’فاٹا میں بلدیاتی نظام لا رہے ہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ’حکومت جلد بازی میں کوئی کام نہیں کرنا چاہتی، مقامی حکومت کے نظام کو بتدریج نافذ کیا جائے گا‘ منیر اورکزئی

پاکستان کے قبائلی علاقے فاٹا سے قومی اسمبلی کے رکن منیر خان اورکزئی کے مطابق وفاقی حکومت چودہ اگست دو ہزار بارہ کو فاٹا میں بلدیاتی نظام متعارف کرائےگی۔

بی بی سی کو ایک خصوصی انٹرویو میں مینر خان اورکزئی نے بتایا ’چودہ اگست کو فاٹا میں مقامی حکومت کا نظام متعارف کروایا جائے گا۔ ملک کے اندر سیاسی جماعتوں اور بیرونِ ملک لوگوں کی بھی خواہش تھی کہ اگر فاٹا میں پولیٹکل پارٹی ایکٹ لاگو ہے تو اس کی کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ لوگ مقامی سطح پر انتخابی عمل میں شامل ہوں اور مقامی حکومت کے ذریعے علاقے کے ترقیاتی کاموں میں ان کی شمولیت ہو‘۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ فاٹا میں خراب سکیورٹی صورت حال اور طالبان کی کی شمولیت کے بغیر یہ نظام کیسے کامیاب ہوگا تو انہون نے کہا کہ حکومت جلد بازی میں کوئی کام نہیں کرنا چاہتی، بلدیاتی نظام کو بتدریج نافذ کیا جائے گا، پہلے ان علاقوں سے شروع کریں گے جہاں طالبان کا کوئی عمل دخل نہ ہو، ہم کسی سطح پر بھی طالبان کو اس عمل میں شامل نہیں کریں گے۔

فاٹا کے لیے مقامی حکومت کے قانون کے بارے میں وضاحت کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ پہلے اس میں گورنر کو کافی زیادہ اختیارات دیے گئے تھے لیکن وہ ہم نے کم کر دیے ہیں، مثال کے طور پر کونسل کو ختم کرنے، بجٹ پاس کرنے، مقامی حکومت کی منتخب کونسل میں غیر منتخب نمائندوں کی نامزدگی وغیرہ کی شقوں کو کافی حد تک ختم یا تبدیل کیا گیا ہے۔

انہوں نے نظام کا طریقہ کار بیان کرتے ہوئے کہا کہ پہلے شہروں کے ٹاؤن سے شروعات ہوگی جیسے ٹاؤن کمیٹی پارہ چینار، صدہ، خار باجوڑ، یکہ غونڈ، غلانئی وغیرہ اور انہی ٹاؤنز کے رہائشی جو قومی اسمبلی کے لیے بحثیت ووٹر اہل ہوں وہ اس میں ووٹ کر سکیں گے۔

انہوں نے بتایا کہ نمائندے کونسل کے لیے براہ راست انتخابات میں حصہ لیں گے اور ان کونسلوں میں کوئی نامزد نمائندہ نہیں ہوگا۔ منتخب نمائندے اپنے لیے چئرمین اور وائس چئرمیں کا انتخاب کریں گے۔

منیر اورکزئی نے بتایا کہ مقامی حکومت کو ٹاؤن کے لیے مکمل مالی اور قانونی اختیارات حاصل ہوں گے، وہ ٹیکس لگا سکیں گےاور بجٹ پاس کریں گے اور ساتھ میں پوری معاشی منصوہ بندی کریں گے۔

جب اراکینِ فاٹا کے پارلیمانی لیڈر سے پوچھا گیا کہ کیا فاٹا کی انتظامیہ فاٹا میں بلدیاتی نظام لانے کی حمایت کرتی ہے تو انہوں نے بتایا کہ انتطامیہ باالمر مجبوری اس کی حمایت کرتی ہے لیکن ان کی بھر پور کوشش تھی کہ بلدیاتی کونسل میں پچیس فیصد امیدوار ان کی نامزدگی سے آئیں۔ اس سلسلے میں انہوں نے گورنر کا نام استعمال کیا کہ گورنر نامزد کرے گا لیکن ہم نے یہ بات نہیں مانی۔

انہوں نے مزید بتایا کہ منتخب کونسل کا انتظامی امور سے کوئی سروکار نہیں ہوگا، یہ صرف فلاحی اورترقیاتی کام کرے گی اور انتظامیہ اس نظام کو سپورٹ کرے گی ان کا دل چاہے یا نہ چاہے۔

اسی بارے میں