سندھ: ’ووٹرز کی تعداد کم نہیں کی گئی‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

پاکستان کے صوبہ سندھ کے الیکشن کمشنر نے آئندہ انتخابات کے لیے سندھ کے لیے تیار کردہ انتخابی فہرستوں میں رائے دہندگان یا ووٹرز کی تعداد کم ظاہر کرنے کے تاثر کو رد کر دیا ہے۔

بعض پاکستانی ذرائع ابلاغ کے مطابق سنہ دو ہزار سات کی انتخابی فہرستوں کے مطابق سندھ میں ووٹرز کی تعداد ایک کروڑ پچانوے لاکھ انتالیس ہزار پانچ سو دس تھی جبکہ سنہ دو ہزار بارہ میں تیار کی گئی فہرست میں یہ تعداد ایک کروڑ چوراسی لاکھ بتیس ہزار آٹھ سو ستّتر ہے۔

سندھ کے لیے تیار کردہ نئی انتخابی فہرست کے مطابق ووٹرز کی تعداد میں پانچ برس پہلے کے مقابلے میں قریباًً گیارہ لاکھ چھ ہزار چھ سو تینتیس رائے دہندگان کم ظاہر کیے گئے ہیں۔ اس دوران نہ صرف ملک کی آبادی مسلسل بڑھتی رہی بلکہ خود حکومت ہی کے مرتب کردہ اقتصادی جائزے (یا بجٹ کے موقع پر پیش کیے جانے والے اکنامک سروے) کے مطابق ملک میں اٹھارہ سال سے زائد عمر، یا ووٹ دینے کے اہل سمجھے جانے والے افراد کی تعداد دس کروڑ چالیس لاکھ کے قریب جا پہنچی۔اگر یہ تعداد درست مان لی جائے تو تقریباً دو کروڑ ووٹرز کا نام ان فہرستوں میں درج نہیں ہے۔

دوسری جانب سندھ کے صوبائی الیکشن کمشنر سونو خان بلوچ کا کہنا ہے کہ نئی فہرستوں میں کم تعداد کی کئی وجوہات ہوسکتی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ووٹر بننے کے لیے ضروری ہے کہ متعلقہ فرد پاکستانی شہری ہو، اس کی عمر کم سے کم اٹھارہ برس ہو، اس نےنادرا سے کمپیوٹرائزڈ شناختی کارڈ حاصل کر رکھا ہو، جس علاقے سے ووٹر بننا چاہتا ہو اس علاقے کا رہائشی ہو اور اسے کسی مجاز عدالت نے ذہنی مریض قرار نہ دیا ہو۔

سونو خان بلوچ کا کہنا تھا کہ نئی انتخابی فہرستوں میں چونکہ کمپیوٹرائزڈ شناختی کارڈ لازمی قرار دیا گیا ہے لہذا انتخابی فہرست میں ووٹرز کی تعداد میں کمی کی بڑی وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے۔

صوبائی الیکشن کمشنر کے مطابق نئی انتخابی فہرستوں میں ووٹرز کی تعداد میں کمی کی دوسری وجہ یہ ہے کہ جن افراد نے کمپیوٹرائزڈ شناختی کارڈ حاصل کر لیا ہے ان کا ایک سے زائد بار اندراج (ڈپلیکیشن) ان کارڈز کے ذریعے درست ہوگیا ہو، یا پھر بہت سے لوگ ایسے ہوں گے جو ابھی چند ہی دن قبل عمر کی اس حد تک پہنچے ہوں کہ وہ شناختی کارڈز کو حاصل کرنے کی اہلیت پوری کرسکیں اور آخری وجہ شناختی کارڈ کے لیے بہت سے لوگوں کی درخواستیں ابھی نادرا کے دفتری مراحل سے گزر رہی ہوں۔

انہوں نے کہا کہ طے شدہ آئینی و قانونی طریقۂ کار کے مطابق ان فہرستوں کا جائزہ لیا جاتا ہے ان میں ترامیم یا تبدیلیاں کی جاتی ہیں اور یہ سلسلہ آئندہ انتخابات تک جاری رہے گا اور اس وجہ سے رائے دہندگان کی ان فہرستوں میں تبدیلیاں بھی ہوتی رہیں گی۔

سونو خان بلوچ نے کہا کہ انتخابی فہرست میں ووٹرز کی تعداد کم ہونے کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ گزشتہ انتخابات کے وقت کمپیوٹرائزڈ شناختی کارڈ کی شرط لازمی نہیں تھی۔

صوبائی الیکشن کمشنر نے کہا کہ اقتصادی جائزہ (اکنامک سروے) درست اعداد و شمار کی بجائے اندازے اور قیاس پر مبنی ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سنہ دو ہزار آٹھ میں قومی سطح پر مردم شماری کا نہ ہونا بھی ایک بڑی وجہ بنا۔

ان کا کہنا تھا کہ اب یہ الیکشن کمیشن کا کام یہ ہے کہ ہر شہری جو ان پانچ شرائط پر پورا اترتا ہو اس کا اندراج ان انتخابی فہرستوں میں کیا جائے۔

سونو خان بلوچ نے لوگوں کو مشورہ دیا کہ جو افراد ان شرائط پر پورا اترتے ہیں وہ اپنے متعلقہ علاقے کے افسران سے رابطہ کرکے اپنا نام درج کروالیں جو ایک انتہائی سادہ عمل سے ہوسکتا ہے۔

سندھ کے الیکشن کمشنر کی اس رائے سے پاکستان میں انتخابات کی نگرانی کرنے والے کئی غیر سرکاری ادارے کسی حد تک متفق بھی ہیں اور ایسی کئی این جی اوز کا کہنا ہے کہ اگر غیر سرکاری اداروں اور سیاسی جماعتوں کے لیے انتخابی فہرستوں تک دسترس آسان بنا دی جائے تو ان کی نظر سے گزرنے والے مواد کو بھی نشاندہی کے ذریعے درست کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

اسی بارے میں