نیٹو کنٹینرز پر حملہ، ڈرائیور ہلاک

پاکستان کے قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں نامعلوم مُسلح شدت پسندوں نےافغانستان میں نیٹو افواج کے لئے سپلائی کرنے والے کنٹینرز پر حملہ کرکے ڈرائیور کو ہلاک کر دیا ہے۔

مقامی انتظامیہ کے اہلکار نے بی بی سی کے نامہ نگار دلاورخان وزیر کو بتایا کہ پیر کی صُبح خیبر ایجنسی کی تحصیل جمرود میں شہر کے قریب ٹیٹڈی بازار میں نیٹو کٹینرز پر نامعلوم مُسلح شدت پسندوں نے اس وقت فائرنگ کی جب وہ افغانستان کی طرف جا رہی تھی۔انہوں نے بتایا کہ حملے میں گاڑی کا ڈرائیور موقع پر ہی ہلاک جبکہ کنڈیکٹر زخمی ہوا۔

سرکاری اہلکار نے بتایا کہ نیٹو سپلائی کی سکیورٹی پر مامور خاصہ دار فورس کے اہلکاروں نے شدت پسندوں پر جوابی فائرنگ کی ہے لیکن وہ موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔ اہلکار کا کہنا تھا کہ مُسلح حملہ اور نقاب پوش تھے جو ایک موٹر سائیکل پر سوار تھے۔

حکام کے مطابق حملے کے وقت اٹھارہ کنٹینرز ایک ساتھ جا رہے تھے جس کی سکیورٹی کے لیے خاصہ دار فورس کے اہلکار بھی موجود تھے۔ انھوں نے مزید بتایا کہ خاصہ دار فورس کی تعداد اتنی نہیں ہے کہ وہ شاہراہ کے ہر مقام پر سکیورٹی دے سکےاور دوسرا یہ کہ شاہراہ پر رش کی وجہ سے شدت پسندوں کا پتہ چلانا بھی کافی مُشکل ہے۔

یاد رہے کہ بارہ دن پہلے خیبر ایجنسی کی تحصیل جمرود میں ٹیٹڈی بازارکے قریب موٹر سائیکل سوار حملہ آوروں نے نیٹو کنٹینرز پر حملہ کیا تھا جس میں ایک ڈرائیور ہلاک ہوگیا تھا جس کے بعد خیبر ایجنسی کی پولیٹیکل انتظامیہ اور خیبرپختونخوا کی صوبائی حکومت نے سیکورٹی خدشات کے باعث پشاور موٹر وے اور رنگ روڈ پر نیٹو کنٹینرز کو روک لیا تھا۔

تاھم دو دن پہلے نیٹو سپلائی دوبارہ بحال کردی گئی تھی۔حکام کا کہنا ہے کہ اس واقعہ کے بعد نیٹو سپلائی ایک بار پھر وقتی طورپر معطل کردی گئی ہے البتہ مقامی انتظامیہ نے کوششیں شروع کی ہیں اور سکیورٹی کلیئرنس کے بعد نیٹو سپلائی کے کنٹنیرز افغانستان کی طرف روانہ کردی جائےگی۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ اکتیس جولائی کو پاکستان نے امریکی حکام کے ساتھ نیٹو سپلائی کی بحالی سے متعلق معاہدے پر دستخط کر کے اپنے آپ کو سپلائی بحالی کے لیے باقاعدہ پابند بنا لیا ہے اور یہی وجہ ہے کہ مزید کسی تعطل اور تاخیر کے بغیر طورخم کے راستے نیٹو کی سپلائی کو دوبارہ بحال کر دیا گیا ہے لیکن سکیورٹی کے انتظامات انتہائی ناقص دیکھائی دیتی ہے۔

اسی بارے میں