’ہندو شہریوں سے امتیازی سلوک ختم کرنا ہوگا‘

آخری وقت اشاعت:  منگل 14 اگست 2012 ,‭ 12:10 GMT 17:10 PST

پاکستان میں ہندو اقلیتوں کے مسائل جاننے کے لیے بنائی گئی کمیٹی نے کہا ہے کہ معاشرے کے تمام طبقوں اور اداروں کو یہ یقین دہانی کرانا ہوگی کہ وہ ہندو اقلیتوں کے ساتھ کھڑے ہیں اور ان سے امتیازی سلوک اختیار نہیں کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ سندھ سے ہندوؤں کی بھارت نقل مکانی کی اطلاعات پر صدر آصف علی زرداری نے وفاقی وزیر مولا بخش چانڈیو کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دی تھی جس میں سینیٹر ہری رام کشوری لال اور رکن قومی اسمبلی رمیش لال بھی شامل تھے۔

اس خصوصی کمیٹی نے سکھر اور حیدرآباد میں اقلیتی پنچائیتوں اور نمائندوں سے ملاقات کی اور ان کے مسائل معلوم کیے۔

اقلیتی کمیٹی کے سربراہ مولا بخش چانڈیو کا کہنا ہے کہ ہندو نمائندوں نےشکایت کی ہے کہ چونکہ پاکستان مسلمانوں کا ہے اور انتظامیہ بھی مسلمان ہے اس لیے ان کی شنوائی نہیں ہوتی اور ان کے ساتھ امتیازی سلوک برتا جاتا ہے۔

"ہندو نمائندوں نے امن و امان کی شکایت کی اور کہا کہ چونکہ یہ ملک مسلمانوں کا ہے اور انتظامیہ بھی مسلمان ہے اس لیے ان کی شنوائی نہیں ہوتی اور ان کے ساتھ امتیازی سلوک برتا جاتا ہے۔"

وفاقی وزیر مولا بخش چااڈیو

کمیٹی کے مطابق ہندو لڑکیوں کی پسند کی شادی اور مذہب کی تبدیلی کے واقعات سے بھی ان میں بے چینی موجود ہے۔ ہندو کمیونٹی کا کہنا ہے کہ یہ شادیاں پسند کی نہیں بلکہ جبری ہیں۔

کمیٹی کے سربراہ مولابخش چانڈیو کے مطابق ہندو برادری کے خدشات اور تحفظات دور کرنے کے لیے انتظامی اقدامات اور قانون سازی کی ضرورت ہے۔

یاد رہے کہ پچھلے دنوں رنکل کماری اور ڈاکٹر آشا کماری سمیت پانچ ہندو لڑکیوں کی مذہب کی تبدیلی اور پسند کی شادی پر ہندو برادری نے احتجاج کیا تھا۔سپریم کورٹ نے جب اس معاملے کو اٹھایا تو ان لڑکیوں نے بیان دیا تھا کہ انہوں نے اپنی مرضی سے مذہب تبدیل کیا اور شادی کی ہے۔

سندھ کی ہندو برادری نے کمیٹی کو ملازمتوں اور ترقیاتی منصوبوں میں بھی نظر انداز کرنے کی شکایت کی۔ کمیٹی کے رہنما مولا بخش چانڈیو کے مطابق ہندو برادری کو بھی ملازمتوں میں برابری کا موقعہ ملنا چاہیے اور اقلیتوں کے لیے جو پانچ فیصد کوٹہ مختص ہے اس پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔

کمیٹی حالیہ برسوں میں سندھ سے ہندو برادری کی نقل مکانی کے اعداد و شمار حاصل نہیں کرسکی ہے۔

وفاقی وزیر مولابخش چانڈیو کے مطابق جو لوگ یہاں سے جاتے ہیں ان کی تعداد تو مل جاتی ہے مگر جو واپس آتے ہیں ان میں سے کئی الگ الگ آتے ہیں اس لیے ان کی تعداد معلوم نہیں ہو پاتی۔

سندھ سے حکمران جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیٹ، قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلی میں اقلیتی نمائندے موجود ہیں، ہندو کمیونٹی کو شکایت رہی ہے کہ وہ ان کے مسائل اور جذبات کی نمائندگی نہیں کرتی۔ دلچسپ امر یہ بھی ہے کہ یہ نمائندے اونچی ذات سے تعلق رکھتے ہیں جبکہ سندھ میں ستر فیصد سے زائد شیڈول کاسٹ یا دلت آبادی ہے۔

اس کمیٹی کی سفارشات پر ہندو برادری کے مطالبات پر کس قدر عمل ہوسکتا ہے؟ اس بارے میں مولا بخش چانڈیو کا کہنا ہے کہ بات مطالبات کی نہیں بلکہ ہندو برادری کو یہ احساس دلانے کی ہے وہ اکیلے نہیں ہیں، لڑکیوں کے معاملہ پر کوئی زیادتی نہیں ہوگی، ان کے ساتھ کوئی امتیازی سلوک روا نہیں رکھا جائے گا تو اعتماد بحال ہوسکتاہے۔

دوسری جانب ہندو برادری کے ایک وفد نے صدر آصف علی زرداری کی بہن اور رکن قومی اسمبلی فریال تالپور سے بھی ملاقات کی ہے، جس میں فریال تالپور نے انہیں یقین دہانی کرائی ہے کہ کمیٹی کی سفارشات پر عمل درآمد کیا جائے گا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔