گمبٹ:گرفتار ایس ایچ او کے حق میں مظاہرہ

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption مظاہرین نے تھانے اور سب جیل کے سامنے دھرنا دیا

پاکستان کے صوبہ سندھ کے شہر گمبٹ میں ایک مرد اور عورت کو برہنہ گشت کرانے کے الزام میں گرفتار ایس ایچ او کی حمایت میں مذہبی جماعتوں نے مظاہرہ کیا ہے۔

جمعیت علمائے اسلام اور اہلسنت و الجماعت دیوبند کے کارکنوں نے منگل کو گمبٹ کے پھول چوک سے جلوس نکالا۔

مظاہرین شیخ محلہ پہنچے جہاں مبینہ طور پر مرد اور عورت کو برہنہ لایا گیا تھا، جس کے بعد مظاہرین نے تھانے اور سب جیل کے سامنے دھرنا دیا۔ اسی سب جیل میں ایس ایچ او سمیت چھ اہلکار قید ہیں۔

مظاہرین ایس ایچ او خیر محمد سمیجو کی رہائی اور بحالی کا مطالبہ کر رہے تھے، اس موقع پر مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ ایس ایچ او نے شہر میں فحاشی کے اڈے بند کرا دیے تھے، جس سے شہری خوش تھے۔

مقررین کا کہنا تھا کہ ایس ایچ او کا میڈیا ٹرائیل کیا جا رہا ہے، جس فوری طور روکا جائے، اس موقع پر بی بی سی پر بھی اس واقعے کی کوریج کرنے پر تنقید کی گئی۔

کراچی سے بی بی سی کے نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق ادھر سندھ اسمبلی میں منگل کو اراکین نے گمبٹ پولیس کے خلاف احتجاج ریکارڈ کرایا۔

متحدہ قومی موومنٹ کی رکن ہیر سوہو کا کہنا تھا کہ ایس ایچ او کو گرفتاری کے بعد بھی پروٹوکول دیا جا رہا ہے۔ ’اخبارات میں جو تصاویرشایع ہوئی ہیں، ان میں نظر آرہا ہے کہ ایس ایچ او لاک اپ میں موبائل ٹیلیفون پر بات کر رہے ہیں اور عدالت میں پیشی کے وقت پولیس موبائیل کی اگلی نشست پر بیٹھے ہیں‘۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

مسلم لیگ فنکشنل نصرت سحر عباسی نے پولیس کے اس عمل کو انسانیت کے لیے قابل شرم قرار دیا، ان کا کہنا تھا کہ اس سے دنیا میں پاکستان کا تصور خراب ہوا ہے۔

اس دوران صوبائی وزیر شرجیل میمن اور ایاز سومرو نے وضاحت پیش کرنی چاہی تو نصرت سحر اور ماروی راشدی نے انہیں کہا کہ قانون کے رکھوالوں نے خواتین کو برہنہ کیا وہ انہیں بچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اسی دوران ڈپٹی اسپیکر شہلا رضا اپنی نشست سے کھڑی ہوگئیں اور انہوں نے خواتین ارکان کو بھی ایسا کرنے کی درخواست کی، جس پر تمام خواتین ارکان کھڑی ہوگئیں بعد میں مرد ارکان نے بھی ان کا ساتھ دیا۔

صوبائی وزیر اطلاعات شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ پولیس نے مقدمہ درج کرکے ملزمان کو گرفتار کرلیا ہے، اب عدلیہ کا کام ہے کہ انہیں سزا دے۔

اسی بارے میں