اثاثے ظاہر کرنے کا پابند بنانے کی کوشش

آخری وقت اشاعت:  بدھ 15 اگست 2012 ,‭ 13:54 GMT 18:54 PST

اثاثے ظاہر کرنے کے فیصلے پر جزوی طور پر عمل درآمد ہوا: وفاقی وزیر اطلاعات

حکومت پاکستان نے سیاستدانوں کی طرح ججوں اور جرنیلوں سمیت اعلیٰ عہدوں پر فائز شخصیات کو ہر سال اپنے اثاثے ظاہر کرنے کا پابند کرنے کے لیے کمیٹی بنا دی ہے۔

یہ فیصلہ بدھ کو وزیراعظم راجہ پرویز اشرف کی صدارت میں ہونے والی وفاقی کابینہ کے اجلاس میں کیا گیا ہے۔

کمیٹی میں سیکرٹری اسٹیبلشمینٹ اور سیکرٹری کابینہ ڈویژن شامل ہوں گے۔

کابینہ کے فیصلوں کے بارے میں بریفنگ دیتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات قمر الزمان کائرہ نے بتایا کہ کابینہ نے اس بارے میں گزشتہ برس فیصلہ کیا تھا لیکن اس پر عملدرآمد جزوی طور پر ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کمیٹی سے کہا گیا ہے کہ وہ وزارت قانون سے مشاورت کرے اور اس بات کا جائزہ لے کر اگر قانون سازی کی ضرورت ہے تو وہ اپنی سفارشات پیش کرے۔

بریفنگ کے دوران وزیر اطلاعات قمر الزمان کائرہ نے یہ بات ایک سوال کے جواب میں بتائی اور خود سے آگاہ نہیں کیا۔

اسلام آباد میں ہمارے نامہ نگار اعجاز مہر کے مطابق بظاہر ایسا لگا کہ وہ اس معاملے کو زیادہ اہمیت دینا نہیں چاہتے کہ کہیں اس تاثر کو تقویت نہ ملے کہ حکومت عدلیہ اور فوجی جرنیلوں سے ماضی یا حال میں پائے جانے والے تناؤ کے تناظر میں یہ فیصلہ کر رہی ہے۔

بریفنگ میں وفاقی وزیر نے کہا کہ ’تمام احباب جو سرکاری خزانے سے تنخواہ لیتے ہیں انہیں ہر سال اپنے اثاثے ظاہر کرنے چاہیے۔‘

تمام احباب جو سرکاری خزانے سے تنخواہ لیتے ہیں انہیں ہر سال اپنے اثاثے ظاہر کرنے چاہیے: قمر الزمان کائرہ

ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اثاثے ظاہر کرنے اور ’پبلک‘ کرنے میں فرق ہے اور اس بارے میں جو بھی قانون بنے گا اس پر عمل ہوگا۔

وزیر نے بتایا کہ بلوچستان کے بارے میں کابینہ کی کمیٹی نے ابتدائی رپورٹ پیش کر دی ہے لیکن حتمی رپورٹ کے لیے مہلت مانگی ہے اور آئندہ اجلاس میں حتمی رپورٹ پیش ہوگی۔ عبوری رپورٹ کی تفصیل دینے سے انہوں نے انکار کیا۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ اب اگر دوسرے وزیراعظم کو عدلیہ نے نکالا تو پیپلز پارٹی مزاحمت کرے گی، تو وزیر اطلاعات نے کہا کہ پیپلز پارٹی میں فیصلے مشاورت سے ہوتے ہیں اور ظاہر ہے کہ جو صورتحال بن رہی ہے اس سے نظام کدھر جائے گا، پیپلز پارٹی فکر مند ہے۔

ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ الیکشن وقت پر ہوں گے اور کسی طور پر بھی انتخابات ملتوی نہیں کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ آئین کے مطابق جنگی حالات میں انتخاب ملتوی کرنے کی گنجائش ہے لیکن اب وہ حالات نہیں ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ بجلی کی پیداوار میں بہتری ہوئی ہے اور تقریباً ساڑھے چودہ ہزار میگاواٹ بجلی پیدا ہو رہی ہے۔ان کے بقول عید کے بعد بجلی کے معاملے پر کابینہ کا خصوصی اجلاس ہوگا۔

اسی بارے میں

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔