جبری مذہب کی تبدیلی کے خلاف قوانین میں تاخیر

تصویر کے کاپی رائٹ other

اقلیتوں کو جبری طور پر مسلمان بنانے کی روک تھام اور ان کی شادیوں کی رجسٹریشن کے بارے میں دونوں قوانین کے مسودے قومی اسمبلی میں پیش تو ہوگئے ہیں لیکن کئی برسوں سے مختلف وجوہات کی بنا پر منظور نہیں ہو پا رہے اور بظاہر ’رولنگ سٹون‘ بنے ہوئے ہیں۔

اقلیتوں کے امور کی وزارت اٹھارویں آئینی ترمیم کی منظوری کے بعد صوبوں کو منتقل ہونے کے بعد دونوں قوانین کی منظوری تقریباً ناممکن ہوگئی تھی لیکن حکومت نے ’نیشنل ہارمنی‘ یعنی قومی ہم آہنگی کے نام سے نئی وزارت بنا ڈالی اور دونوں مسودے ایک بار پھر زیر بحث آئے۔

قومی اسمبلی کی قومی ہم آہنگی کی وزارت کے بارے میں قائمہ کمیٹی کے چیئرمین ڈاکٹر مہیش ملانی نے بتایا کہ وہ چاہتے ہیں کہ جبری طور پر مذہب کی تبدیلی کو روکنے کے بارے میں بل کے مسودے پر اتفاق رائے ہو تاکہ کسی کو اعتراض نہ ہو۔ ان کے بقول کمیٹی نے بل کے مسودے پر وزارت قانون سے رائے طلب کی ہے اور ان کے جواب کے بعد وہ قانون سازی کے لیے اُسے پیش کریں گے۔

ڈاکٹر مہیش نے یہ تسلیم کیا کہ اس قانون کی منظوری میں تاخیر ہوئی ہے اور کئی برسوں سے یہ معاملہ کھٹائی میں پڑا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ رواں سال جبری مذہب کی تبدیلی کے خلاف قانون اور ہندؤں کی شادیوں کی رجسٹریشن کے قوانین منظور ہوجائیں گے۔ ان کے بقول ہندوؤں کی شادیوں کی رجسٹریشن نہ ہونے کی وجہ سے ان کے شناختی کارڈ نہیں بن پاتے اور انہیں وراثت میں حقوق نہیں ملتے۔

انہوں نے بتایا کہ مجوزہ قانون میں سفارش کی گئی ہے کہ سپریم کورٹ یا ہائی کورٹ کے سابق جج کی سربراہی میں کمیشن بنایا جائے، جس میں وکلا، انسانی حقوق، اقلیتوں کے نمائندے اور جس ضلع میں واقعہ ہو وہاں کے ڈپٹی کمشنر کو اس میں شامل کرنا چاہیے اور جس کو بھی جبری طور پر مذہب تبدیل کرایا گیا ہو انہیں اکیس روز تک تنہائی میں رکھنے کے بعد یہ کمیشن ان کا بیان ریکارڈ کرے اور اگر جبری مذہب کی تبدیلی کا معاملہ ثابت ہو تو ذمہ داران کے خلاف کارروائی کی جائے۔

پاکستان منارٹی کمیشن نامی غیر سرکاری تنظیم کے چیئرمین اور ایڈووکیٹ کامریڈ امر لال کہتے ہیں کہ سپریم کورٹ نے ملاؤں کے خوف سے آئین کے منافی فیصلہ سنایا۔ انہوں نے کہا رنکل کماری نے عدالت میں کہا کہ انہیں والدین کے ساتھ جانے دیں لیکن عدالت نے انہیں دار الامان بھیج دیا جبکہ لڑکی میڈیا کے سامنے روتی رہی اور کہا کہ انہیں والدین کے ساتھ جانا ہے اور وہ مسلمان نہیں ہوئیں۔

کامریڈ امر لال کہتے ہیں کہ آئین اور قانون کے مطابق رنکل کماری کا بیان کھلی عدالت میں ججوں کے سامنے لیا جانا چاہتے تھا لیکن سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے رجسٹرار کے سامنے انہیں جواب ریکارڈ کرنے کا حکم دیا۔ ان کے بقول رجسٹرار کے سامنے بھی رنکل کماری نے والدین کے ساتھ جانے کی خواہش ظاہر کی لیکن عدالت نے کہا کہ وہ مسلمان ہوچکی ہیں اور یہ فیصلہ انہوں نے خود کیا ہے۔

انہوں نے بانی پاکستان محمد علی جناح کی آئین ساز اسمبلی میں گیارہ اگست والی تقریر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ پاکستان میں بسنے والے تمام شہری برابر ہیں اور مسلمان، ہندو یا عیسائی کی بنا پر فرق نہیں کیا جائے گا۔

امر لال کہتے ہیں کہ پاکستان کے حکمرانوں نے پینسٹھ برسوں میں اقلیتوں کے ساتھ مساوی سلوک نہیں کیا اور اقلیت کا کوئی شخص صدر یا وزیراعظم نہیں بن سکتا۔ ان کے بقول یہ محمد علی جناح کے پاکستان کی نفی ہے اور اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو پاکستان ٹوٹ سکتا ہے۔

انہوں نے الزام لگایا کہ ضلع گھوٹکی میں بھرچونڈی درگاہ پر لڑکیوں کو اغواء کر کے جبری مسلمان بنایا جاتا ہے اور یہ سب کچھ ’سیکس‘ کا کاروبار ہے۔

دوسری جانب بھرچونڈی درگاہ کے پیر اور حکمران پیپلز پارٹی کے رکن قومی اسمبلی عبدالحق المعروف میاں مٹھا کامریڈ امر لال کے الزامات کو مسترد کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اسلام کسی کو جبری طور پر مسلمان بنانے کے خلاف ہے۔

پاکستان میں اقلیتوں کے مسلمان ہونے کے بارے میں کوئی مصدقہ اعداد وشمار تو دستیاب نہیں لیکن کامریڈ امر لال کہتے ہیں کہ گزشتہ دس برسوں میں ڈھائی ہزار ہندو لڑکیوں کو جبری طور پر مسلمان بنایا گیا ہے۔ اس بارے میں ہندوؤں کو مسلمان بنانے والی درگاہ کے ایک پیر میاں مٹھو کہتے ہیں کہ ان کے ہاں ہر سال تقریباً دو سو ہندو مسلمان ہوتے ہیں جس میں بچے اور بوڑھے بھی شامل ہوتے ہیں۔

فریقین کی رائے اپنی جگہ لیکن بعض مبصرین کہتے ہیں کہ پاکستان میں کہنے کو تو اقلیتوں کو برابر کا شہری ہونے کا حق حاصل ہے لیکن حقیقت میں اقلیتوں کو پینسٹھ برس گزرنے کے باوجود بھی مسلمانوں کے برابر درجہ نہیں دیا جاتا اور پاکستان کی درسی کتابوں میں بھی ہندؤں کے خلاف زہر بھرا ہوا ہے۔

اسی بارے میں