مسیحی بچی کا گھر میڈیا کی توجہ کا مرکز

آخری وقت اشاعت:  منگل 21 اگست 2012 ,‭ 00:57 GMT 05:57 PST

رمشاء کا ہ خاندان گزشتہ چھ سال سے اسلام آباد کے گاؤں میرا جعفر کے رہائشی ملک امجد کے مکان میں کرائے پر رہتا تھا

توہین مذہب کے الزام کا سامنا کرنے والی عیسائی لڑکی رمشاء کا گاؤں میرا جعفر میڈیا اور لوگوں کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔

جس مکان میں یہ بچی اپنے چار بہن بھائیوں اور والدین کے ہمراہ رہتی تھی اب اس پر تالے پڑے ہیں۔

ظاہر ہے رمشاء جیل میں ہے اور اس کے والدین پولیس کی حفاظتی حراست میں۔

یہ خاندان گزشتہ چھ سال سے اسلام آباد کے گاؤں میرا جعفر کے رہائشی ملک امجد کے مکان میں کرائے پر رہتے تھے۔

ملک امجد نے بتایا ’ جمعرات کی شام میرا بھانجا ( ملک حماد) نماز پڑھنے جارہا تھا کہ اس نے اس بچی کو کوڑا کرکٹ پھینکتے دیکھا جس میں قرآن کی آیات، نماز کے بارے میں دو کتابچے اور اسلامی قاعدہ تھا اور یہ آدھے جلے ہوئے تھے۔‘

رمشاء کو پولیس نے مقامی نوجوان ملک حماد کی شکایت پر توہین مذہب کے قانون کے دفعہ دو سو پچانوے بی کے تحت گرفتار کیا ہے۔

"جمعرات کی شام میرا بھانجا ( ملک حماد) نماز پڑھنے جارہا تھا کہ اس نے اس بچی کو کوڑا کرکٹ پھینکتے دیکھا جس میں قرآن کی آیات، نماز کے بارے میں دو کتابچے اور اسلامی قاعدہ تھا اور یہ آدھے جلے ہوئے تھے۔"

ملک امجد

اس دفعہ کے مطابق کوئی بھی شخص جان بوجھ کر قرآن یا اس کے کسی حصے کی بحرمتی کرے، نقصان پہنچائے یا توہین آمیز طریقے سے استعمال کرے اس کے لیے عمر قید کی سزا مقرر ہے۔

ملک امجد نے بتایا کہ اس واقعہ کے بعد مقامی لوگ یہاں جمع ہو گئے اور وہ مشتعل تھے تاہم انھوں نے رمشاء اور اس کے خاندان کو بحفاظت پولیس کے حوالے کیا۔

ان کا کہنا ہے کہ رمشاء اور ان کی والدہ نے بھی خود مقامی افراد کے سامنے تسلیم کیا کہ ایسا غلطی سے ہوا اور انھیں پتہ نہیں تھا۔

انھوں نے کہا کہ پولیس کی تحقیقات کے بعد ہی معلوم ہوگا کہ آیا اس بچی نے ایسا جان بوجھ کر کیا یا پھر غلطی سے۔

ملک امجد نے مزید کہا کہ اس سے پہلے اس گاؤں میں ایسا کوئی واقعہ رونما نہیں ہوا اور نہ ہی یہ خاندان پہلے کبھی اس طرح کی کسی سرگرمی میں ملوث پایا گیا۔

اس واقعہ کے بعد مقامی لوگ یہاں جمع ہو گئے اور وہ مشتعل تھے: ملک امجد

توہین مذہب کا سامنا کرنے والی رمشاء کے بارے میں وفاقی وزیر برائے قومی ہم آہنگی ڈاکٹر پال بھٹی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ دماضی مسائل کا شکار ہیں تاہم ملک امجد کا کہنا ہے کہ یہ بچی ظاہری طور پر نارمل ہے لیکن طبعی رپورٹ کے بعد ہی پتہ چلے گا کہ آیا وہ ذہنی مریض ہیں یا نہیں۔

اس گاؤں کی مسجد کے نائب امام حافظ محمد زبیر کا اصرار ہے کہ عیسائی بچی نے توہین مذہب کا ارتکاب کیا ہے لہذا اسے سزا ملنی چاہیے۔

انہوں نے کہا ’ہم تو یہ کہتے ہیں کہ یہ اچھا فیصلہ ہے کہ اسے قانون کے حوالے کیا گیا ہے، قانون میں اس کی سزا موجود ہے، اگر قانون سزا نہ دے تو پھر اسلام کی رو سے ہم پر واجب ہے کہ ہم خود سزا دیں۔‘

مقامی افراد کا کہنا ہے کہ اس گاؤں میں سینکڑوں عیسائی خاندان برسوں سے آباد ہیں۔ ان میں زیادہ تر مسلمان کےمکانوں میں کرائے پر رہتے رہے ہیں۔ یہاں مذہبی منافرت نہیں تھی بلکہ بھائی چارے کی فضا رہی ہے لیکن اس تازہ واقعہ کے بعد بہت سے عیسائی خاندان ڈر کے مارے گھر بار چھوڑ کر چلے گئے ہیں۔

"ہم تو یہ کہتے ہیں کہ یہ اچھا فیصلہ ہے کہ اسے قانون کے حوالے کیا گیا ہے، قانون میں اس کی سزا موجود ہے، اگر قانون سزا نہ دے تو پھر اسلام کی رو سے ہم پر واجب ہے کہ ہم خود سزا دیں۔"

نائب امام حافظ محمد زبیر

بعض ایسے خاندان بھی ہیں جنھوں نے یہ گاؤں نہیں چھوڑا جن میں صدیق مسیح کا خاندان بھی شامل ہے۔

صدیق مسیح نے کہا کہ اس واقعہ کے بعد تین سو افراد یہاں جمع ہوگئے اور وہ مشتعل تھے۔

صدیق مسیح کے مطابق مشتعل لوگ کہہ رہے تھے (رمشاء اور ان کے خاندان والوں کو) ’باہر نکالو، ان کو مارو‘ تاہم اس کے دوران ان کے مالک مکان (ملک امجد) آ گئے اور انہوں نے مشتعل افراد سے کہا کہ ایسا کوئی کام نہیں کرنا ہے بلکہ انہیں پولیس کے حوالے کیا جائے۔

صدیق مسیح نے کہا ’اس گاؤں میں ایسے بھی افراد ہیں جو یہ کہتے ہیں کہ اس گاؤں سے عیسائیوں کو نکال دیا جائے لیکن ہمارے مالک مکان ہماری حمایت کرتے ہیں۔‘

صدیق مسیح کے مطابق ڈر کی وجہ سے بہت سارے عیسائی خاندان اس واقعہ کی رات گھر چھوڑ کر چلے گے۔

پاکستان کے وزیر برائے قومی آہنگی ڈاکڑ پال بھٹی کا کہنا ہے کہ چھ سو افراد یہ گاؤں چھوڑ کر چلے گئے ہیں۔

مقامی مسجد کے نائب امام حافظ محمد زبیر مانتے ہیں کہ اس واقعہ کے بعد مسیح برادری میں خوف و حراس پایا جاتا تھا۔

’اس واقعہ کے بعد بہت لوگ اکھٹے ہوگئے تھے اور وہ بہت مشتعل تھے اور کچھ بھی ہوسکتا تھا۔ لیکن اللہ کا شکر ہے کہ کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا۔یہ اچھا ہوا کہ اس وقت بہت سارے عیسائی یہاں سے چلے گئے اور کوئی واقعہ رونما نہیں ہوا۔‘

ان کا کہنا ہے جب یہ واقعہ پیش آیا اسوقت مسیح برادری کو خطرہ ہوسکتا تھا لیکن اب ایسا کوئی مسئلہ نہیں ہے اور ابھی کچھ عیسائی لوگ یہاں رہتے ہیں۔

بعض مقامی لوگ کہتے ہیں کہ جو عیسائی یہاں سے چلے گئے تھے ان کو واپس آنا چاہیئے اور بعض خاندان اب واپس بھی آرہے ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔