پشاور: دو افراد کی بوری بند لاشیں برآمد

آخری وقت اشاعت:  بدھ 15 اگست 2012 ,‭ 15:39 GMT 20:39 PST
فائل فوٹو

پشاور میں بوری بند لاشیں ایک ماہ سے مل رہی ہیں

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور کے مضافات میں دو افراد کی بوری بند لاشیں ملی ہیں۔

ایک ماہ کے اندر بوری بند لاشیں ملنے کا یہ چوتھا واقعہ ہے۔

اس کے علاوہ کرم ایجنسی میں سکیورٹی فورسز کی گاڑی باردوی سرنگ سے ٹکرانے کے نتیجے میں ایک سکیورٹی اہلکار ہلاک اور ایک زخمی ہو گیا۔

پولیس کے مطابق بدھ کی صبح خیبر ایجنسی اور پشاور کے سرحدی علاقے سربند سے دو افراد کی بوری بند لاشیں ملی ہیں۔

پولیس کے مطابق جن افراد کی لاشیں ملی ہیں ان کی عمریں پینتیس سال تک ہیں اور دونوں کا تعلق بڈھ بیر اور ضلع ہنگو سے بتایا گیا ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ہنگو کے رہائشی عارف شاہ متعدد واقعات میں پولیس کو مطلوب تھے۔

پشاور میں بوری بند لاشیں ایک ماہ سے مل رہی ہیں اور حکام کے مطابق اس ماہ یہ چوتھا واقعہ ہے۔

اب تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ ان افراد کی ہلاکت میں کون ملوث ہے۔

خیبر ایجنسی کی تحصیل باڑہ سمیت مختلف مقامات پر فوجی آپریشن جاری ہے جہاں سے بڑی تعداد میں لوگ نقل مکانی کر چکے ہیں۔

اس کے علاوہ دیگر واقعات میں حکام کے مطابق کرم ایجنسی میں سرنگڑھی کے مقام پر سکیورٹی فورسز کی گاڑی ایک بارودی سرنگ سے ٹکرانے کے نتیجے میں ایک اہلکار ہلاک اور ایک زخمی ہو گیا۔ زخمی اہلکار کی حالت تشویشناک بتائی گئی ہے۔

ادھر لوئر کرم ایجنسی کے ہی علاقے بگزئی میں ایک مسافر گاڑی کے قریب دھماکے سے تین افراد زخمی ہوئے ہیں۔

یاد رہے منگل کو اپر اورکزئی ایجنسی کے علاقے بلراس میں سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں اور شدت پسندوں کے درمیان جھڑپ میں تین اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے تھے۔

مقامی ذرائع کے مطابق سکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائی میں متعدد شدت پسند ہلاک ہو گئے۔

مقامی ذرائع کے کہنا ہے کہ اہلکاروں نے اس کارروائی میں ہیلی کاپٹر بھی استعمال کیے ہیں۔

کالعدم شدت پسند تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے مرکزی ترجمان احسان اللہ احسان نے ان تینوں واقعات کی ذمہ داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔