طالبان کمانڈر فوج کی حراست میں یا اشتہاری؟

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 17 اگست 2012 ,‭ 17:44 GMT 22:44 PST

دلچسپ بات یہ ہے کہ مسلم خان کو گرفتار کرنے کی فوج تصدیق کر چکی ہے مگر اس کے باوجود سوات کی انسداد دہشت گردی عدالت سال دو ہزار گیارہ تک کئی مقدمات میں ان کو اشتہاری قرار دے چکی ہے۔

کالعدم تحریک طالبان پاکستان کی سوات شاخ کے ترجمان مسلم خان کو انسداد دہشت گردی کی عدالتوں کی جانب سے کئی مقدمات میں اشتہاری ملزم قرار دیے جانے کے باوجود انہیں فوجی حکام نے آج تک کسی عدالت میں پیش نہیں کیا ہے۔

فوجی حکام کے مطابق ستمبر دو ہزار نو میں مسلم خان کو ایک بڑی کارروائی کے بعد دیگر چار اہم طالبان کمانڈروں سمیت مینگورہ کے مضافات سے گرفتار کیا گیا تھا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ مسلم خان کو گرفتار کرنے کی فوج تصدیق کر چکی ہے مگر اس کے باوجود سوات کی انسداد دہشت گردی عدالت سال دو ہزار گیارہ تک کئی مقدمات میں ان کو اشتہاری قرار دے چکی ہے۔

بی بی سی کی جانب سے اکٹھی کی گئی تفصیلات کے مطابق مسلم خان کو عدالت نے ستائیس اگست دو ہزار آٹھ کو درج ہونے والی ایف آئی آر نمبر دو سو پینتیس، تئیس جنوری دو ہزار نو کو درج ہونے والی ایف آئی آر نمبر تیرہ اور اکیس فروری دو ہزار گیارہ کو درج ہونے والی ایف آئی آر نمبر تریسٹھ پر اشتہاری قرار دیا ہے۔

ان مقدمات میں طالبان کے سابق ترجمان کو سرکاری عملداری میں مداخلت، سرکاری اور غیرسرکاری املاک کو نقصان پہنچانے اور دھماکے کرنے جیسے سنگین الزامات کا سامنا ہے۔ ذرائع کے مطابق مسلم خان سوات طالبان کے رہنما مولانا فضل اللہ کے بعد بڑے اہم کمانڈر ہیں جنہیں ان مقدمات میں نامزد کیا گیا ہے۔

ستمبر دو ہزار نو کی کارروائی میں فوج نے مسلم خان کے علاوہ ایک دوسرے بڑے کمانڈر محمود خان کو بھی گرفتار کیا تھا لیکن انہیں بھی ابھی تک کسی عدالت میں پیش نہیں کیا گیا ہے۔

تقریباً یہی حال تحریک طالبان کے مرکزی ترجمان مولوی عمر کا بھی ہے جو اگست دو ہزار نو میں قبائلی علاقے مہمند ایجنسی سے گرفتار کیے گئے تھے اور اس کے بعد سے فوجی حراست میں ہیں اور ان کے خلاف بھی کسی قانونی کارروائی کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔

سوات میں بتیس سال سے وکالت کے بیشے سے منسلک فیروز شاہ ایڈوکیٹ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے اکثر مقدمات میں کیس کمزور ہونے کی وجہ سے سکیورٹی فورسز کی حراست میں ملزمان کو عدالت کے سامنے لانے میں تاخیر ہوتی ہے۔ ان مقدمات میں بعض اوقات نہ تو کوئی شہادت دینے کے لیے تیار ہوتا ہے اور نہ کوئی دوسرے ثبوت ہوتے ہیں جن کی بنیاد پر ملزمان کو عدالتوں سے سزائیں دلوائی جا سکیں۔

انھوں نےتحریک نفاذ شریعت محمدی کے رہنما مولانا صوفی محمد اور ان کے بیٹوں کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ ان کو بھی کچھ مقدمات میں عدالت کی طرف سے بری کیا گیا ہے۔مولانا صوفی محمد بعض دوسرے مقدمات کی وجہ سے ابھی تک جیل میں ہیں۔

"دہشت گردی کے اکثر مقدمات میں کیس کمزور ہونے کی وجہ سے سکیورٹی فورسز کی حراست میں ملزمان کو عدالت کے سامنے لانے میں تاخیر ہوتی ہے۔ ان مقدمات میں بعض اوقات نہ تو کوئی شہادت دینے کے لیے تیار ہوتا ہے اور نہ کوئی دوسرے ثبوت ہوتے ہیں جن کی بنیاد پر ملزمان کو عدلتوں سے سزائیں دلوائی جا سکیں۔"

فیروز شاہ ایڈوکیٹ

بی بی سی کی جانب سے فوجی حکام سے بار بار رابطوں کے باوجود ان کا ردعمل حاصل نہیں ہوسکا ہے۔ یہ واضح نہیں ہے کہ فوج ان طالبان رہنماؤں کی بغیر کسی عدالتی کارروائی کے لمبے عرصے تک حراست میں رکھنے کی پالیسی میں کسی تبدیلی کے بارے میں سوچ رہی ہے یا نہیں۔

مسلم خان نے جہانزیب کالج سوات میں تعلیم حاصل کی تھی اور اس زمانے میں وہ حکمران جماعت پیپلز پارٹی کی طلبہ تنظیم پیپلز سٹوڈنٹس فیڈریشن کے رکن بھی رہے۔ ان کو باضابطہ طور پر اگست دو ہزار نو میں تحریک طالبان سوات کا ترجمان مقرر کیا گیا تھا۔ ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ مادری زبان پشتو کے علاوہ اردو، انگریزی اور عربی جانتے ہیں اسی لیے ان کا اس عہدے کے لیے انتخاب کیا گیا تھا۔

مسلم خان ملازمت کے سلسلے میں چار سال تک امریکی شہر بوسٹن کے علاوہ کویت میں بھی رہ چکے ہیں۔ انہوں نے پاکستان شپنگ کارپوریشن میں سی مین کے طور پر ملازمت کرچکے ہیں۔ انہوں نے سوات میں طالبان کی عملدرای کے قیام میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ ایک وقت میں وہ طالبان کی جانب سے حکومت کے ساتھ مذاکراتی ٹیم کے بھی رکن تھے۔

کہا جاتا ہے کہ یہ مسلم خان ہی تھے جنہوں نے مولانا فضل اللہ کے لیے ایف ایم ریڈیو کا بندوبست کیا تھا جس کے ذریعے وہ سوات میں اپنا اثرورسوخ بڑھانے میں کامیاب رہے تھے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔