بلوچستان: ڈاکٹروں کی ہڑتال کا دوسرا ہفتہ

Image caption پی ایم اے بلوچستان کے صدر سلطان ترین نے کہا کہ اگر کل تک ڈاکٹر غلام رسول بازیاب نہ ہوئے تو ہسپتالوں میں ایمرجنسی سروسز کو بھی بند کردیا جائے گا۔

بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سے ایک ہفتہ قبل اغواء ہونے والے ماہر نفسیات پروفیسر ڈاکٹر غلام رسول کے اغوا کے خلاف آج بھی کوئٹہ اور صوبے کے دیگرشہروں میں ڈاکٹروں نے ہسپتالوں کا بائیکاٹ کیا۔

پچھلے ایک ہفتے سے جاری رہنے والی اس ہڑتال کی وجہ سے پیدہ ہونے والی صورتحال سے مریضوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے خاص طور پر ایسے مریض جن کے آپریشن متوقع ہیں۔

ڈاکٹروں کی تنظیم پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن بلوچستان کے زیر اہتمام آج صبح سول ہسپتال کوئٹہ سے ایک احتجاجی ریلی نکالی گئی جس نے وزیراعلیٰ ہاؤس جانے کی کوشش کی۔ تاہم پولیس نے ریلی کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کر کے ریلی کو آگے جانے سے روک دیا۔

اس پر ڈاکٹروں نے جی پی او چوک میں دھرنا دیا اور ڈاکٹر غلام رسول کی بازیابی کے لیے احتجاجی مظاہرہ جاری رکھا۔ ریلی میں ڈاکٹروں کے علاوہ سیاسی جماعتوں کے قائدین، وکلاء، نرسز پیرامیڈیکل سٹاف، اساتذہ اور طلباء نے بھی شرکت کی۔

اس موقع پر پی ایم اے بلوچستان کے صدر سلطان ترین نے کہا کہ اگر کل تک ڈاکٹر غلام رسول بازیاب نہ ہوئے تو ہسپتالوں میں ایمرجنسی سروسز کو بھی بند کردیا جائےگا۔

انہوں نے صوبائی حکومت پر بھی شدید تنقید کی اور کہا کہ حکومت صوبے میں امن وامان برقرار رکھنے میں ناکام ہوچکی ہے جس کی وجہ سے عوام کے جان اور مال محفوظ نہیں ہیں۔

گذشتہ سات روز سے جاری احتجاج کے باعث کوئٹہ سمیت صوبے بھر میں مریضوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ ہڑتال کی وجہ سے بولان میڈیکل کمپلیکس اور سول ہسپتال میں دو سو سے زائد آپریشن ملتوی ہوئے ہیں۔

وقت کے گزرنے کے ساتھ ساتھ ڈاکٹروں کے احتجاج میں شدت آتی جا رہی ہے اور اس میں ڈاکٹروں کے علاوہ زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد بھی حصہ لے رہے ہیں۔

احتجاج میں حصہ لینے والی خواتین ڈاکٹرز کی تعداد میں بھی خاطر خواہ اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جو اپنے ساتھی کی بازیابی کےلیے سڑکوں پر نکل آئی ہیں۔ اسی طرح نرسوں نے بھی کل سے ہسپتالوں کے بائیکاٹ کا اعلان کیا ہے۔

ِخیال رہے کہ بلوچستان میں گزشتہ چند سالوں سے اغواء برائے تاوان کے واقعات کا سلسلہ جاری ہے جس نے ایک منافع بخش کاروبار کی شکل اختیار کی ہے۔

چند ماہ قبل بلوچستان کے صوبائی وزیرداخلہ میرظفراللہ زہری نے ایک انٹرویو کے دوران کہا تھا کہ اغواء برائے تاوان کے اس منافع بخش کاروبار میں بعض وزراء بھی ملوث ہیں۔

بقول انکے اگروزیراعلیٰ بلوچستان نواب اسلم رئیسانی انہیں اجازت دیں تو وہ اغواء کاروں کے خلاف کارروائی کرسکتے ہیں۔

اغواء برائے تاوان کی بڑھتی ہوئی وارداتوں پر سپریم کورٹ آف پاکستان نے بھی شدید تشویش کا اظہار کیا ہے اور صوبائی حکومت کو کئی بار ہدایت کی ہے کہ وہ اس میں ملوث گروہوں کے خلاف کارروائی کرے۔

تاحال صوبائی حکومت کی جانب سے ان گروہوں کےخلاف موثر اقدامات دیکھنے میں نہیں آئے ہیں۔

اسی بارے میں