جدائی کے زخم: کشمیری پناہ گزینوں کا المیہ

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption چالیس سالہ اشرف جان اپنے آبائی گھر سے چند لمحوں کی مضافت پر ہیں مگر بائیس سال سے وہاں جا نہیں سکیں

گزشتہ بیس سال سے سو میٹر چوڑا ایک دریا کشمیر کے چند خاندانوں کے بیچ خلیج بن کر رہ گیا ہے۔ اگرچہ پاکستان اور بھارت کے بیچ کشیدگی میں کمی آ رہی ہے، دنیا کی متنازع ترین سرحدوں میں سے ایک کے اس حصے میں حالات بہتر ہوتے نہیں لگتے۔

اشرف جان اکثر شمالی کشمیر کے اس مقام پر آتی ہیں جہاں دریائے نیلم ایک پہاڑی گاؤں کے بیچ سے گزرتے ہوئے دو آبادیوں میں تقسیم کر دیتا ہے۔ اُس پار لکڑی کے بنے ایک مکان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے وہ کہتی ہیں ’وہاں ایک انتہائی ضعیف جوڑا رہتا ہے۔ اتنے ضعیف کے اب وہ اپنے گھر سے باہر بھی نہیں نکلتے۔ وہ میرے والدین ہیں‘۔

چالیس سالہ اشرف جان اپنے آبائی گھر سے چند لمحوں کی مسافت پر ہیں مگر بائیس سال سے وہاں جا نہیں سکیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بظاہر تو ایک دریا، لیکن دریائے نیلم اپنے سینے میں ایک تاریخ چھپائے بہتا ہے۔

سنہ انیس سو اڑتالیس میں پاکستان اور بھارت نے کشمیر کے معاملے پر ایک جنگ لڑی جس کا اختتام خطے کے بٹوارے میں ہوا۔ ایل او سی نامی سرحد بنی جو آج بھی متنازع اور اکثر کشیدگی کا شکار رہتی ہے۔

کیران نامی گاؤں میں یہ سرحد گاؤں کے بیچ سے گزرتی ہے۔ دو ہزار تین میں جنگ بندی کے بعد یہ مقام بچھڑے خاندانوں کے اکھٹے ہو کر ایک دوسرے کو دریا کے دو مختلف کناروں سے ہاتھ ہلا ہلا کر ایک دوسرے کی خیریت معلوم کرنے کا مقام ہے۔

پینسٹھ سالہ صدیق بٹ اپنی بیٹی کو دیکھنے آئے ہیں۔

ایک گھر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا ’ابھی کچھ دیر پہلے وہ وہاں بیٹھی تھی۔ اس کی شادی ہو چکی ہے اور اس کے چار بچے ہیں۔ جب میں دریا کے کنارے ٹہلنے آتا ہوں تو وہ مجھے پہچانتی ہے‘۔

اشرف جان اور صدیق بٹ ان تیس ہزار افراد میں سے ہیں جو اس گاؤں کے بھارتی حصے سے انسی سو نوے میں جان بچا کر سرحد پار آئے تھے جب بھارت کی مسلم اکثریت والی واحد ریاست میں ایک پر تشدد علیحدگی پسند مہم شروع ہو گئی تھی۔

اس امید سے کہ کشیدگی کے بعد وہ اپنے گھروں کو لوٹ سکیں گے، وہ پاکستانی حدود میں آ کر عارضی کیمپوں میں رہنے لگے۔ مگر یہ ہو نہ سکا۔

کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ اس کے بعد آنے والی دہائی میں تیس ہزار نوجوان بھارت سے پاکستان عسکری تربیت کے لیے آئے۔

ان میں بہت سارے بھارت میں دہشتگردی کرنے کے لیے واپس گئے۔ بہت سے مارے گئے یا ہلاک ہوگئے مگر چند اپنی روز مرہ کی زندگی میں واپس جا سکے۔

کچھ اندازوں کے مطابق آج ان میں تین سے چار ہزار پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں مقیم ہیں۔ بہت سے ادھیڑ عمر کو پہنچ چکے ہیں اور شادیاں کر چکے ہیں۔

پاکستانی حکام کے مطابق ان لا مکاں کشمیریوں کی کل تعداد چھتیس ہزار ہے۔ جیسے جیسے دونوں ممالک کے تعلقات میں بہتری آ رہی ہے اور کشمیر کی آزادی کی جدوجہد ختم ہوتی جا رہی ہے، یہ لوگ اپنے آپ کو مزید تنہا محسوس کر رہے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ’اس کی شادی ہو چکی ہے اور اس کے چار بچے ہیں۔ جب میں دریا کے کنارے ٹہلنے آتا ہوں تو وہ مجھے پہچانتی ہے‘۔ صدیق بٹ اپنی بیٹی کے بارے میں بات کرتے ہوئے

دفاعی تجزیہ کار حسن عسکری رضوی کا کہنا تھا کہ یہ لوگ وقت کی دھاروں میں پھنسے ہوئے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ علیحدگی پسند مہم نے ایک دہائی تک کشمیر کو تو سرگرم رکھا مگر وہ بھارت کو نہ ہلا سکی جس کے بعد بہت سے لوگوں نے اس مہم کی افادیت پر سوال اٹھانا شروع کر دیے۔

آہستہ آہستہ یہ مہم مذہبی شدت پسندوں کے ہاتھوں میں جانے لگی اور امریکہ میں نو گیارہ کے حملوں کے بعد اسی وجہ سے عالمی شطرنج پر مہم مقبولیت کھونے لگی۔

پاکستان پر عسکریتی تنظیموں سے تعلقات ختم کرنے کے لیے دباؤ تھا اور پاکستان نے آزادیِ کشمیر کی مہم کو ختم کرنے کے لیے اقدامات کیے۔سنہ دو ہزار تین میں پاکستان اور بھارت کے مابین لائن آف کنٹرول پر جنگ بندی کا معاہدہ طے پایا اور دو ہزار چھ میں پاکستان نے بھارتی زیرِ انتظام کشمیر میں تمام مسلح گروہوں کی امداد کرنا روک دی۔

اس سال کے آغاز میں پاکستان نے ایسی تمام علیحدگی پسند تنظیموں کی انتظامی مالی امداد آدھی کر دی جنہوں نے پاکستان میں دفتر کھول رکھے تھے۔

مالی امداد میں کٹوتی کے ساتھ ہی پاکستانی حکومت نے سابق عسکریت پسندوں کے معاشرے میں عام شہری بننے کے لیے انہیں شادیاں کرنے اور کاروبار شروع کرنے کے لیے فنڈز دیے۔

ان اقدامات سے مسلح مہم اور کمزور ہونے لگی۔

بھارتی افواج نے جنگ بندی کا فائدہ اٹھایا اور پوری لائن آف کنٹرول پر سرحدی باڑ لگا دی اور اس کی جدید آلات سے نگرانی کرنی شروع کر دی۔

پاکستانی حدود میں لائن آف کنٹرول پر رہنے والے جن خاندانوں کو تقریباً سولہ برس تک جنگی مورچوں میں رہنے کی سی زندگی گزارنی پڑی تھی، جنگ بندی کو خطرے میں ڈالنے والی عسکریت پسندی کے ہلکے سے آثار پر کھڑے ہو جاتے ہیں۔

ان مظاہروں کی وجہ سے مقامی حکام کو ان سابق شدت پسندوں کو سرحدی علاقوں سے دور لے جانا پڑا۔ ادھر بھارتی علاقوں میں بھی عسکریت پسندی میں کمی آنے لگی۔

وہاں کے لوگوں نے علیحدگی پسند مہم کی حمایت کی تھی مگر ان کے آپس میں اختلافات سے حالات مشکل ہونے لگے۔ ان میں سے چند قومیت کی وجہ سے آزادی لینے کے حامی تھے اور چند مذہبی رجحانات کی وجہ سے کشمیر کو پاکستان کا حصہ بنانا چاہتے تھے۔

اگرچہ ابتدائی طور پر ان مذہبی گروہوں کا اس مہم پر غلبہ تھا مگر نوے کی دہائی کے درمیان تک وہ بھی تنگ آنے لگے جب بہت سے پاکستانی شدت پسند گروہ جیسے کہ حرکت المجاہدین، البدر، لشکرِ طیبہ اور جیشِ محمد اس مہم کا حصہ بننے لگے۔

ان نئے گروہوں کے پاس مقامی لوگوں سے زیادہ وسائل تو تھے مگر ساتھ میں بیرونی دینی نظریات بھی تھے جو کہ مقامی حساسیت کی قدر کم ہی کرتے تھے۔

چند اندازوں کے مطابق بیس سال کی کشیدگی میں پچاس ہزار افراد ہلاک ہوئے جن میں سے بیشتر عام شہری تھے۔ اس طویل لڑائی اور خطے میں ہتھیاروں کے پھیلاؤ نے لوگوں کی زندگیاں تباہ کردیں، ایک نسل کو تعلیم سے محروم کرنے کے ساتھ ساتھ معیشت کو بھی نقصان پہنچایا۔

دو ہزار کی دہائی کے درمیان تک اس لڑائی کے نقصانات واضح ہو رہے تھے۔

کشمیر امور کے ایک ماہر ارشد محمود اس تلخ تجربے سے کشمیریوں کو حاصل ہونے والے سبق بیان کرتے ہیں۔ ’آج کے کشمیری نوجوان جانتے ہیں کہ اتنے سال خون بہانے سے وہ آزادی کی طرف ایک قدم بھی نہ بڑھ سکے۔ وہ اس سے بھی اگاہ ہیں کہ مسلح تحریک نے ان کے معاشرے کے بہترین عقائد کو نقصان پہنچایا‘۔

ان کا کہنا ہے کہ بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں نیا رجحان شہری آزادیوں اور انسانی حقوق کی تحریکوں کی جانب ہے جنہیں نہ صرف عالمی سطح پر توجہ دی جاتی ہے بلکہ بھارتی میڈیا بھی ان کی پذیرائی کرتا ہے۔

سوچ کی اس تبدیلی سرحد کے دونوں طرف کشمیری مسلح گروہوں کو بے کار کرنے کے ساتھ ساتھ لشکرِ طیبہ جیسے گروہوں کی مقبولیت میں کمی کا باعث بنی۔

حسن عسکری رضوی کا کہنا ہے کہ یہ مسلح گروہ اپنی تحریک جاری نہیں رکھ سکتے کیونکہ انہیں کام کرنے کے لیے مقامی حمایت کی ضرورت ہوتی ہے۔

مگر جہاں کشمیر کے معاملات میں بہتری آ رہی ہے، بائیس سالوں سے اپنے رشتے داروں سے دور ان لا مکان لوگوں کے حالات بگڑ رہے ہیں۔

ایک وقت پر جہاں پاکستانی حکام انہیں سرحد پار کرنے کی ترغیب دیتے تھے آج وہ دونوں جانب سے ایک غیر پسندیدہ آبادی ہیں جنہیں نہ تو پاکستانی شہریت ملتی ہے اور نہ اپنے گھر جانے کا راستہ۔

مسلح جنگجوؤں کے لیے تو یہ سفر آزادی کے لیے لڑنے والوں سے لے کر مظفرآباد کی مضافات میں ٹینٹوں میں پناہ گزینوں کی زندگی کا ہے۔

اپنی شناخت ظاہر کیے بغیر بات کرنے والے ایک سابق جنگجو نے کہا ’میرے بچوں کے لیے یہاں کوئی مستقبل نہیں۔ انہیں پاکستانی شناختی کارڈ نہیں ملتا جس کی وجہ سے نہ پاکستانی پاسپورٹ ملتا ہے، نا کوئی اچھی نوکری یا کوئی اور حقوق۔ ہم انتہائی مشکل حالات میں زندگی گزار رہے ہیں‘۔

آزادی کے خوابوں کے ٹوٹنے کے ساتھ ساتھ گھروں کو لوٹنے کی چاہ بھی بڑھتی ہے۔ ادھر بھارت کی جانب سے عام معافی کی پیشکش بھی اچھی لگنے لگتی ہے۔

مگر دونوں ممالک میں سے کسی کے بھی حکام ایک دم سے ان تمام لوگوں کی واپسی کے حامی نہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption بھارت کے لیے ان کی واپسی میں سکیورٹی خطرات اور انتظامی مسائل ہیں جبکہ پاکستان کو میڈیا میں منفی تاثرات کا خطرہ ہے

بھارت کے لیے ان کی واپسی میں سکیورٹی خطرات اور انتظامی مسائل ہیں جبکہ پاکستان کو میڈیا میں منفی تاثرات کا خطرہ ہے۔ بیشتر پناہ گزین پاکستان میں اپنی زندگی سے مایوس رہے اور جب وہ پاکستان کے خفیہ اداروں کی پہنچ سے دور ہو جائیں گے تو شاید غیر پسندیدہ باتیں کرنے لگیں۔

اس فوری ہجرت کو روکنے کے لیے دونوں ممالک نے عام شہریوں کی ان علاقوں میں سرحد پار کرنے پر پابندی لگا رکھی ہے۔

کشمیر کے دونوں حصوں کے درمیان آمد و رفت کا واحد طریقہ دو ہزار پانچ میں شروع ہونے والی ایک بس سروس ہے جسے پناہ گزینوں کو استعمال نہیں کرنے دیا جاتا۔ دونوں جانب سے حکام شدید تفتیش کر کے ہی مسافروں کو اجازت نامہ جاری کرتے ہیں۔

جنوری دو ہزار گیارہ سے دونوں ممالک ان پناہ گزینبوں کی واپسی کا ایک دوسرا راستہ کھولنے کی بات بھی کر رہے ہیں جو کہ ابھی صرف سابق عسکریت پسندوں اور ان کے خاندانوں کے لیے استعمال ہوتا ہے تاکہ پاکستان سے ایک محتاط انداز میں ان لوگوں کو واپس لے جایا جا سکے۔

جون میں اس راستے سے بھارت واپس لوٹنے والے ایک سابق کمانڈر نے بی بی سی کو یہ طریقہِ کار سمجھایا۔

’میں نے مظفرآباد جا کر اپنا تمام ساز و سامان بیچا تاکہ میں اپنے گھر والوں کی واپسی کے لیے رقم جمع کر سکوں۔ ہم جہاز سے نیپال جائیں گے جہاں سے ہم سرحد عبور کر کے سرینگر جائیں گے‘۔

’ہمارے پاسپورٹ اور جہاز کی ٹکٹوں کا انتظام راولپنڈی میں ایک شخص نے کیا‘۔

انہیں اپنے، اپنی بیوی اور تین بچوں کے واپس جانے کے لیے دو ہزار ڈالر دینا پڑے جو کہ مقامی معیار سے ایک بڑی رقم ہے اور اس کی وجہ سے واپس جانے والوں کی تعداد کم ہی رہی ہے۔

پاکستانی حکام کے مطابق انیس ماہ پہلے کھولے جانے والے اس راستہ سے تقریباً ایک ہزار افراد واپس جا چکے ہیں جن میں سے کم و بیش آدھے سابق عسکریت پسند تھے۔

سرحد کے پار بھارتی حکام کے مطابق یہ تعداد پانچ سو کے قریب ہے اور وہ اس سال بھی اتنے ہی مزید افراد کی توقع رکھتے ہیں۔

ایک سابق مسلح کمانڈر بشیر احمد پیرزادہ کا کہنا تھا کہ چند ہی لوگ اس راستے سے واپس جانے کے لیے رقم جمع کر سکتے ہیں۔

بشیر احمد پیرزادہ شادی شدہ ہیں اور ان کے دو بچے ہیں۔ انہوں نے پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے ایک قصبے اٹھمقام میں ایک چھوٹا سا کاروبار بھی کھول رکھا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ان پر ان کے والدین کی جانب سے واپس آنے کے لیے دباؤ ہے مگر ان کے پاس واپسی کی رقم نہیں۔

ان کے مطابق اگر پاکستانی اور بھارتی حکام کو کشمیریوں کا خیال ہے تو انہیں اس بے جا لکیر کو عبور کرنے دیا جانا چاہیے۔

فی الحال تو اس بات کا کوئی امکان نہیں لگتا اور بیشتر پناہ گزین تنہا اور بے بس محسوس کرتے ہیں۔

صدیق بٹ کہتے ہیں ’ساٹھ سال ہو گئے ہیں اور کوئی آزادی نہیں۔ مجھے اب آزادی کی پرواہ نہیں۔ مجھے بس اب واپس گھر جانا ہے‘۔

اشرف جان کے بھی جذبات کچھ ایسے ہی ہیں۔

’کبھی کبھی میرا دل کرتا ہے کہ میں دریا میں چھلانگ لگاؤں اور اس پار چلی جاؤں۔ مگر میں یہ کر نہیں سکتی۔ کیمپ میں میرے بچے ہیں، میرے گھر والے ہیں‘۔

جب تک حالات بدلتے نہیں، کیران جا کر دریا کنارے چلنا ہی ان کے خاندانوں کی ملاقاتیں ہیں۔

اسی بارے میں