’برہنہ پریڈ‘ کرانے والا ایس ایچ او گرفتار

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption گمبٹ تھانے پر سرکار کی مدعیت میں یہ مقدمہ دائر ہوا ہے، جس میں تعذیرات پاکستان کی دفعات دو سو بیس، تین سو چون اور پانچ سو نو لاگو کی گئی ہیں۔

سندھ کے شہر گمبٹ میں ایک مرد اور نوجوان عورت کو برہنہ پریڈ کرانے کے الزام میں ایس ایچ او سمیت تین پولیس اہلکاروں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ اس واقعہ میں مبینہ طور پر ملوث چھ اہلکاروں پر کسی کی تذلیل اور اختیارات کے ناجائز استعمال کا الزام ہے۔

گمبٹ تھانے پر سرکار کی مدعیت میں یہ مقدمہ دائر ہوا ہے، جس میں تعذیرات پاکستان کے زیر دفعہ دو سو بیس، تین سو چوّن اور پانچ سو نو لاگو کی گئی ہیں۔

گمبٹ تھانے کے ہیڈ محرر نظر جسکانی نے بی بی سی کو بتایا کہ اس مقدمہ میں کہا گیا ہے کہ ملزم ایس ایچ او خیر محمد سمیجو، اے ایس آئی امیر علی شر، اے ایس آئی غلام اکبر، اے ایس آئی رحیم بخش جامڑو اور دو پولیس اہلکاروں ممتاز میر بحر، مسمات عظمیٰ اور مسمات ثمینہ کو اٹھائیس جولائی کی شب زنا کے ارادے کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔

مقدمے کے مطابق گرفتار افراد کو بیٹھک سے تھانے تک برہنہ حالت میں لایا گیا، جس سے ان کی تذلیل ہوئی اور اس طرح پولیس نے اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کیا۔

ایس پی عرفان بلوچ نے بی بی سی کو بتایا کہ اس مقدمے کے بعد پولیس نے ایس ایچ او خیر محمد سمیجو، اے ایس آئی رحیم بخش جامڑو اور دو پولیس اہلکاروں کو گرفتار کرلیا ہے جبکہ دو مفرور اے ایس آئی بھی جلد گرفتار ہوجائیں گے۔ واقعے کی تفتیش ڈی ایس پی گمبٹ صغیر مغیرو کو سونپی گئی ہے۔

یاد رہے کہ اس سے پہلے ایس پی خیرپور عرفان بلوچ کا کہنا تھا کہ جس جگہ پر پولیس نے چھاپہ مارا وہاں ’فحاشی‘ کا اڈہ تھا، لوگوں نے ایس ایچ او کو شکایت کی تھی جس پر پولیس نے لوگوں کے ساتھ چھاپہ مارا تو وہاں واقعی ’فحاشی‘ کا اڈہ موجود تھا، جس کے بعد ملزمان کو گرفتار کیا گیا۔

پولیس کی جانب سے دائر ایف آئی آر میں ایس پی کے اس موقف کی نفی ہوتی ہے، ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ وہاں کوئی شخص موجود نہیں تھا اس لیے پولیس خود مدعی اور گواہ بنی۔

ممتاز میر بحر کا الزام ہے کہ پولیس نے ماہانہ نہ دینے پر یہ کارروائی کی لیکن ایس پی کا کہنا ہے کہ یہ تاجر کو حراساں کرنے کے لیے نہیں کیا گیا۔

دوسری جانب گمبٹ کی کچی آبادی میں جسے میربحر محلہ کہا جاتا ہے یہ بیٹھک واقعے ہے۔ جب ہم وہاں پہنچے تو دو کمروں پر مشتمل اس گھر میں دھول جمی ہوئی تھی، ایک کمرے میں چند تکیے پڑے ہوئے تھے جبکہ کسی بھی قسم کے فرنیچر کا کوئی نام و نشان موجود نہ تھا۔

ممتاز میر بحر نے بتایا کہ یہ بیٹھک ان کی ملکیت ہے، ان کا گھر یہاں سے تھوڑا دور ہے اور وہ یہ جگہ کرائے پر دینا چاہتے ہیں۔ بعض لوگوں کو ممتاز کی سرگرمیوں پر اعتراض ہے جس کی وجہ سے پولیس ریکارڈ کے مطابق اس جگہ پر پہلے بھی چھاپہ پڑ چکا ہے۔

دریں اثناء اس حلقے سے پاکستان پیپلز پارٹی کے رکن سندھ اسمبلی نعیم کھرل نے میڈیا کو بتایا کہ انہوں نے ایس ایس پی خیرپور کو اس واقعے کی تحقیقات کی ہدایت کی تھی، تاہم انہیں ابھی تک اس کی رپورٹ نہیں ملی ہے۔

خیرپور ضلعے میں سرگرم کئی غیر سرکاری تنظیمیں بھی اس واقعہ کے بارے میں کسی قسم کا ردعمل دکھانے میں ناکام رہیں ہیں۔

اسی بارے میں