’سیاسی پارٹی بنانے کا ارادہ نہیں ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

جماعت الدعوۃ کے سربراہ اور دفاع پاکستان کونسل کے راہنما حافظ محمد سعید کا کہنا ہے کہ وہ نہ تو سیاسی آدمی ہیں اور نہ ہی کوئی سیاسی پارٹی بنانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ رفاہی کام اور ملکی دفاع ان کی اولین ترجیح ہے اور اسی پر ان کی توجہ مرکوز ہے۔

بی بی سی نیوز کے احمد ولی مجیب کے مطابق جمعہ کو کراچی کے ایک مقامی ہوٹل میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ الیکشن میں ووٹ دینے کے بارے میں ان کے کارکن اور حامی آزاد ہیں۔ وہ جس کو چاہے اپنا حق رائے دہی استعمال کر سکتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ماضی میں ان کے حامی جماعت اسلامی اور مسلم لیگ نواز کو ووٹ دیتے رہے ہیں۔اب بھی کارکنان اپنی مرضی سے ووٹ دینے کے لیے آزاد ہیں۔

ان کا خیال ہے کہ اب تحریک انصاف بھی ایک ایسی سیاسی جماعت ہے جسے جماعت الدعوۃ کے کارکن ووٹ دے سکتے ہیں۔

بقول ان کے یہ کارکنوں کی اپنی مرضی ہے اور تنظیم کی طرف سے ان پر کوئی پابندی نہیں۔

جماعت الدعوۃ حالیہ برسوں میں ملک بھر میں رفاہی کاموں کے حوالے سے انتہائی متحرک اور فعال نظر آتی ہے۔

حافظ سعید کے مطابق ملک کے بہت سے علاقوں میں جماعت الدعوۃ کا طبی عملہ کام کر رہا ہے۔

ملک کے سب سے بڑے صوبے پنجاب سمیت خیبر پختونخوا، بلوچستان اور سندھ کے دیہی علاقوں میں رفاہی سرگرمیوں کا ایک مضبوط نیٹ ورک موجود ہے۔

جماعت الدعوۃ کے ووٹ کی عام انتخابات میں کتنی اہمیت ہے۔

اس پر معروف صحافی اور تجزیہ نگار قیصر محمود کا کہنا تھا کہ جماعت الدعوۃ بعض حوالوں سے ایک موثر قوت نظر آتی ہے لیکن اسے ایسی سیاسی قوت کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا جس کا ووٹ انتخابی نتائج پر زیادہ اثر انداز ہو سکے۔

جماعت الدعوۃ کے سربراہ کا یہ بیان ایک ایسے وقت پر آیا ہے جب ایک طرف توملک میں نئے انتخابات کے امکانات بڑھ رہے ہیں تو وہیں حافظ سعید نے ملک کی مذہبی اور دائیں بازو کی جماعتوں کے مشترکہ پلیٹ فارم دفاع پاکستان کونسل کی طرف سے نیٹو رسد کی بحالی کے فیصلے کے خلاف تحریک چلانے کا اعلان کیا ہے۔

نیٹو سپلائی کے خلاف ملک بھر میں مظاہروں کا سلسلہ تو جاری ہے۔

دفاع پاکستان کونسل نے رمضان کے بعد سپلائی کے مزاحمت کے لیے بھر پور احتجاجی تحریک کا اعلان کر رکھا ہے۔

حافظ سعید کا کہنا ہے کہ تحریک کا آغاز کراچی سے شروع ہونے والے لانگ مارچ سے کیا جائے گا اور حکومتی فیصلے خلاف مزاحمت کی جائے گی۔

حافظ سعید کہنا تھا کہ وہ کسی بھی صورت پر نیٹو سپلائی کی بحالی کو تسلیم نہیں کرتے۔

امریکا کو حافظ سعید اور ان کی تنظیم کی سرگرمیوں کے حوالے شدید تحفظات ہیں جس کا اظہار اکثر اعلیٰ امریکی عہد دار کرتے ہیں۔

جب کہ بھارت کھل کر حافظ سعید اور ان کی تنظیم پر بھارت میں دہشت گردی کا الزام عائد کرتا ہے۔

اسی بارے میں