نظرثانی درخواست کی سماعت 15 اگست کو

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

پاکستان کی سپریم کورٹ نے بارہ جولائی کے عدالتی حکم کے خلاف حکومت کی جانب سے دائر کردہ نظر ثانی کی درخواست کی سماعت کے لیے پانچ رکنی بینچ تشکیل دے دیا ہے جو پندرہ اگست کو سماعت کرے گا۔

سپریم کورٹ کے رجسٹرار کے دفتر سے بتایا گیا ہے کہ بینچ کے سربراہ جسٹس آصف سعید کھوسہ ہوں گے جبکہ اس میں جسٹس سرمد جلال عثمانی، جسٹس اعجاز افضل، جسٹس گلزار احمد اور جسٹس اطہر سعید شامل ہوں گے۔

سابق فوجی صدر پرویز مشرف اور مقتول رہنماء بینظیر بھٹو کے درمیان سمجھوتے کے بعد قومی مصالحت آرڈیننس یعنی ’این آر او‘ جاری ہوا تھا جس کے تحت بینظیر بھٹو اور ان کے شوہر آصف علی زرداری سمیت مختلف لوگوں کے آٹھ ہزار مقدمات ختم کیے گئے تھے۔

جب حکومت پارلیمان سے ‘این آر او’ کو قانونی تحفظ نہیں دلوا سکی تو سپریم کورٹ نے سنہ دو ہزار نو میں ‘این آر او’ کو کالعدم قرار دیتے ہوئے تمام مقدمات بحال کرنے کا حکم دیا تھا۔

یاد رہے کہ بارہ جولائی کو سپریم کورٹ نے این آر او عمل درآمد کے مقدمے میں وزیراعظم کو براہ راست سوئس حکام کو خط لکھنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا تھا کہ اگر پچیس جولائی تک عدالتی حکم پر عمل درآمد نہیں کیا تو ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کا بھی حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ ان کے خلاف بھی توہین عدالت کی کارروائی اس لیے شروع کی گئی کہ انہوں نے این آر او سے متعلق عدالتی فیصلے پر عمل درآمد نہیں کیا تھا۔

تاہم پچیس جولائی کو اٹارنی جنرل عرفان قادر نے واضح الفاظ میں سپریم کورٹ کو بتایا تھا کہ سوئس حکام کو خط لکھنے سے متعلق عدالتی احکامات پر عملدآمد نہیں کیا جا سکتا۔

عدالت نے حکومت کو سوئس حکام کو خط لکھنے کے لیے آخری مہلت دیتے ہوئے مقدمے کی سماعت آٹھ اگست تک ملتوی کر دی تھی۔

سپریم کورٹ نے آٹھ اگست کو این آر او پر عمل درآمد کے مقدمے میں وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف کو توہینِ عدالت کے مقدمے میں اظہارِ وجوہ کا نوٹس جاری کرتے ہوئے وزیر اعظم کو ذاتی طور پر عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا۔

اسی بارے میں