بجلی کی طویل لوڈ شیڈنگ کی تفصیلات طلب

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption بجلی کی طویل بندش کے خلاف لوگوں کا احتجاج کرنا فطری ہے۔جسٹس عمر عطاء بندیال

چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ جسٹس عمر عطاء بندیال نے بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ کے معاملے پر وفاقی حکومت اور واپڈا سے ان وجوہات کی تفصیلات طلب کی ہیں جس کی وجہ سے شہریوں کو بجلی کی طویل بندش کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔

لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس مسٹر جسٹس عمر عطاء بندیال نےقرار دیا کہ ’بجلی کی طویل بندش کے خلاف لوگوں کا احتجاج کرنا فطری ہے‘۔

چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ نے یہ حکم بجلی کی طویل بندش ،اعلی شخصیات کو بجلی کی لوڈشیڈنگ سے استثنیٰ دینے اور کالا باغ ڈیم کی تعمیر کے بارے میں ایک نوعیت کی پانچ مختلف درخواستوں یکجا کرتے ہوئے دیا۔

یہ درخواستیں اظہر صدیق اور اے کے ڈوگر کے علاوہ دیگر وکلا نے دائر کی ہیں۔

چیف جسٹس ہائی کورٹ نے یہ ہدایت کہ بجلی بلوں سے ہونے والی آمدن اور اس کے اخراجات کی تفصیلات عدالت میں پیش کی جائیں۔ چیف جسٹس عمر عطاء بندیال نے حکم دیا کہ ان مسائل کے بارے میں بھی عدالت کو بتایا جایا جو بجلی کی پیدا وار میں کمی کی وجہ ہیں۔

سماعت کے دوران ہ واپڈا کے وکیل خواجہ احمد طارق رحیم عدالت میں پیش نہیں ہوئے اور واپڈا نے صوبوں میں ہونے والی بجلی کی لوڈشیڈنگ کا شیڈول پیش کرنے کے لیے مہلت مانگی۔

چیف جسٹس نے قرار دیا کہ ’اگر لاہور جیسے شہر میں سولہ سولہ گھنٹوں کی طویل بندش ہوگی تو عوام کس طرح خاموش رہ کرسکتے ہیں۔‘

لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس جسٹس عمر عطا بندیال نے افسوس ظاہر کیا کہ ائیر کنڈیشینر کمروں میں بیٹے اعلیٰ حکام کو لوگوں کی مشکلات کا انداز نہیں ہے۔

سماعت کے دوران درخواست گزار وکیل اظہر صدیق نے حکمران جماعت پیپلز پارٹی کے رکن قومی اسمبلی ندیم افضل چن کے بیان کا حوالہ دیا کہ بجلی کی غیر مساوی لوڈشیڈنگ کی جارہی ہے۔

ادھر کالاباغ ڈیم کی تعمیر کےبارے میں اے کے ڈوگر ایڈووکیٹ کی درخواست پر وفاقی حکومت نے عدالت کو بتایا کہ کالاباغ ڈیم چھ برس میں تعمیر ہوسکتا ہے تاہم چار میں سے تین صوبے اس منصوبے کی مخالفت کرچکے ہیں اور تین صوبائی اسمبلیوں نے اس کی تعمیر کے خلاف قرار دادیں بھی منظور کی ہیں۔

درخواستوں پر اب مزید سماعت سترہ اگست کو ہوگی۔

اسی بارے میں