مساوی طور پر لوڈشیڈنگ کے لیے کمیٹی

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption پنجاب میں لوڈشیڈنگ کے خلاف کئی مرتبہ مظاہرے بھی ہو چکے ہیں

پاکستان میں مشترکہ مفادات کی کونسل نے چاروں صوبوں میں مساوی بنیاد پر لوڈشیڈنگ کو یقینی بنانے کے لیے اعلیٰ سطحی کمیٹی قائم کردی ہے۔

بدھ کو وزیراعظم راجہ پرویز اشرف کی صدارت میں منعقد ہونے والے اس ادارے کے اجلاس میں جو کمیٹی قائم کی گئی ہے اس کے سربراہ پانی و بجلی کے وفاقی وزیر ہوں گے جبکہ چاروں صوبوں کے چیف سیکریٹری اور ایک ایک تکنیکی ماہر شامل ہوں گے۔

یہ کمیٹی ایک ہفتے میں سفارشات کو حتمی شکل دے گی اور بجلی کی مساوی لوڈشیڈنگ کے علاوہ مرکز اور صوبوں کی طرف بجلی کے بلوں کے واجبات کی وصولی کے لیے بھی سفارشات تیار کرے گی۔

راجہ پرویز اشرف نے اجلاس سے خطاب میں کہا کہ سابقہ حکومت نے ایک یونٹ بھی نئی بجلی پیدا نہیں کی اور موجودہ حکومت نے تینتیس سو میگا واٹ بجلی سسٹم میں شامل کی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ساتویں قومی مالیاتی ایوارڈ کی طرح لوڈ شیڈنگ کا مسئلہ بھی حکومت حل کر لے گی۔

مشترکہ مفادات کی کونسل وفاق اور صوبوں میں اختلافی امور طے کرنے کا اعلیٰ سطحی مشاورت کا ایک آئینی ادارہ ہے۔ انیس سو تہتر کے بعد مشترکہ مفادات کی کونسل کا یہ انیسواں اجلاس تھا جبکہ سنہ دو ہزار دس میں آٹھویں ترمیم کی منظوری کے بعد یہ اس کا نواں اجلاس ہے۔

وزیراعظم ہاؤس سے جاری ہونے والے بیان میں بتایا گیا ہے کہ اجلاس میں پنجاب کے وزیراعلیٰ میاں شہباز شریف نے بجلی کو قلت اور لوڈ شیڈنگ پر تشویش ظاہر کرنے اور اس مسئلے کو موثر طور پر حل کرنے کے بارے میں قرارداد بھی پیش کی جو اتفاق رائے سے منظور کی گئی۔

اجلاس میں کہا گیا کہ اسلام آباد اور لاہور میں منعقد کردہ توانائی کانفرنسوں میں کیے گئے فیصلوں کی روشنی میں کمیٹی لوڈ شیڈنگ کا مسئلہ حل کرے گی۔ اجلاس میں وزیراعظم نے چاروں صوبوں کے وزرا اعلیٰ کی جانب سے مساوی بنیاد پر بجلی کی لوڈ شیڈنگ پر اتفاق کو سراہا۔

واضح رہے کہ توانائی کانفرنس میں ہفتے میں دو چھٹیاں کرنے اور رات آٹھ بجے بازار بند کرنے کا فیصلہ ہوا تھا جس پر وفاقی حکومت کے بقول پنجاب کی حکومت نے عمل نہیں کیا۔

اجلاس میں نئی پیٹرولیم پالیسی کی منظوری بھی دی گئی۔ اجلاس کے ایجنڈے میں آٹھ نکات شامل تھے جس میں ریلوے کی بحالی کے لیے پیکیج کی منظوری بھی شامل تھی لیکن اس بارے میں سرکاری طور پر کچھ نہیں بتایا گیا۔

واضح رہے کہ پاکستان میں سرکاری اعداد وشمار کے مطابق آج بھی جو بجلی گھر لگے ہوئے ہیں ان کی بجلی پیدا کرنے کی گنجائش بیس ہزار چار سو پندرہ میگا واٹ ہے۔ لیکن وقت کے ساتھ ساتھ اور کچھ آلات کی خرابی کی وجہ سے وہ کم ہوکر سولہ ہزار چار سو ستاون میگا واٹ ہوچکی ہے۔ اس وقت پاکستان میں بجلی کی ضرورت اٹھارہ ہزار چار سو باسٹھ میگا واٹ ہے جبکہ پیداوار تقریباً بارہ ہزار میگا واٹ کے قریب ہے۔

پاکستان میں سب سے زیادہ بجلی یعنی باسٹھ فیصد پنجاب استعمال کرتا ہے۔ جبکہ صوبہ سندھ بیس فیصد، خیبر پختونخوا گیارہ فیصد اور بلوچستان ساڑھے پانچ فیصد استعمال کرتا ہے۔ سب سے زیادہ استعمال گھریلو صارفین کرتے ہیں جو کہ چھتیس فیصد ہے، چھ فیصد تجارتی، اکیس فیصد صنعتی، نو فیصد زرعی، پانچ فیصد حکومتی اور باقی دیگر صارفین استعمال کرتے ہیں۔

اسی بارے میں