آئی بی کو وزارت داخلہ کے ماتحت کرنے کی سفارش

آخری وقت اشاعت:  منگل 14 اگست 2012 ,‭ 11:08 GMT 16:08 PST

کمیشن ایبٹ آباد میں اسامہ کی روپوشی اور ہلاکت کی تفتیش پر رپورٹ ترتیب دے رہا ہے

پاکستان میں اسامہ بن لادن کی روپوشی اور ہلاکت کی تحقیقات کرنے والے اعلیٰ اختیاراتی کمیشن نے پاکستان میں جاسوسی کے قومی ادارے (انٹیلیجنس بیورو) کو وزیراعظم کے بجائے وزارت داخلہ کے ماتحت کرنے کی سفارش کی ہے۔

کمیشن کے ذرائع کے مطابق جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کی سربراہی میں اس کمیشن کی رپورٹ میں انٹیلیجنس بیورو کے بارے میں ایک خصوصی باب تحریر کیا گیا ہے جس میں یہ سفارش بھی شامل ہے۔

کمیشن کے ذرائع کا کہنا ہے کہ کمیشن کے ارکان کی رائے ہے کہ انٹیلیجنس بیورو کو وزیراعظم کی ماتحتی سے نکال کر وزارت داخلہ کی ماتحتی میں دے دیا جائے۔

قواعد کے مطابق انٹیلیجنس بیورو براہ راست وزیراعظم کو رپورٹ کرتا ہے۔ یہ رپورٹ مکمل ہونے کے بعد وزیراعظم کو پیش کی جائے گی۔

کمیشن کے ذرائع کا کہنا ہے کہ انٹیلیجنس بیورو کو موجودہ حالت میں ایک ایسا ’نا اہل‘ ادارہ قرار دیا گیا ہے جس کا قومی سلامتی میں کوئی کردار نہیں ہے۔

کمیشن کے ذرائع کا کہنا ہے کہ اسامہ بن لادن کی روپوشی اور ہلاکت کے واقعات کے بارے میں جب کمیشن نے انٹیلیجنس بیورو کی رائے طلب کی تو اس ادارے نے اس معاملے پر کسی بھی قسم کی رائے دینے سے انکار کیا تھا۔

بیوروکے اس وقت کے سربراہ جاوید نور نے کمیشن کے طلب کرنے کے باوجود اس کے سامنے پیش ہونے سے معذرت کرتے ہوئے کمیشن کو بتایا کہ اسامہ بن لادن انٹیلیجنس بیورو کے مینڈیٹ میں نہیں آتا اس لیے وہ کمیشن کے سامنے اس بارے میں کوئی جواب دہی کے لیے تیار نہیں ہیں۔

کمیشن کی جانب سے دوبارہ اور سختی سے طلبی پر جاوید نور ارکان کے سامنے پیش ہوئے اور بتایا کہ ان کا کام صرف اور صرف سیاست دانوں پر نظر رکھنا ہے۔

ذرائع کے مطابق بیورو کے سربراہ نے کمیشن کو بتایا کہ انہیں وزیراعظم کی جانب سے حکم دیا گیا ہے کہ ان کے ادارے کے وسائل حکومت کے سیاسی عزائم کی تکمیل پر صرف کیے جائیں۔

انٹیلیجنس بیورو کے سابق سربراہ کے مطابق ان کے ادارے نے پچھلے کئی سال سے قومی سلامتی سے متعلق کوئی اہم کام نہیں کیا ہے اور اس عرصے میں اس کے اہلکار صرف سیاستدانوں کی جاسوسی اور سیاسی جوڑ توڑ میں ملوث رہے ہیں۔

کمیشن کے ذرائع کا کہنا ہے کہ انٹیلیجنس بیورو کے سربراہ کے تہلکہ خیز بیان کے بعد کمیشن ارکان نے اس ادارے کے قومی کردار پر ایک طویل مضمون لکھا ہے جس کا لب لباب یہ ہے کہ انٹیلیجنس بیورو اپنی موجودہ حالت میں ملک کی کوئی خدمت نہیں کر رہا بلکہ وزیراعظم وقت کے سیاسی مشیر کا کردار ادا کرتا ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔