وزیرستان میں مجوزہ آپریشن کا امریکی خیرمقدم

آخری وقت اشاعت:  منگل 14 اگست 2012 ,‭ 00:46 GMT 05:46 PST

جنرل کیانی نے یہ اشارہ دیا کہ انہوں نے وزیرستان میں جانے کے منصوبے بنائے ہیں: لیون پنیٹا

امریکی وزیر دفاع لیون پنیٹا نے کہا ہے کہ پاکستان افغان سرحد کے قریب قبائلی علاقے میں طالبان جنگجوؤں کے خلاف فوجی کارروائی شروع کرنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے جہاں القاعدہ سے جڑے حقانی نیٹ ورک کے شدت پسندوں نے محفوظ ٹھکانے بنائے ہوئے ہیں۔

امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے ساتھ ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی نے افغانستان میں امریکی فوج کے سینئر کمانڈر جنرل جان ایلن سے اپنے حالیہ رابطوں میں اس مجوزہ فوجی آپریشن پر بات کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ واشنٹگن اس سے پہلے یہ امید چھوڑ چکا تھا کہ پاکستان شمالی وزیرستان میں کوئی فوجی کارروائی کرے گا۔

دوسری جانب پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ امیر حیدر خان ہوتی نے کہا ہے کہ شمالی وزیرستان میں فوجی آپریشن کی باتیں اب تک محض قیاس آرائیاں ہیں۔ ’اس بارے میں فیصلہ کرنے کے لیے پاکستان میں فورمز موجود ہیں اور جب آپریشن کا فیصلہ کر لیا گیا تو سب کو علم ہو جائے گا۔‘

امریکی وزیر دفاع نے کہا کہ انہیں یہ نہیں معلوم کہ یہ فوجی کارروائی کب شروع ہوگی لیکن انہوں نے کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ ایسا جلد ہی ہوگا لیکن اس کا ہدف حقانی نیٹ ورک کے بجائے پاکستانی طالبان ہوں گے۔

‘جنرل کیانی نے یہ اشارہ ضرور دیا کہ انہوں نے وزیرستان میں جانے کے منصوبے بنائے ہیں۔۔۔۔ہماری سمجھ کے مطابق امید ہے کہ وہ مستقبل قریب میں یہ اقدام کریں گے، میں نہیں بتاسکتا کہ کب، لیکن ہمیں جو اشارہ ملا ہے وہ یہ ہے کہ وہ جلد ہی یہ آپریشن کرنے کے لیے تیار ہیں۔’

امریکہ کو پاکستان سے یہ پرانی شکایت ہے کہ وہ شمالی وزیرستان میں افغان طالبان اور ان کے اتحادیوں کے خلاف کارروائی نہیں کررہا جو پاکستانی علاقے سے افغانستان میں امریکہ اور اسکی اتحادی فوجوں پر حملے کرتے ہیں۔

کئی تجزیہ کار یہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان ان شدت پسند گروہوں کے خلاف کارروائی کرنے سے گریز کرتا ہے جن کے ساتھ اسکے مضبوط تاریخی تعلقات ہیں اور افغانستان سے غیرملکی فوجوں کے انخلاء کے بعد وہ اسکے لیے فائدہ مند اتحادی ثابت ہوسکتے ہیں۔

"انہوں (پاکستانی فوج) نے اس بارے میں طویل عرصے تک بات کی ہے۔ سچی بات تو یہ ہے کہ میری یہ امید ہی ختم ہوگئی تھی کہ وہ اس بارے میں کچھ کریں گے لیکن اب یہ لگتا ہے کہ وہ اب یہ قدم اٹھانے جا رہے ہیں۔"

لیون پنیٹا

اے پی کے مطابق پاکستان کی مجوزہ فوجی کارروائی کا مرکزی ہدف حقانی نیٹ ورک نہ ہونے کے باوجود لیون پنیٹا نے جنرل کیانی کے اس اقدام کا خیرمقدم کیا۔

’انہوں (پاکستانی فوج) نے اس بارے میں طویل عرصے تک بات کی ہے۔ سچی بات تو یہ ہے کہ میری یہ امید ہی ختم ہوگئی تھی کہ وہ اس بارے میں کچھ کریں گے لیکن اب یہ لگتا ہے کہ وہ اب یہ قدم اٹھانے جا رہے ہیں‘۔

امریکی وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ حال ہی میں پاکستانی فوج کے ساتھ امریکہ کے تعلقات بڑی حد تک بہتر ہوئے ہیں جو سلالہ چیک پوسٹ پر نیٹو کے فضائی حملے اور پاکستان کی طرف سے نیٹو کی رسد کے راستے بند کرنے کے بعد سے خراب ہوگئے تھے۔

انہوں نے کہا کہ جنرل ایلن اور جنرل کیانی کے درمیان حقانی نیٹ ورک کے متعلق خدشات پر بھی بات ہوئی ہے جو افغانستان میں حملے کرنے کے لیے دونوں ملکوں کی سرحد کے آر پار آتے جاتے ہیں۔

ادھر پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی نے کہا ہے کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ صرف فوج کی نہیں بلکہ پاکستانی عوام بھی اس کا حصہ ہیں۔

پاکستان کے یومِ آزادی کے موقع پر ایبٹ آباد کے علاقے کاکول میں واقع فوجی اکیڈمی میں سالانہ پاسنگ آؤٹ پریڈ سے خطاب کرتے ہوئے جنرل کیانی کا کہنا تھا کہ دہشتگردی کے خلاف لڑائی صرف پاکستانی فوج کی نہیں بلکہ پوری قوم کی ہے اور ضروری ہے کہ قوم اس کے لیے یکسو ہو کیونکہ فوج کی کامیابی عوام کے تعاون سے ہی ممکن ہے۔

"دہشتگردی کے خلاف لڑائی صرف پاکستانی فوج کی نہیں بلکہ پوری قوم کی ہے اور ضروری ہے کہ قوم اس کے لیے یکسو ہو کیونکہ فوج کی کامیابی عوام کے تعاون سے ہی ممکن ہے۔ ہمیں احساس ہے کہ کسی فوج کے لیے سب سے مشکل کام اپنے ہی عوام کے خلاف لڑنا ہے لیکن یہ آخری حربہ ہوتا ہے۔"

جنرل اشفاق پرویز کیانی

پاکستانی فوج کے سربراہ کا کہنا تھا کہ انہیں اس چیز کا احساس ہے کہ کسی فوج کے لیے سب سے مشکل کام اپنے ہی عوام کے خلاف لڑنا ہے لیکن یہ آخری حربہ ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کوئی بھی ریاست اپنے اندر متوازی نظامِ حکومت یا عسکری قوت برداشت نہیں کر سکتی۔

جنرل کیانی نے کہا پاکستان اس وقت ایک نازک دور سے گزر رہا ہے اور مذہبی عدم برداشت، سیاسی اتھل پتھل اور انارکی ملک کے لیے بڑے خطرات ہیں۔

ان کے مطابق اس وقت انتہاپسندی اور دہشتگردی سے ملک کو اصل خطرہ لاحق ہے۔ ’ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہم ان مسائل کے لیے ذمہ دار نہیں لیکن یہ مسئلے کا حل نہیں ہے‘۔

پشاور سے ہمارے نامہ نگار عزیز اللہ خان نے بتایا کہ خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ امیر حیدر خان ہوتی نے کہا ہے کہ شمالی وزیرستان میں فوجی آپریشن کی باتیں اب تک محض قیاس آرائیاں ہیں۔

پشاور میں یوم آزادی کے حوالے سے منعقدہ تقریب کے بعد صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ شمالی وزیرستان ایجنسی میں آپریشن کی باتیں صرف قیاس آرائیوں اور بیانات تک ہی محدود ہیں اس سے آگے کچھ نہیں ہے۔

انھوں نے کہا کہ اس بارے میں فیصلہ کرنے کے لیے پاکستان میں فورمز موجود ہیں اور جب آپریشن کا فیصلہ کر لیا گیا تو سب کو علم ہو جائے گا۔

"افغانستان کی جانب سے حملوں سے پہلے فرنٹیئر کور یا نیم فوجی دستے سرحدی علاقوں میں تعینات تھے لیکن پھر مشترکہ فیصلہ کیا گیا کہ انیس ڈویژن فوج کے حوالے کیا جائے اور اب سرحدی علاقوں میں فوجی اہلکار اور افسر موجود ہیں جو ملک کا دفاع کر رہے ہیں۔"

وزیر اعلیٰ امیر حیدر خان ہوتی

وزیراعلیٰ امیر حیدر خان ہوتی سے جب پوچھا گیا کہ افغانستان کی جانب سے پاکستانی علاقوں میں آئے روز حملے کیے جا رہے ہیں تو اس بارے میں فوج یا حکومت کیا اقدامات کر رہی ہے تو ان کا کہنا تھا کہ فوج سرحدی علاقوں میں صوبائی حکومت کی درخواست پر تعینات کی گئی ہے۔

انھوں نے کہا کہ ان حملوں سے پہلے فرنٹیئر کور یا نیم فوجی دستے سرحدی علاقوں میں تعینات تھے لیکن پھر مشترکہ فیصلہ کیا گیا کہ انیس ڈویژن فوج کے حوالے کیا جائے اور اب سرحدی علاقوں میں فوجی اہلکار اور افسر موجود ہیں جو ملک کا دفاع کر رہے ہیں۔

وزیر اعلی نے کہا کہ افغانستان کی جانب سے آئے روز حملوں کا منہ توڑ جواب دیا گیا ہے اور دہشت گردوں کے ان حملوں کی وہ مذمت کرتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ سفارتی سطح پر بھی یہ معاملہ متعلقہ فورم پر اٹھایا گیا ہے تاکہ ان علاقوں میں امن قائم کیا جا سکے۔

امیر حیدر خان ہوتی کے مطابق یوم آزادی کے اس موقع پر وہ ایک مرتبہ پھر عہد کرتے ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف ان کی جنگ اس وقت تک جاری رہے گی جبک تک ملک میں امن قائم نہیں ہو جاتا اور اس وطن کا دفاع وہ اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرکے بھی کریں گے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔