اقلیتوں کا قومی دن، مزید ’ہندو یاتری‘ بھارت روانہ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پاکستانی ہندوؤں کے بھارت جانے کا سلسلہ سینچر کے روز بھی جاری رہا اور مزید ایک سو سے زائد ہندو یاتری واہگہ سرحد سے بھارت روانہ ہوئے۔ بھارت جانے والوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں اور ان کے پاس ایک مہینے کا ویزہ ہے۔

سینچر کے روز ایک سو چار پاکستانی ہندو بھارت روانہ ہوئے۔ دو دن کے مختصر عرصے میں اب تک دو سو انیس پاکستانی ہندو بھارت روانہ ہوئے ہیں۔

گزشتہ روز دو سو سے زائد ہندو بھارت جانے لیے واہگہ سرحد پر پہنچے تھے۔ تاہم سرحد عبور کرنے کی اجازت نہ ملنے پر انہوں نے احتجاج کیا جس پر ایک سو پندرہ ہندوؤں کو بھارت جانے کی اجازت مل گئی اور ایک سو سے زائد ہندو بھارت روانہ نہ ہوسکے۔

بھارت جانے والے ان ہندوں کا کہنا ہے کہ وہ نقل مکانی نہیں کر رہے بلکہ یاترا کے لیے بھارت جا رہے ہیں اور ویزے کے معیاد مکمل ہونے پر واپس لوٹ آئیں گے۔

ادھر آج سرکاری طور پر پاکستان میں اقلیتوں کا قومی دن منایا گیا۔ گیارہ اگست کو اس لیے اقلتیوں کے قومی دن کے طور پر منانے کا اعلان کیا گیا کیوں کہ اسی روز سنہ انیس سو سنتالیس میں قائد اعظم محمد علی جناع نے پاکستان کی پہلی آئین ساز اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے کہا تھا تمام شہریوں کو مساوی حثیت حاصل ہوگی اور کو کسی بھی مذہبی عقیدت سے کوئی تعلق نہیں ہوگا۔

اس موقع پر وفاقی حکومت نے ہندو شہریوں کی شکایات کا ازالہ کرنے کے لیے ایک تین رکنی ٹیم تشکیل دینے کی اعلان کیا ہے جو سنیچر کو سکھر میں ہندو برادری کے عمائدین سے ملاقات کرے گی۔ کمیٹی میں وفاقی وزیر مولا بخش چانڈیو، سینیٹر ہری رام کشوری لال اور رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر لال چند شامل ہیں۔

صدارتی ترجمان فرحت اللہ بابر کے مطابق صدر نے سندھ میں بسنے والے ہندوؤں میں عدم تحفظ کے بڑھتے ہوئے احساس کے بارے میں پاکستان میڈیا میں آنے والی خبروں کا نوٹس لیتے ہوئے یہ کمیٹی تشکیل دی ہے۔ ترجمان کے مطابق کمیٹی ہندو عمائدین سے یکجہتی کا اظہار کرے گی اور حکومت کی جانب سے ان کے تحفظ کا یقین دلائے گی۔

Image caption رحمان ملک نے ہندوؤں کی نقل مکانی کو پاکستان کے خلاف سازش قرار دیا تھا

انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق بدامنی اور شدت پسندی کی وجہ سے بلوچستان اور سندھ سے ہندو برادری کے افراد بھارت ہجرت کررہے ہیں اور یہ سلسلہ ایک عرصے سے جاری ہے۔ ہیومن رائٹس کمیش آف پاکستان نے ہندوؤں کے بھارت ہجرت کرنے کا واقعات پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ حکومت اقلیتیوں کو تحفظ فراہم کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہو گئی ہے۔

ایچ آر سی پی کی سربراہ زہرہ یوسف نے بی بی سی اردو کے پروگرام سیربین میں سے بات چیت کرتے ہوئے ملک سے ہندوؤں کے بھارت ہجرت کرنے کے واقعات پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے اقلیتوں کو تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ سلسلہ کئی سالوں سے جاری ہے اور سندھ اور بلوچستان میں خاص کر یہ رجحان شروع ہوا ہے اور اس کی کئی وجوہات ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’بلوچستان میں ہندو برادری کے لوگوں سے ہماری ملاقات ہوئی تھی اور ان کا یہی کہنا تھا کہ وہاں ہندو برادری کے کئی تاجر اغوا ہو رہے ہیں اور کئی واقعات میں انہوں نے تاوان بھی ادا کیا لیکن پھر بھی مغویوں کو مار دیا گیا۔‘

زہرہ یوسف کا کہنا تھا کہ ہندو برادری کے مطابق بلوچستان سے اب تک پچاس خاندان جا چکے ہیں۔

خیال رہے کہ دو روز پہلے ذرائع ابلاغ میں کچھ ایسی رپورٹس منظرعام پر آئیں تھیں جن میں یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ سندھ کے علاقے جیکب آباد سے کئی ہندو عدم تحفظ کے باعث مستقل طور پر بھارت منتقل ہورہے ہیں۔ ان اطلاعات کے بعد وزیر داخلہ رحمان ملک کا یہ بیان بھی ذرائع ابلاغ میں رپورٹ ہوا جس میں انھوں نے ہندوؤں کی نقل مکانی کو پاکستان کے خلاف سازش قرار دیا تھا۔