’پاکستان کو اندرونی دشمنوں سے زیادہ خطرہ‘

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

معروف تاریخ دان پروفیسر مبارک علی کا کہنا ہے کہ پاکستان کو بیرونی دشمنوں کے برعکس اندرونی تخریبی قوتوں سے زیادہ خطرہ ہے۔

انہوں نے یہ بات بی بی سی اردو کو دیے گئے ایک انٹرویو میں تاریخ اور اس کے حوالے سے پاکستان کے کردار پر گفتگو کے دوران کہی۔

پروفیسر مبارک نے پاکستان میں دشمن ممالک کے حوالے سے پائے جانے والے جذبات کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ہمارے کوئی ایسے سیاسی یا معاشی لحاظ سے دشمن نہیں تھے لیکن یہ خود ہم نے اپنے تخیل سے بہت سے دشمن پیدا کیے۔ مثلاً ہم یہ کہتے ہیں کہ ہنود و یہود و نصاریٰ ہمارے دشمن ہیں۔ یہ تو ایک سازش کی تھیوری ہم نے قائم کر لی ہے ایک مفروضہ بنا لیا ہے‘۔

ڈاکٹر مبارک علی نے مزید کہا کہ پاکستان کا حکمران طبقہ اپنی تمام غلطیوں کو ایسے مفروضی دشمنوں کے کھاتے میں ڈال دیتا ہے۔

’جب آپ اس طرح سے اپنے دشمن بنا لیتے ہیں تو حکمران طبقے اپنی تمام غلطیوں یا ایسے غلط اقدامات، جو ملک کو نقصان پہنچا سکتے ہیں، کی ساری ذمہ داری ہنود، یہود اور نصاریٰ پر ڈال دیتے ہیں اور کہتے کہ سارا کیا دھرا ان کا ہے اور ہمارا تو کوئی قصور نہیں ہے‘۔

ان کے مطابق ’اس کی مثال سابق مشرقی پاکستان ہے جو کہ ظاہر ہے کہ ہماری غلطیاں تھیں، ہمارے حکمران طبقے کی لیکن ہم نے کہہ دیا کہ یہ سب ہندوؤں کی سازش ہے‘۔

انہوں نے ملک میں نفرت اور تعصب کو جمہوری اداروں کی کمزوری کا نتیجہ قرار دیا۔ ڈاکٹر مبارک علی نے کہا کہ جب سے پاکستان بنا ہے جو بھی سیاسی جماعت یا فوجی حکمران اقتدار میں آئے تو انہوں نے اپنے مخالفوں کو یا جنہوں نے ان کے خلاف مزاحمتی تحریک شروع کی تھی انہیں ملک دشمن قرار دے دیا۔

’ابتداء میں عبدالغفار خان ملک دشمن ہوگئے تھے۔ جی ایم سید بھی ملک دشمن ہوگئے تھے۔یہ جو تصور پیدا کیا گیا وہ پھر نہیں بدلا اور ساٹھ برس گزرنے کے بعد بھی ذہن نہیں بدلا‘۔

انہوں نے کہا کہ ’ایک زمانے میں کہتے تھے کہ سندھ کے لوگ غدار ہیں آج کہا جاتا ہے کہ بلوچستان کے لوگ غدار ہیں۔ تو یہ جو ایک غداری کا تصور ہے، یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جو ابتداء میں بھی تھا اور آج بھی ہمارا ذہن بدلا نہیں ہے‘۔

ڈاکٹر مبارک کا کہنا تھا کہ پاکستانی آج بھی اسی ذہنیت پر قائم ہیں جو مسلسل انہیں نقصان پہنچا رہی ہے۔ ان کے مطابق جب تک ’ہم غلطی تسلیم نہیں کریں گے تو اپنے مسائل کا حل بھی نہیں کر سکیں گےاور چھوٹے صوبوں کی جو مزاحمتی تحریکیں ہیں انہیں بھی صحیح طرح سے سمجھ نہیں پائیں گے‘۔

پاکستان کے دنیا کے دیگر ممالک سے تعلقات پر بات کرتے ہوئے ڈاکٹر مبارک نے کہا کہ ’عالمی صورتحال دیکھیں تو ایک زمانے میں ہم روس کو اپنا دشمن سمجھتے تھے اور ہمارا خیال تھا کہ روس چونکہ نظریاتی طور پر ہمارے خلاف ہے اس لیے ہمارا دشمن ہے اور ہندوستان سے مل کر ہمیں تباہ کر رہا ہے‘۔

’ہم امریکہ کی دوستی کے حامی تھے اور اس کے ساتھ معاہدے بھی کیے کہ امریکہ ہمارا دفاع کرے گا جبکہ افغانستان سے ہمارے تعلقات اچھے نہیں تھے اور شروع سے ہی افغانستان ہمارے خلاف تھا‘۔

انہوں نے کہا کہ ایران سے پاکستان کے تعلقات میں وقت کے ساتھ تبدیلی آئی ہے۔ ’ایک زمانے میں جب شاہ ایران حکمران تھے تو اس وقت ایران پاکستان کا زبردست حامی تھا اور ہمارا بہت اچھا دوست تھا۔اب انقلاب ایران آیا تو ایران سے بھی ہمارے تعلقات خراب ہوگئے ہیں‘۔

ڈاکٹر مبارک کے مطابق پاکستان میں دیگر ممالک سے دشمنی یا مخالفت کے تصورات ہیں وہ وقت کے ساتھ بدلتے رہے ہیں لیکن کچھ ایسے ہیں جن میں تبدیلی نہیں آئی۔ ’چین سے دوستی پہلے بھی تھی اور آج بھی ہے جبکہ ہندوستان سے ایک طرح کی ازلی دشمنی ہے جو پہلے بھی تھی اور آج بھی موجود ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ ’اگر تبدیلی نہیں آئی تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ہمارے حکمران طبقے کی سوچ وہی ہے اور وہ وقت کے ساتھ چلنے کو تیار نہیں ہے‘۔

تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ بیرونی طاقتیں یا بیرونی دشمن اتنے اہم نہیں ہیں۔

’بیرونی دشمنوں یا ان کی سازشوں سے قطع نظر خود ہمارے اندر تخریبی قوتیں یا دشمن موجود ہیں۔اگر دیکھا جائے تو ہمارے پورے سوشل سٹرکچر یا سماجی ڈھانچے میں خرابیاں نظر آئیں گی‘۔

ان کا کہنا تھا کہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ جب تک پاکستان کی اندرونی’تخریبی‘ قوتوں کو نہیں سمجھا جاتا اس وقت تک بیرونی قوتوں کا مقابلہ ممکن نہیں ہے۔

’مثال کے طور پر جاگیرداری، زمینداری اور قبائلی سسٹم آج بھی موجود ہے اور ہم ابھی بھی ان فرسودہ روایات کو جاری رکھے ہوئے ہیں جو ہماری ترقی میں زبردست رکاوٹ ہیں‘۔ اس کے علاوہ ’ہم نے وقت کے ساتھ ساتھ مذہبی انتہاپسندی کی قوتوں کو فروغ دیا، ان کا ساتھ دیا۔آج وہ وہی ہمارے لیے مصیبت اور بلائے جان بنی ہوئی ہیں‘۔

ڈاکٹر مبارک نے کہا کہ ’ہمارے ہاں جمہوری ادارے اور روایات بہت زیادہ مضبوط نہیں، ہمارے ہاں آمرانہ حکومتیں آتی رہی ہیں تو جب تک لوگوں کی تحریکوں کو ہم دباتے رہیں گے تو وہ تحریکیں کسی نہ کسی طریقے سے ابھرتی رہیں گی اور وہ زیادہ تر نفرت اور دشمنی اور تعصب کی شکل میں ابھرتی ہیں‘۔

’اگر جمہوری روایات چلتی رہیں اور یہاں پر ہر ایک کو بولنے، کہنے، تقریر کی آزادی ہو تو پھر یہ چیزیں آہستہ ختم ہوجاتی ہیں‘۔

اسی بارے میں