’یہ ایک سیکسی ہیڈلائن نہیں‘

آخری وقت اشاعت:  بدھ 15 اگست 2012 ,‭ 16:39 GMT 21:39 PST
کترینا کیف

روایتی طور پر ذرائعِ ابلاغ کو سینسر کرنے کا الزام حکومت پر لگایا جاتا ہے، لیکن حالیہ دنوں میں بعض صحافی اور اینکر پرسنز اسے کیبل چینل آپریٹرز اور چینلز کے مالکان کی ذمہ داری قرار دے رہے ہیں۔

کچھ دن قبل نجی ٹی وی چینل ڈان نیوز کے اینکر طلعت حسین نے سپریم کورٹ میں زیرِ سماعت فحش پروگراموں سے متعلق مقدمے کے بارے میں آزادیِ اظہار پر پروگرام تیار کیا۔ مگر نشر ہونے کے وقت سے صرف دس منٹ قبل انہیں بتایا گیا کہ پروگرام نہیں چلایا جائے گا۔

انہیں وجہ یہ بتائی گئی یہ معاملہ عدالت میں زیرِ سماعت ہے اس لیے اس پر بات نہیں ہو سکتی۔

ادھر صحافی اور کالم نگار انصار عباسی کا اسی موضوع پر کالم روزنامہ جنگ میں اسی وجہ سے نہیں چھاپا گیا۔ انصار عباسی پوچھتے ہیں ’آخر کون سا مقدمہ ہے جس پر اخبارات اور چینلز پر گفتگو نہیں ہوتی؟ چاہے کوئی بھی مقدمہ ہو، این آر او، پاکستان سٹیل ملز، یا این آئی سی ایل، ان پر ہر روز بحث چلتی ہے۔‘

ان دونوں صحافیوں کا موقف ہے کہ وہ زیرِ سماعت ایشوز کو نہیں اٹھا رہے بلکہ ایک ایسے موضوع پر بحث چھیڑنا چاہتے ہیں جو عوام کے مفاد میں ہے۔ تجزیہ نگار اور اینکر نسیم زہرہ نے بھی انٹرنیٹ پر اسی موضوع پر کہا کہ ’زیرِ سماعت مقدموں پر کون بحث نہیں کرتا۔ یہ تو پرانی روایت ہے، جس پر عمل نہیں کیا جاتا۔‘

طلعت حسین نے بی بی سے کو بتایا کہ انہیں چینل کی انتظامیہ نے کہا کہ اگر یہ پروگرام نشر کیا گیا تو ’ کیبل آپریٹرز ہمارے چینل کو بہتّر یا بیاسی نمبر پر پھینک دیں گے جہاں پر اسے کوئی دیکھ نہیں پائے گا۔ آپ اس پروگرام کو نہ کیجیے۔‘

جب بی بی سی نے چینل کے مالکان سے رابطہ کیا تو انہوں نے بتایا کہ وہ ان معاملوں میں دخل اندازی نہیں کرتے، اور پروگرام کو روکنے کی یہی وجہ ہے کہ یہ معاملہ زیرِ سماعت ہے۔

ملکہ شراوت

پاکستانی مارکیٹ میں بھارتی فلمیں کھلے عام دستیاب ہیں

مگر آخر یہ کون سا متنازع معاملہ ہے جس پر صحافی، چینلز کے مالکان، اینکرپرسنز اور کیبل آپریٹرز کے درمیان جنگ چھڑ گئی ہے؟

حالیہ دنوں میں کالم نگار انصار عباسی نے چینلز پر فحش مواد اور بھارتی فلموں اور پروگراموں کی غیر قانونی نشریات کے خلاف مہم چلائی، اور اس پر جماعتِ اسلامی کے سابق رہنما قاضی حسین احمد اور جسٹس ریٹائرڈ وجیہہ الدین احمد نے عدالتِ عظمیٰ میں الگ الگ درخواستیں دائر کیں۔ چیف جسٹس آف پاکستان نے ان پر از خود نوٹس لیا اور مقدمہ جاری ہے۔

سماعت کے دوران چیف جسٹس نے کہا کہ پاکستانی چینلز پر ایسے مواد کو فروغ دیا جاتا ہے جسے اپنے خاندان کے ساتھ بیٹھ کر دیکھیں تو شرم آ جاتی ہے۔ انہوں نے پاکستان میں الیکٹرانک میڈیا کے نگراں ادارے پیمرا کے قائم مقام سربراہ عبدالجبار کو میڈیا سے وابستہ تمام فریقین سے مشاورت کرنے کے بعد روک تھام کی ہدایت کی۔

تاہم عبدالجبار نے بی بی سی کو بتایا کہ انہوں نے عدالت کو جواب میں کہا’فحاشی کو بیان کرنا بہت مشکل ہے۔ ہر ملک میں، انفرادی طور پر، اسے الگ الگ طرح تصور کیا جاتا ہے۔‘

انصار عباسی اور طلعت حسین نے کیبل آپریٹرز اور چینل کے مالکان پر الزام لگایا ہے کہ انہوں نےمعاشی فواد کے لیے غیر قانونی بھارتی چینلز کی نشریات اور فحش مواد کے موضوع پر سخت پابندی لگانے کا سمجھوتا کیا ہے۔

"صرف ہمیں کیوں نشانہ بنایا جاتا ہے؟ پاکستانی چینلز پر بھارتی گانے سنائے جاتے ہیں، بھارتی فلموں کی سی ڈیز بازاروں میں عام دستیاب ہیں، سینما میں بھارتی فلموں کی نمائش ہوتی ہے"

کیبل آپریٹر

تاہم، کیبل آپریٹرز کی تنظیم کے سربراہ خالد ارائیں نے اس بات کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا ’ہم ایسے ایڈیٹوریل معاملات میں دخل نہیں دیتے۔ دوسری بات یہ کہ صرف ہمیں کیوں نشانہ بنایا جاتا ہے؟ پاکستانی چینلز پر بھارتی گانے سنائے جاتے ہیں، بھارتی فلموں کی سی ڈیز بازاروں میں عام دستیاب ہیں، سینما میں بھارتی فلموں کی نمائش ہوتی ہے۔‘

طلعت حسین کہتے ہیں کہ یہ پابندی دانستہ ہے اور آزادیِ اظہار کے حق کی خلاف ورزی پر لبرل یا مین سٹریم میڈیا خاموش ہے۔ ’اس میں نہ تو کوئی داڑھی ہے، نہ ٹوپی ہے، نہ ہی ڈنڈا۔ کیونکہ یہ کیبل آپریٹرز کے بارے میں ہے، جو سیکسی ہیڈلائن نہیں ہے، اسی لیے کسی نے اسے اٹھایا نہیں۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ آج کل کے زمانے میں ’جو کام تگڑی سیاسی جماعتیں، طاقت ور اسیٹیبلشمنٹ اور سابق صدر پرویز مشرف نہیں کر پائے وہ کیبل آپریٹر یعنی معاشی سینسر شپ کے ذریعے سے ہو رہا ہے۔‘

سینسر شپ کا ذمہ دار کون ہے، اس پر مختلف آرا ہیں۔ مگر جب تک پاکستان میں یکساں میڈیا پالیسی پر اتفاقِ رائے نہیں ہوتا، تب تک ایسے تنازعات سامنے آتے رہیں گے۔پہلے تو فحاشی کی تعریف پر کوئی اتفاق کر کے دیکھے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔