پاکستان: سوا دو کروڑ بچے سکول نہیں جاتے

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption اٹھارویں ترمیم کے بعد تعلم اور صحت کے محکمے صوبوں کے حوالے کردیے گئے ہیں لیکن اس کے باوجود بچوں کی تعلیم اور اُن کے حقوق پر خصوصی توجہ نہیں دی جا رہی

بچوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے قائم کی گئی پارلیمانی کمیٹی کی چیئرپرسن روبینہ سادات قائم خانی نے کہا ہے کہ ملک کی اٹھارہ کروڑ آبادی میں سے سوا دو کروڑ بچے سکول نہیں جا رہے جو کہ انتہائی تشویش ناک امر ہے۔

اُنہوں نے کہا کہ ایسے بچوں کی سب سے زیادہ تعداد صوبہ خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں رہائش پذیر ہے۔

بچوں کے حقوق سے متعلق پارلیمانی کمیٹی کے پہلے اجلاس کے بعد بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے اُنہوں نے کہا کہ اٹھارویں ترمیم کے بعد تعلم اور صحت کے محکمے صوبوں کے حوالے کر دیے گئے ہیں لیکن اس کے باوجود بچوں کی تعلیم اور اُن کے حقوق پر خصوصی توجہ نہیں دی جا رہی ۔

خواتین کی مخصوص نشستوں پر صوبہ سندھ سے منتخب ہونے والی روبینہ سادات کا کہنا تھا کہ پرائمری تک بچوں کو مفت تعلیم دینے کا اعلان بھی کیا گیا ہے تاہم اطلاعات کے مطابق اس پر پوری طرح عمل درآمد نہیں ہو رہا۔

اُنہوں نے کہا کہ اجلاس میں یہ بھی بتایا گیا کہ بچوں کو تعلیم نہ ملنے کی وجہ سے وہ شدت پسند تنظیموں کے ہتھے چڑ جاتے ہیں جنہیں شدت پسند تنظیمیں خودکش حملہ آور بنانے کے علاوہ اپنے دیگر مقاصد کے لیے استعمال کرتی ہیں۔

روبینہ سادات کے بقول کمیٹی سترہ سال کی عمر تک پہنچنے والے کو بچہ تصور کرتی ہے۔

اُنہوں نے کہا کہ کمیٹی ایسی قانون سازی کرنا چاہتی ہے جس میں ریاست کو بچوں کے حقوق کی حفاظت کا ذمہ دار قرار دیا جائے۔

اُنہوں نے کہا کہ اگر اس وقت بھی بچوں کے حقوق اور اُن کی فلاح و بہبود پر توجہ نہ دی گئی تو ملک کو بچوں کے حوالے سے مستقبل میں دیگر چیلنجز کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔

قومی اسمبلی کی سپیکر ڈاکٹر فہمیدہ مرزا کی ہدایت پر بچوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے قائم کی گئی کمیٹی کے پیر کے روز ہونے والے اجلاس میں مختلف تجاویز بھی دی گئیں۔

یاد رہے کہ بچوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے پارلیمانی سطح پر اس نوعیت کی کمیٹی پہلی بار قائم کی گئی ہے۔

روبینہ سادات کا کہنا ہے کہ اس کمیٹی نے بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی بین الاقوامی غیر سرکاری تنظیموں سے ایسے بچوں کی فہرست بھی مانگی ہے جنہیں جسمانی اور جنسی تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کے سدباب کے لیے قانون سازی کی جا سکے۔

کمیٹی کی چیئرپرسن کا کہنا تھا کہ چھوٹے بچوں کی زبردستی شادیوں کو روکنے کے لیے صوبوں سے تجاویز مانگی گئی ہیں تاکہ اس ضمن میں بھی مناسب قانون سازی کی جا سکے۔

اُنہوں نے اس توقع کا اظہار کیا کہ کمیٹی جلد از جلد اپنی سفارشات مکمل کر کے حکومت کو بھجوائے گی تاکہ اس پر مناسب قانون سازی کی جا سکے جو بچوں کے حقوق کو یقینی بنانے میں مدد گار ثابت ہوگی۔

روبینہ سادات کا کہنا تھا کہ کمیٹی کے آئندہ اجلاس میں ملک کے چاروں صوبے بریفنگ دیں گے کہ اُنہوں نے بچوں کو مفت تعلیم فراہم کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے ہیں۔

اسی بارے میں