شمشیر الحیدری انتقال کر گئے

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption شمشیر الحیدری سندھ میں ادیبوں کی سب سے بڑی تنظیم سندھی ادبی سنگت کے بانی بھی تھے۔

پاکستان کے مشہور شاعر، صحافی، ڈرامہ نگار اور براڈ کاسٹر شمشیر الحیدری جمعہ کی صبح کراچی میں انتقال کر گئے ان کی عمر اسّی برس تھی۔

انھیں سندھ کے عظیم ادیب اور دانشور مرزا قلیچ بیگ کے بعد سب سے زیادہ کام کرنے والا ادیب سمجھا جاتا ہے۔ وہ دس سال تک سندھی ادبی بورڈ کے سیکرٹری رہے اور اس دوران انھوں نے پونے دو سو سے زائد کتابوں کی تدوین اور ترجمہ کرایا۔

انہیں اس لیے بھی ہمیشہ یاد رکھا جائے گا کہ وہ سندھ میں ادیبوں کی سب سے بڑی تنظیم سندھی ادبی سنگت کے بانی تھے۔ اس کے علاوہ وہ پاکستان میں ٹیلی ویژن کے اولین سندھی اینکر اور سکرپٹ رائٹر اور ڈرامہ نگار بھی تھے۔

وہ اڑتیس سال تک پاکستان ٹیلی ویژن کے لیے لکھتے رہے اور انھوں نے ایک سو کے لگ بھگ سندھی اور اردو ڈرامے لکھے۔ ریڈیو اور ٹی وی کے دوسرے پروگراموں کے لیے لکھے جانے والے دوسرے سکرپٹ اس کے علاوہ ہیں۔

ان کے انتقال سے پاکستانی ادب اور خاص طور پر سندھی ادب ایک بڑے لکھنے والے سے محروم ہو گیا ہے۔

ان کا پہلا شعری مجموعہ ’لاٹ‘ (دیے کی لو) پہلی بار انیس سو باسٹھ میں شائع ہوا۔ جس کی نئی اشاعت، چالیس سال بعد، اِسی سال دو ہزار بارہ میں ہوئی۔ ان کے لکھے ہوئے کئی گیت اور غزلیں انتہائی مقبول ہوئیں۔ اپنے شعری اسلوب کے مطابق وہ اردو سے بہت قریب تھے اور غالباً سندھی میں آزاد نظم لکھنے والے پہلے جدید شاعر بھی تھے۔

اس کے علاوہ ان کی آٹھ کتابیں سندھی اور اردو میں شائع ہوئیں جن میں شاعری، تنقید اور بچوں کے لیے کی جانے والی شاعری بھی شامل ہے۔ وہ ہمیشہ لکھنے پڑھنے میں مصروف رہتے تھے اور ان کا بہت سا کام اب تک غیر مطبوعہ ہے۔

کچھ عرصے سے ان کی بینائی اس حد تک متاثر ہو چکی تھی کہ وہ پڑھ لکھ نہیں سکتے تھے۔

حال ہی میں <span >کراچی آرٹس کونسل میں انھیں خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے ایک تقریبمنعقد کی گئی تھی، جس میں انھوں نے علالت کے باوجود شرکت کی۔ اس تقریب میں سندھ کے تمام بڑے ادیبوں، شاعروں اور دانشوروں نے انھیں زبردست خراجِ تحسین پیش کیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption حال ہی میں کراچی آرٹس کونسل میں انھیں خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے ایک تقریب منعقد کی گئی تھی، جس میں انھوں نے علالت کے باوجود شرکت کی۔

اسی جشن کے موقع پر ان کی دختر نسیم نے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’میری سب سے بڑی خواہش ہے کہ میرے با با ایک بار پھر پڑھنے لکھنے کے قابل ہو جائیں کیوں کے یہی ان کی اصل زندگی ہے‘۔

پہلے انھیں بدین میں سپردِ خاک کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا لیکن ان کی اہلیہ کے اصرار پر انھیں کراچی میں ہی سپردِ خاک کرنے کا فیصلہ کیا گیا اور انھیں ان کی وصیعت کے مطابق کراچی کے چوکنڈی قبرستان میں سپردِ خاک کیا جائے گا۔

ان کی اہلیہ کا کہنا تھا کہ ’وہ (شمشیر الحیدری) کہا کرتے تھے کہ جب ان کا انتقال ہو تو انھیں کراچی ہی میں سپردِ خاک کیا جائے کیوں کہ یہیں انھوں نے اپنی زندگی کے ستر برس گزارے ہیں‘۔

شمشیر الحیدری پندرہ ستمبر انیس سو بتیس کو سندھ کے ضلع بدین میں کڈھن کے مقام پر پیدا ہوئے۔ انھوں نے ابتدائی تعلیم پہلے بدین گورنمنٹ سکول میں اور پھر کراچی میں سندھ کے قدیم تعلیمی ادارے سندھ مدرسۃ الاسلام میں حاصل کی۔

لکھنے اور عملی زندگی کی ابتدا انھوں نے انیس سو اکاون میں اپنے چچا ڈاکٹر نوید الحیدری ایڈیٹر ہفت روزہ ’عین الحق‘ کے ساتھ کام سے شروع کیا۔ اِسی ہفت روزہ میں انھوں نے اپنی شاعری اور تنقیدی مضامین کی اشاعت کی ابتدا بھی کی۔

اس کے بعد وہ انیس سو چون میں وہ حیدرآباد منتقل ہو گئے اور وہاں سے روزنامہ صحافت کی ابتدا کی۔ غالباً اسی دوران انھوں سندھ یونیورسٹی سے ماسٹرز بھی کیا اور انیس سو چھپن میں سرکاری ملازمت اختیار کر لی اور بالاخر انیس سو اکانوے میں میں وزارتِ اطلاعات سے گریڈ انیس کے افسر کے طور پر سبکدوش ہوئے۔

وہ ایک درویش منش انسان تھے، تمام زندگی شدید محنت اور لکھنے پڑھنے میں گذارنے کے باوجود وہ کراچی کے علاقے مارٹن روڈ پر پاکستان کوارٹرز میں رہتے تھے اور محدود مالی وسائل میں زندگی گذارتے تھے۔

وہ گذشتہ ڈھائی سال سے کینسر کے مرض میں مبتلا تھے۔ چونکہ وہ حکمت سے دلچسپی رکھتے تھے اور انھوں نے باقاعدہ حکمت سیکھی تھی اسی وجہ سے اپنے کینسر کا علاج خود ہی کر رہے تھے۔ ان کا انتقال کراچی کے آغا خان ہسپتال میں جمعے کو صبح چھ بج کر دس منٹ پر ہوا۔

انہوں نے پس ماندگان میں اہلیہ کے علاوہ تین بیٹیاں اور پانچ بیٹے چھوڑے ہیں۔ ان کی اہلیہ بھی شدید علیل ہیں اور اس وقت بھی آکسیجن کے ذریعے تنفس پر ہیں۔

اسی بارے میں