عید پر سینما گھروں میں نئی فلموں کی قلت

آخری وقت اشاعت:  بدھ 22 اگست 2012 ,‭ 23:39 GMT 04:39 PST

سینما مالکان کا کہنا ہے کہ سینماگھروں کی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے اردو زبان کی فلمیں زیادہ سے زیادہ بنائی جائیں کیونکہ علاقائی زبان میں بننے والی فلمیں اچھا بزنس نہیں کرتیں

عید پر پاکستان بھر میں تفریح کا ایک بڑا ذریعہ سینما ہال جا کر فلم دیکھنا ہے لیکن اس سال عید پر سینماگھروں کو نئی فلموں کی قلت کا سامنا ہے اور عید الفطر پر قومی زبان اردو میں فلم نہ بننے اور بھارتی فلموں کے ریلیز نہ ہونے کی وجہ سے ملک کے کئی سینما گھر نئی فلموں سے محروم رہے۔

اس سال عید پر صرف تین فلمیں نمائش کے لیے پیش کی گئی ہیں اور یہ تینوں فلمیں علاقائی زبان پنجابی ہیں۔ اس طرح عید پر اردو زبان میں کوئی فلم نمائش کے لیے پیش نہیں کی گئی۔

عید کے تہوار پر جہاں فلم بینوں کو اچھی فملوں کا انتظار ہوتا ہے، وہیں سینما گھروں کے مالکان بھی اس کوشش میں ہوتے ہیں کہ انہیں اچھی سے اچھی فلم نمائش کے لیے مل جائے۔

بی بی سی کے نامہ نگار عبادالحق کے مطابق عید پر ریلیز ہونے والے تینوں پنجابی فلموں میں اداکار شان مرکزی کردار ادا کر رہے ہیں اور ان میں’ شریکا‘ ،’ گجر دا کھڑاک‘ اور ’دل دیاں لگیاں‘ شامل ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں پاکستان میں عید کے تہوار پر آٹھ سے دس فلمیں نمائش کے لیے پیش کی جاتی تھیں لیکن اب صورت حال اس کے برعکس ہے جس کے باعث سینما گھروں کے مالکان پریشانی کا شکار ہیں۔

سینما اونر ایسوسی ایشن کے عہدیدار قیصر نثاء اللہ خان کے مطابق فلموں کی کمی کا شدید مسئلہ ہے اور عید پر ریلیز ہونے والی تین فلمیں ڈیرھ سو سینما گھروں کی ضرورت کو پورا نہیں کر سکتیں ۔

ان کے بقول اس عید پر ایک سو تیس کے لگ بھگ سینما گھروں میں کوئی نئی فلم نمائش کے لیے پیش نہیں کی گئی۔

عید پر فلموں کا انتظار

عید کے تہوار پر جہاں فلم بینوں کو اچھی فملوں کا انتظار ہوتا ہے، وہیں سینما گھروں کے مالکان بھی اس کوشش میں ہوتے ہیں کہ انہیں اچھی سے اچھی فلم نمائش کے لیے مل جائے

ان کا کہنا ہے کہ عید پر جو فلمیں نمائش کے لیے پیش کی گئی ہیں، ان کی شہر کے پوش علاقوں میں تعمیر ہونے والے جدید سینماگھروں میں نمائش ممکن نہیں ہے۔

قیصر نثاء اللہ خان نے کہا کہ سینما مالکان کو یہ امید تھی کہ انہیں عید پر بھارتی فلم ’ایک تھا ٹائیگر‘ کی نمائش کی اجازت مل جائے گئی لیکن اس فلم کو سنسر بورڈ نے سرٹیفکیٹ جاری نہیں کیا اور کئی سینما گھر عید پر خالی رہے ہیں۔

ان کے بقول بعض سینماگھروں کے مالکان نے مجبوری میں اس مہینے کے شروع میں ریلیز ہونے والی فلم ’جسم ٹو‘ کی نمائش کی اور اس فلم نے علاقائی فلموں کے مقابلے میں عید پر اچھا برنس کیا اور دوڑ میں سب سے آگے ہے۔

سینما مالکان کا کہنا ہے کہ سینماگھروں کی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے اردو زبان کی فلمیں زیادہ سے زیادہ بنائی جائیں کیونکہ علاقائی زبان میں بننے والی فلمیں اچھا بزنس نہیں کرتیں۔

ان کا کہنا ہے کہ پنجابی زبان میں بننے والی فلمیں دیسی شراب کی طرح ہوتی ہیں جو جلدی چڑھتی ہے اور فوری اتر جاتی ہے جبکہ اس کے مقابلے میں اردو زبان کی فلم کا اثر دیر تک رہتا ہے۔

سینما گھروں کے مالکان کے مطابق علاقائی زبان میں بننے والی فلموں سے باہر نکلنا ہوگا۔ ان کے مطابق ان فلموں کو لوگ فیملی کے ساتھ دیکھنے نہیں آتے اور فلم وہی کامیاب ہوتی ہے جسے لوگ اپنے گھروں کے ساتھ دیکھنے کے لیے آئیں۔

قصیر نثاء اللہ خان کا کہنا ہے علاقائی زبان میں بننے والی فلم صرف عید کے تین دن ہی برنس کرتی ہے اور اس کے بعد ان فلموں کا کاروبار کہیں کم ہوجاتا ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔