’نئے مقدمے کی درخواست پر بینچ تشکیل‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption بینظیر بھٹو کے ورثاء کی جانب سے ابھی تک کوئی ایف آئی آر درج کروانے کے لیے درخواست نہیں دی گئی

پاکستان کی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے سابق وزیر اعظم اور حکمراں جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن بینظیر بھٹو کے قتل کے مقدمے میں دوسری ایف آئی آر کے اندراج سے متعلق دائر کی جانے والی درخواست کی سماعت کے لیے پانچ رکنی بینچ تشکیل دیا ہے۔

پہلے اس درخواست کی سماعت سپریم کورٹ کا تین رکنی بینچ کر رہا تھا۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں پانچ رکنی بینچ پندرہ اگست سے اس درخواست کی سماعت کرے گا۔

یہ درخواست خود کو بینظیر بھٹو کا چیف پروٹوکول افسر کہنے والے چوہدری اسلم نے دائر کی ہے۔

اس درخواست میں بینظیر بھٹو کے قتل کے ذمہ دار سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے علاوہ بینظیر بھٹو کے سابق چیف سکیورٹی افسر اور موجودہ وزیر داخلہ رحمان ملک، ڈپٹی وزیر اعظم اور پاکستان مسلم لیگ قاف کے رہنما چوہدری پرویز الہی، سابق وزیر قانون بابر اعوان، انٹیلیجنس بیورو کے سابق سربراہ اعجاز شاہ کے علاوہ راولپنڈی پولیس کے سابق سربراہ ڈی آئی جی سعود عزیز شامل ہیں۔

درخواست گُزار کا کہنا ہے کہ سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو کو ایک سازش کے تحت قتل کیا گیا اور مذکورہ افراد اس سازش کا حصہ تھے۔

اس درخواست کی ابتدائی سماعت کے دوران عدالت کا کہنا تھا کہ مرتضیٰ بھٹو کے قتل کی بھی دوسری ایف آئی آر درج کی گئی تھی۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ بینظیر بھٹو کا قتل ایک بڑا واقعہ ہے اس لیے اس درخواست کی سماعت کے لیے لارجر بینچ تشکیل دیا جائے۔

لاہور ہائی کورٹ دوسری ایف آئی ار کے اندراج سے متعلق چوہدری اسلم کی درخواست پہلے ہی مسترد کر چکی ہے۔

یاد رہے کہ صدر آصف علی زرداری نے بینظیر بھٹو کی برسی کے موقع پر پاکستان کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ بینظیر بھٹو کے قاتلوں کا کیا بنا۔

چوہدری اسلم کی درخواست پر وزیر داخلہ رحمان ملک اور چوہدری پرویز الہی نے اپنے تحریری ابتدائی بیان عدالت میں جمع کروائے ہیں جس میں اُنہوں نے بینظیر بھٹو کے قتل کی سازش میں ملوث ہونے سے انکار کیا ہے۔

درخواست گُزار کا موقف تھا کہ یہ افراد کبھی بھی کسی تفتیشی ٹیم کے سامنے پیش نہیں ہوئے لہذٰا ان افراد کے خلاف مقدمہ درج کر کے انصاف کے تقاضے پورے کیے جائیں۔

پاکستان پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن بینظیر بھٹو ستائیس دسمبر سنہ دو ہزار سات کو راولپنڈی کے لیاقت باغ کے باہر ایک خودکش حملے میں ہلاک ہوگئیں تھیں اور اس مقدمے کی ایف آئی آر متعلقہ تھانے کے ایک سب انسپکٹر کی مدعیت میں درج کی گئی تھی تاہم بینظیر بھٹو کے ورثاء کی جانب سے ابھی تک کوئی ایف آئی آر درج کروانے کے لیے درخواست نہیں دی گئی۔

پولیس نےاس مقدمے میں پانچ افراد کو گرفتار کیا ہے جو اس وقت راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں ہیں جبکہ سابق فوجی صدر پرویز مشرف اس مقدمے میں اشتہاری ہیں۔ پرویز مشرف کو اس مقدمے میں اعانت مجرمانہ کا مرتکب قرار دیا گیا ہے۔

اسی بارے میں