کراچی: اے این پی کے رہنما سمیت چار ہلاک

آخری وقت اشاعت:  منگل 14 اگست 2012 ,‭ 09:15 GMT 14:15 PST

پولیس نے واقعے کو ٹارگٹ کلنگ کا نتیجہ قرار دیا ہے

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما سمیت چار افراد کی ہلاکت کی ذمہ داری کالعدم تحریک طالبان نے قبول کی ہے۔

تحریک طالبان مالا کنڈ ڈویزن نے ترجمان مولانا سراج الدین نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ اے این پی کے رہنما امیر سردار نے ان کے ساتھیوں کی گرفتاری میں پولیس کی مدد کی تھی، جس کا انہوں نے بدلہ لیا ہے۔

پیر کی رات کو فرنٹیئر کالونی میں چائے کے ایک ہوٹل پر حملہ کیا گیا تھا، جس میں یونین کونسل کے سابق ناظم امیر سردار، رحمت علی، زاہد خان اور بخش زمان ہلاک ہوگئے تھے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما امیر سردار روزہ افطار کرنے کے بعد اپنے گھر کے قریب واقع ہوٹل پر دوستوں کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے کہ موٹر سائیکل سوار حملہ آوروں نے ان پر فائرنگ کر دی۔

نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق فرنٹیئر کالونی پشتون آبادی ہے جس میں کسی اور کا داخل ہو کر کوئی کارروائی کرنا تقریباً ناممکن ہے۔

پولیس نے واقعے کو ٹارگٹ کلنگ کا نتیجہ قرار دیا ہے۔

امیر سردار کا تعلق سوات سے تھا وہ گزشتہ دو دہائیوں سے عوامی نیشنل پارٹی سے منسلک تھے، اسی علاقے میں عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما محمد حنیف خان، اور سعید خان بھی ہلاک ہو چکے ہیں۔

کنواری کالونی اور گڈاپ سمیت بعض علاقوں میں عوامی نیشنل پارٹی نے اپنی سرگرمیاں محدود کر دی ہیں اور ان علاقے میں اب عوامی نیشنل پارٹی کے جھنڈے بھی نظر نہیں آتے۔

خیبر پختونخواہ میں عوامی نیشنل پارٹی کی قیادت اور کارکنوں کو کئی بار نشانہ بنایا گیا ہے، کیا اب کراچی میں بھی وہ نشانے پر ہیں۔

عوامی نیشنل پارٹی کے سیکرٹری جنرل بشیر جان کا کہنا ہے کہ ان کے کارکنوں کی ہلاکت میں انتہاپسندی اور طالبان سمیت دوسرے عناصر بھی شامل ہیں۔

بقول ان کے جب تک قانون نافذ کرنے والے ادارے ملزمان کو گرفتار کر کے ان کا اعتراف عوام کے سامنے نہیں لاتے تب تک وہ کیسے یقین کر لیں کہ ان کے ساتھیوں کی ہلاکت میں طالبان ملوث ہیں۔

اسی بارے میں

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔