جمہوریت کے خلاف طالبان کی مہم

تصویر کے کاپی رائٹ

سیاسی جماعتیں اگلے عوامی انتخابات کے لیے تیاریاں پکڑے ہوئے ہیں، مگر ایک ایسی تنظیم نے بھی مہم شروع کی ہے جو انتخابات میں شرکت نہیں کرتی۔

کالعدم تنظیم تحریکِ طالبان پاکستان کے ترجمان احسان اللہ احسان نے علما کرام اور میڈیا کے نمائندوں کو ایسا خط ارسال کیا ہے جس میں جمہوریت مخالف موقف کو قرآن و حدیث کا سہارا دیا گیا ہے۔ علما سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ اس پر اپنے خیالات کا اظہار کریں اور اسے فروغ دیں۔

چھ صفات پر مشتمل یہ تحریر ایسے وقت سامنے آئی ہے سال دو ہزار بارہ کو انتخابات کا سال قرار دیا جار رہا ہے۔

اس خط میں پاکستان کو ایسی عمارت کے مانند قرار دیا گیا ہے ’جس پر کفری نظام کی چھت ہے‘۔

کالعدم تنظیم نے مزید کہا ہے کہ وہ’اللہ کی زمین پر صرف اللہ کا نظام ہو گا‘ کا نعرہ بلند کرتی ہے۔

پاکستانی پارلیمنٹ میں تین بار شریعت بل پیش ہوا جسے اکثریتِ رائے سے رد کیا گیا۔ اس بات پر خط میں افسوس کیا گیا کہ ’پینسٹھ برسوں میں عدلیہ نے شریعت بل کے خلاف رائے دینے والوں کو کوئی سزا نہیں دی اور نہ پاکستانی قانون نے ان کو کافر قرار دیا‘۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہےکہ یہ موقف پرانا ہے مگر علما کو قائل کرنے کی نئی کوشش ضرور ہے۔ سینئر صحافی اور تجزیہ کار رحیم اللہ یوسفزئی کہتے ہیں کہ اکثر علما نے طالبان کے موقف کو رد کیا ہے۔ ’طالبان نے کہا ہےکہ گذشتہ نو برسوں سے وہ جنگ لڑ رہے ہیں جو کہ صحیح معنوں میں جہاد ہے۔ مگر ان کو بڑی مشکل پیش آر ہی ہے کیونکہ اکثر علما کہتے ہیں وہ جنگ نہیں فساد کر رہے ہیں۔‘

پاکستان میں شدت پسندی پر تحقیق کرنے والے صحافی عامر رانا بھی اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ اکثر علما القاعدہ اور طالبان کے اس موقف کی تردید کرتے ہیں کہ پاکستان کا آئین غیر اسلامی ہے اور اس کی اسلامی شقّیں نام نہاد ہیں۔

’القاعدہ کے سربراہ ایمن الزواہری نے پاکستانی آئین پر تجزیہ کیا تھا اور اسی طرح اسے غیر اسلامی قرار دیا تھا لیکن اکثر علماء کا اتفاق ہے کہ اس آئین کو بنانے میں ان کا بھی کردار ہے، کہ اس میں مسلمان کی تعریف بھی ہے اور اسلامی شقیں بھی ہیں۔‘

یاد رہے کہ کچھ سال قبل بعض علما نے فتویٰ جاری کیا تھا کہ ’پاکستانی فوج کی شدت پسندوں کے خلاف کارروائیاں غیر اسلامی ہیں اور جو فوجی ان آپریشنز میں مارے جاتے ہیں انہیں شہید نہ قرار دیا جائے۔‘ اس کے بعد سنہ دو ہزار سات اور دو ہزار دس کے درمیان خود کش حملوں میں اضافے اور شہریوں کی بڑی تعداد میں ہلاکتوں کے باعث علماء کی سوچ میں تبدیلی آئی اور پھر خود کش حملوں کے خلاف بھی فتوی جاری کیا گیا۔

ایک طرف اگر اکثر علما نے تحریکِ طالبان کے نقطہ نظر سے منہ موڑا ہے، دوسری جانب پاکستانی عوام میں بھی جمہوری نظام کی چاہ بجھی نہیں ہے۔ جمہوریت اور جمہوری عمل پر تحقیق کرنے والے ماہر احمد بلال محبوب کہتے ہیں ’دوسرے کئی نظاموں کا تجربہ ہو چکا ہے۔ فوجی حکومت کو بھی آزمایا، صوبہ خیبر پختونخوا میں مذہبی جماعتوں کی اتحادی حکومت کو بھی دیکھ چکے ہیں مگر کسی نے کوئی ایسی اصلاح نہیں کی جس سے کہا جا سکے ہیں کہ وہ بہتر نظام ہے۔ اس حکومت کے خلاف جذبات ہیں مگر کم سے کم جمہوریت کے خلاف جذبات نہیں ہیں۔‘

گو کہ مذہبی جماعتیں اس معاملے پر خاموش ہیں۔ انہوں نے پاکستان کی تاریخ کے قریباً تمام انتخابات میں حصہ لیا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ جمہوریت میں شرکت ہی نظام میں تبدیلی لانے کا طریقہ ہے۔ بی بی سی نے جب جمیعت علماء اسلام (ف) کے سینیٹر عبدالغفور حیدری رابطہ کیا تو انہوں نے کہا کہ اس پر ان کی جماعت میں بحث ہو گی تو ہی پالیسی کے بارے اپنا موقف بیان کر سکیں گے۔

اگر پاکستان میں عوام اور علماء ایسی مہم کے خلاف ہیں تو اس کا اثر کیا ہو سکتا ہے۔ عامر رانا کہتے ہیں کہ کیونکہ تحریکِ طالبان کی رٹ کمزور ہو گئی اسی لیے زیادہ اثر نہیں ہو گا۔ ’پچھلے انتخابات کے دوران بھی اس قسم کے خط اور پمفلٹ تقسیم کئے گیے تھے، جن میں لوگوں کو ووٹ نہ ڈالنے کو کہا گیا تھا۔تاہم، سنہ دو ہزار آٹھ کے انتخابات میں طالبان کی رٹ سوات، باجوڑ اور مہمند میں قائم تھی جو اب نہیں ہے۔ اسی لیے وہ انتخابی عمل پر اثر انداز نہیں ہو پائیں گے۔‘

ادھر احمد بلال محبوب کا خیال ہے کہ انتخابات کے دوران اگر تحریکِ طالبان حملوں کی دھمکی دیتے ہیں تو ان کی جمہوریت مخالف مہم کامیاب ہو گی۔

رحیم اللہ یوسفزئی کہتے ہیں کہ اس پر علماء کا ردِ عمل ضرور سامنے آئے گا مگر وہ خوف کی وجہ سے پسِ پردہ رہے گا۔ ’اس کا ان کی محفلوں میں ہی ذکر ہو گا، شاید وہ کھلے عام یا اخباروں کے ذریعے اس کا جواب نہ دیں۔ کیونکہ جن لوگوں نے بھی جواب دینے کی کوشش کی، طالبان کے موقف کو رد کیا، تو ان کو خطرات کا سامنا کرنا پڑا اور کچھ کو مار دیا گیا۔‘

ایک طرح یہ خط تحریکِ طالبان کا نظریاتی منشور ہے۔ اس میں پاکستان کے تمام اداروں عدلیہ، فوج اور پارلیمنٹ سبھی پر سخت تنقید کی گئی ہے۔ تاہم یہ نہیں واضح کیا گیا کہ جو شرعی نظام نافذ کیا جانا چاہیے وہ کیسا ہو اور کس طرح عمل میں لایا جائے گا اوراس کا سیاسی نمونہ کیا ہے۔

حکومتِ پاکستان کو کمزور طرزِ حکمرانی کے باوجود، کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان نےاب تک کوئی معقول متبادل پیش نہیں کیا۔

اسی بارے میں