’عدلیہ کی جلد بازی ایک حکمت عملی کا حصہ ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی سابق صدر عاصمہ جہانگیر نے کہا ہے کہ اگر عدلیہ کسی منصوبے کا حصہ ہو تو ملک کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

اُنہوں نے کہا کہ وکلاء عدلیہ کو مضبوط دیکھنا چاہتے ہیں لیکن اس کے اندر بیٹھنے والے افراد اس ادارے کو کمزور کر رہے ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ ملک میں جمہوریت نہیں چلے گی۔

بدھ کے روز سپریم کورٹ کے باہر میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے اُنہوں نے کہا کہ جب لوگوں کو یہ تاثر ملتنا شروع ہوجائے کہ عدالتیں فیصلے قانون کے مطابق نہیں بلکہ سیاسی سوچ اور ایک حکمت علمی کے تحت دے رہی ہیں تو پھر لوگوں کا اعتماد عدالتوں سے اُٹھنا شروع ہوجاتا ہے۔

’عدلیہ کی جلد بازی ایک حکمت عملی کا حصہ ہے‘: سنیے

عاصمہ جہانگیر کا کہنا تھا کہ این آر او عمل درآمد کیس میں ہونے والی کارروائی کسی خاص حکمت عملی کو مدنظر رکھتے ہوئے کی گئی۔ عاصمہ جہانگیر کا کہنا تھا کہ اگر عدالت اس مقدمے کی سماعت عید تک ملتوی کردیتی تو وزیر اعظم نے کہیں بھاگ نہیں جانا تھا۔ اُنہوں نے کہا کہ سمجھ نہیں آرہی کہ عدلیہ کو کس بات کی جلدی ہے۔

اُنہوں نے کہا کہ اگر چیف جسٹس کے صاحبزادے ڈاکٹر ارسلان افتخار کا مقدمے کے سماعت عید کے بعد کی جاسکتی تو وزیر اعظم کے مقدمے کے سماعت عید کے بعد کیوں نہیں ہوسکتی۔

سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی سابق صدر کے بقول عدلیہ کی جلد بازی ایک حکمت عملی کا حصہ ہے اور جب بھی عدلیہ کسی پلاننگ کا حصہ بنتی ہے تو ملک کو نقصان ہوتا ہے۔

اُنہوں نے آج کے دن کو ملکی تاریخ کا ایک اور سیاہ دن قرار دیا۔ عاصمہ جہانگیر کا کہنا تھا کہ وکلاء برادی اور ملک کی بار ایسوسی ایشنز تباہ ہو رہی ہیں اور ان کو جان نثار کلب نہ بنایا جائے کیونکہ یہ وکلاء کی پروفیشنل باڈی ہے کسی ایک جج کی شاخ نہیں ہے۔

یاد رہے کہ تین نومبر سنہ دوہزار سات کے سابق فوجی صدر پرویز مشرف کی جانب سے ملک میں ایمرجنسی کے نفاذ اور چیف جسٹس سمیت اعلی عدالتوں کے ججز کو گھر بھیجنے کے اقدامات کے بعد وکلاء برادری میں یہ نعرہ عام ہے کہ „ چیف تیرے جانثار بے شمار بےشمار„

عاصمہ جہانگیر نے پاکستان بار کونسل کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا کہ وہ توہین عدالت کے نئے قانون کے خلاف درخواست گُزار بنے۔ اُنہوں نے کہا کہ جب یہ معاملہ عدالت میں ہے تو پھر بار ایسوسی ایشنز کا کیا حق بنتا ہے کہ وہ ہڑتالیں کریں اور پھر اس قانون کو کالعدم قرار دینے پر خوشیاں منائیں۔

عاصمہ جہانگیر کا کہنا تھا کہ ججز کو خوش کرنا وکلاء کا کام نہیں ہے۔

اسی بارے میں