واقعے صوفی شاعر سچل سرمت کے عرس کا افتتاح کیا۔

اسی بارے میں